کیا واقعی ہر 200 میں سے ایک مرد چنگیز خان کی اولاد ہے؟

تاریخ کی سب سے بڑی مسلسل زمینی سلطنت کے بانی، چنگیز خان کی کئی بیویاں اور کنیزیں تھیں اور ان سے ان کے درجنوں بچے تھے، کچھ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد 100 تھی۔

یکم جون 2019 کو منگولیا میں اولان باتر کے مشرق میں واقع کمپلیکس میں لوگ چنگیز خان کا گھوڑے پر سوار مجسمہ دیکھ رہے ہیں (روئٹرز)

ایک نئی تحقیق نے اس مشہور مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ جدید دور کا ہر 200 میں سے ایک مرد منگول فاتح چنگیز خان کی اولاد ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آج چنگیز خان سے تعلق رکھنے والے زندہ افراد کی تعداد عام خیال سے کہیں کم ہے۔

چنگیز خان نے منگول قبائل کو متحد کر کے شمالی چین اور وسطی ایشیا کے وسیع علاقوں کو فتح کر لیا تھا۔ ان کے علاقے مشرق میں کوریا سے لے کر مغرب میں بحیرہ قزوین (Caspian Sea) تک پھیلے ہوئے تھے۔ چنگیز خان کے جانشینوں نے پھر اس سلطنت کو فارس، روس اور مشرق وسطیٰ اور یورپ کے کچھ حصوں تک وسعت دی۔

تاریخ کی سب سے بڑی مسلسل زمینی سلطنت کے بانی، چنگیز خان کی کئی بیویاں اور کنیزیں تھیں اور ان سے ان کے درجنوں بچے تھے، کچھ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد 100 تھی۔

دو دہائیاں قبل، محققین نے یہ معلوم کیا تھا کہ ایشیا کے ایک بڑے حصے میں تقریباً آٹھ فیصد مرد ایک بہت ہی ملتا جلتا وائی کروموسوم رکھتے ہیں، جس کا آغاز غالباً 1000 سال قبل منگولیا میں، چنگیز خان کے دور کے آس پاس ہوا تھا۔

جب اس کا عالمی سطح پر اطلاق کیا گیا، تو 2003 کی تحقیق نے اندازہ لگایا کہ دنیا بھر کے تمام مردوں کا تقریباً 0.5 فیصد، یا ہر 200 میں سے ایک، اس منگول شہنشاہ کی اولاد ہو سکتا ہے۔

لیکن نئی تحقیق زیادہ پیچیدہ امکان کو ظاہر کرتی ہے۔

موجودہ قازقستان میں مقامی لوک کہانیوں اور جینیاتی شواہد کا کھوج لگاتے ہوئے، ماہرین آثار قدیمہ منگول سلطنت کی شمال مغربی توسیع، گولڈن ہورڈ کے حکمران اشرافیہ کی باقیات تک پہنچے۔

سلطنت کی اس توسیع کی بنیاد چنگیز خان کے سب سے بڑے بیٹے جوشی اور اس کی اولاد نے رکھی اور اس پر حکومت کی۔

مقامی لوک کہانیاں اشارہ کرتی ہیں کہ نئی تحقیق میں جن چار مقبروں کا تجزیہ کیا گیا، ان کی باقیات میں سے کوئی ایک خود جوشی کی ہو سکتی ہے۔

جریدے پی این اے ایس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے سرکردہ مصنف ایکن اسکا پولی نے کہا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ گولڈن ہورڈ میں حکمران اشرافیہ کے جینیاتی سلسلہ نسب کی حمایت کرنے والا یہ قدیم ڈی این اے کا پہلا ثبوت ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ دفن کیے گئے افراد واقعی اسی وائی کروموسوم سلسلہ نسب کا حصہ تھے، لیکن ایک مخصوص ذیلی شاخ کا، جو ’بڑی شاخ کی طرح عام نہیں‘ تھی۔

یہ صورت حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آج زندہ مردوں میں نظر آنے والا وائی کروموسوم سلسلہ نسب چنگیز خان کا براہ راست سلسلہ نسب نہیں ہو سکتا۔

محققین کو شبہ ہے کہ یہ سلسلہ نسب غالباً خان کے اپنی سلطنت بنانے سے 1000 سال قبل ظاہر ہوا تھا۔

لیکن جب تک چنگیز خان کی اپنی تدفین کی جگہ دریافت نہیں ہو جاتی، محققین یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

یہ اپنے آپ میں ایک چیلنج ہے۔

منگول شہنشاہ کو ایک بے نام قبر میں خفیہ طور پر دفن کیا گیا تھا، جسے سینکڑوں گھوڑوں نے روند کر برابر کر دیا تھا اور اس علاقے کو جنگلی گھاس کے میدان میں ملا دینے کے لیے وہاں بیج بو دیے گئے تھے۔

لوک کہانیاں بتاتی ہیں کہ جن غلاموں نے چنگیز خان کا مقبرہ بنایا تھا اور جو فوجی انہیں قبر کی جگہ تک لے گئے تھے، بعد میں ان کا قتل عام کر دیا گیا تھا۔

محققین نے کہا: ’بنیادی طور پر، یہ تحقیق قدیم ڈی این اے کے شواہد فراہم کرتی ہے جو منگول اشرافیہ کے جینیاتی پس منظر اور وسطی یوریشیا میں آبادی کی حرکیات کے بارے میں ہماری فہم کو آگے بڑھاتی ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق