فرانس: چنگیز خان کا لفظ استعمال نہ کرنے کے چینی مطالبے پر نمائش بند

میوزیم کے مطابق چین کا مطالبہ ہے کہ ان کی چنگیز خان پر نمائش میں سے چند الفاظ جیسے کہ ’چنگیز خان‘، ’سلطنت‘ اور ’منگول‘ کو نکالا جائے جس پر انہوں نے نمائش روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگولیا کے علاقے اولان بتور  میں پارلیمنٹ کے باہر چنگیز خان کا ایک مجسمہ (تصویر: اے ایف پی)

فرانس کے ایک میوزیم کا کہنا ہے کہ اس نے منگول فاتح چنگیز خان پر ہونے والی ایک نمائش کو چینی مداخلت کے بعد منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چین کی جانب سے اس میوزیم پر تاریخ کو دوبارہ لکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

فرانس کے مغربی شہر نانت میں واقع تاریخی میوزیم شیتو دے دک دے بریتاں کا کہنا ہے کہ وہ تیرہویں صدی کے اس رہنما کے بارے میں اپنی نمائش تین سال سے بھی زائد عرصے کے لیے معطل کر رہے ہیں۔

سوموار کو میوزیم کے ڈائریکٹر برٹرینڈ جیولے کا ایک بیان میں کہنا تھا: ’ہم نے یہ فیصلہ ان انسانی، سائنسی اور اخلاقی اقدار کے نام پر کیا ہے جن کا ہم دفاع کرتے ہیں۔‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ چینی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ نمائش میں سے چند الفاظ جیسے کہ ’چنگیز خان‘، ’سلطنت‘ اور ’منگول‘ کو نکالا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینی حکام نے نمائش کے اشتہارات، تصاویر اور نقشوں پر بھی اپنے تصرف کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین نسلی منگولوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے، جو چین کے شمالی صوبے اندرونی یعنی انر منگولیا میں رہتے ہیں۔

یہ نمائش انر منگولیا کے شہر ہوہوت میں واقع میوزیم کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی تھی۔

نانت میوزیم کے مطابق تلخی میں اضافہ اس وقت ہوا جب چینی بیورو آف کلچرل ہیریٹیج نے میوزیم انتظامیہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ بنیادی منصوبے کو تبدیل کریں ’جن میں منگول ثقافت کے کچھ حصوں کو اس انداز میں دوبارہ لکھا جانا تھا جو ان کے قومی بیانیے کو مضبوط کرتا ہے۔‘

میوزیم نے ان ترامیم کو ’سنسرشپ‘ اور ’منگول اقلیت کے خلاف چینی حکومت کے سخت موقف‘ کی نشاندہی قرار دیا ہے۔


اس رپورٹ میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی معاونت شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ