اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مبینہ خراب صحت اور ان کی ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف آج (جمعے کو) اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کے باہر دھرنا دے دیا۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے احتجاج کا اعلان جمعرات کو سپریم کورٹ کے سامنے ایک رپورٹ کے پیش ہونے کے چند گھنٹے بعد کیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ جانے کا ذکر ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے عمران خان کو الشفاء ہسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ مطالبہ کردیا
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) February 12, 2026
ہم کل پارلیمنٹ کے گیٹ کے باہر ( ڈی چوک ) دھرنا دے دیں گے اور یہ دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک عمران خان کو الشفاء ہسپتال منتقل نہیں کردیا جاتا اور وہاں ان کا ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی… pic.twitter.com/c5CmCiSBJo
سپریم کورٹ میں مذکورہ رپورٹ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے پیش کی، جنہیں عدالت عظمیٰ نے فرینڈ آف دا کورٹ مقرر کرتے ہوئے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملنے اور وہاں ان کی صورت حال پر تفصیلات اکٹھا کرنے کی ذمہ داری لگائی تھی۔
سلمان صفدر، جو بدھ کو تقریباً تین گھنٹے اڈیالہ جیل میں رہے اور حکام کے علاوہ عمران خان سے بھی ملے، نے اپنی رپورٹ پی ٹی آئی کے بانی کے حوالے سے بتایا کہ ’ان کی دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ گئی ہے۔‘
رپورٹ پیش ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 16 فروری سے قبل عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کی غرض سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان (عمران خان) کی ان کے بیرون ملک مقیم بیٹوں سے بات کروانے کا حکم جاری کیا۔