پولینڈ کے ایک شہری کے ٹیٹو بنوانے کے بعد جسم کے تمام بال جھڑ گئے اور انہیں پسینہ آنا بند ہو گیا۔ یہ بات ایک تحقیق میں بتائی گئی جس میں جسم پر لگائی جانے والی سیاہی کے اجزا کے بہتر قواعد پر زور دیا گیا ہے۔
36 سالہ شخص نے 2020 میں اپنے دائیں بازو پر سرخ پھول کا ٹیٹو بنوایا اور تقریباً چار ماہ بعد اس جگہ انہیں شدید خارش، جلد کے بری طرح اترنے اور ابھرے ہوئے دانے نمودار ہونے کی شکایت ہوئی۔
جلد ہی ان کے جسم کے 90 فیصد سے زائد حصے پر جلد کی سوزش پھیل گئی اور اس کے سر اور دھڑ کے تمام بال جھڑ گئے۔ انہائڈروسس نامی بیماری کی وجہ سے انہیں پسینہ آنا بھی بالکل بند ہو گیا۔
پسینہ نہ آنے کے باعث اب وہ نہ تو محفوظ طریقے سے ورزش کر سکتا تھے، نہ گرمی میں کام کر سکتے تھا اور نہ ہی گرم کمروں میں رہ سکتے تھے۔
کلینکس اینڈ پریکٹس نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ’سفید فام مرد کو سرخ سیاہی والے ٹیٹو کی پیچیدگیوں کے طور پر اریتھروڈرما، ایلوپیشیا، پسینہ نہ آنے اور برص کے امراض لاحق ہو گئے، جو اس طرح کے شدید ردعمل کا منفرد اور پہلے کبھی رپورٹ نہ ہونے والا کیس ہے۔‘
’ٹیٹو بنوانے کے چار ماہ بعد، مریض میں خارش والی ایگزیما جیسی تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو گئیں، جو کئی مہینوں میں اریتھروڈرما کی شکل اختیار کر گئیں، جس کے ساتھ ایلوپیشیا یونیورسیلس اور انہائڈروسس بھی ہو گیا۔‘
سکن پیچ ٹیسٹ نے مدافعتی ردعمل میں شدت کی تصدیق کی جو غالباً سرخ رنگ کے ٹیٹو کی سیاہی کے اجزا کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔
قوت مدافعت کو دبانے کے لیے سٹیرائڈ ادویات کے ساتھ مہینوں کے غیر مؤثر علاج کے بعد، ڈاکٹروں نے سرجری کے ذریعے ٹیٹو کے سوجن زدہ ٹکڑوں کو نکال دیا۔
لیکن اس سے بھی مریض کی طبی حالت میں زیادہ بہتری نہیں آئی، اور انہیں برص کا مرض لاحق ہو گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ’حساسیت پیدا کرنے والی اسی سیریز کی سرخ ٹیٹو سیاہی کو مکمل طور پر ہٹانے اور قوت مدافعت کو دبانے اور تبدیل کرنے والی ادویات کے استعمال کے بعد ہی بالوں کی نشوونما بحال ہوئی اور برص کا بڑھنا رک گیا، لیکن پسینہ نہ آنے پر کوئی اثر نہیں ہوا۔‘
’یہ کیس ٹیٹو کی سیاہی پر پورے جسم کے ردعمل کو سنبھالنے میں درپیش چیلنجز اور مکمل جانچ پڑتال اور علاج کی حکمت عملیوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔‘
حالیہ برسوں میں ٹیٹو کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، جو شناخت، اظہار اور فن کارانہ صلاحیت کی علامت کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق امریکہ اور یورپ میں ہر چار میں سے ایک نوجوان کے جسم پر کم از کم ایک ٹیٹو موجود ہے۔
لیکن ٹیٹو سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے، جو جلد کی معمولی جلن سے لے کر شدید الرجک ردعمل تک ہو سکتی ہیں۔
جدید ٹیٹو کی سیاہی کے اجزا اور جلد کے سرطان سمیت ان کے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں بھی خدشات موجود ہیں۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کسی شخص کو ٹیٹو سے ہونے والے مضر اثرات کی تعداد کا انحصار، دیگر عوامل کے علاوہ، رنگ پر ہوتا ہے، جس کا تعلق اس کے اجزا سے ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ’عام طور پر، ان کا تعلق سرخ سیاہی سے ہوتا ہے۔ ٹیٹو کے خلاف دائمی الرجک ردعمل ٹیٹو بنوانے کے مہینوں یا سالوں بعد بھی ہو سکتا ہے۔‘
کئی ممالک میں حکام نے ٹیٹو کی سیاہی کے اجزاء کو کنٹرول کرنے کے لیے قواعد کی ضرورت کی نشاندہی کی ہے۔
مثال کے طور پر، 2022 میں یورپی یونین میں ضابطوں کے نفاذ سے پہلے، سرخ سیاہی میں عام طور پر پارہ، کیڈمیم اور سنکھیا جیسے زہریلے مرکبات شامل ہوتے تھے۔
نئی تحقیق میں محققین نے کہا کہ ’جس کلینیکل کیس کی ہم وضاحت کر رہے ہیں، اس مریض نے 2020 میں ٹیٹو بنوایا تھا، ان ضابطوں کے متعارف ہونے سے دو سال پہلے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم، جلد کے امراض کے ماہرین ابھی تک سرخ سیاہی کی انتہائی حساسیت اور پولش شہری میں پسینے کے مکمل خاتمے کے درمیان تعلق کے بارے میں واضح نہیں ہیں۔
انہیں شبہ ہے کہ ٹیٹو کے رنگ کے کچھ اجزا پسینے کے غدود کے خلاف اینٹی جنز ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کے خلاف شدید مدافعتی ردعمل پیدا ہوتا ہے۔
محققین نے کہا کہ ’گذشتہ تحقیق میں ٹیٹو والی جلد میں پسینہ آنے میں خرابی دیکھی گئی ہے، جس سے پسینے کے غدود کی ساخت میں فعال تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔‘
’یہ ڈیٹا اس تصور کی تائید کرتا ہے کہ ٹیٹو سے متعلق مدافعتی فعالیت مقامی جگہ سے آگے بڑھ سکتی ہے، جو پورے جسمانی نظام میں خرابی کا باعث بنتی ہے۔‘
© The Independent