حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کو 16 فروری سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھوں کا دوبارہ معائنہ اور ان کے بچوں سے ٹیلیفون پر بات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
وفاقی حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی جمعرات کو اٹارنی جنرل آف پاکستان عثمان منصور اعوان نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے کرائی گئی۔
تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی کہ سابق وزیراعظم کی آنکھ کا معائنہ ان کے خاندان کے افراد کی موجودگی میں کرایا جائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حالات سے متعلق مقدمے کی دوبارہ سماعت جمعرات کو کی۔
سپریم کورٹ کے بینچ نے 16 فروری سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھ کے معائنے کے لیے میڈیکل ٹیم بنانے اور انہیں ان کے بچوں سے بات کرنے کی اجازت دیے جانے کا حکم دیا۔
بینچ کے دوسرے رکن جسٹس شاہد بلال حسن تھے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عمران کی صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اور اسی لیے سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری ہے۔
انہوں مزید کہا کہ ’ہم ان (عمران خان) کی صحت کے معاملے پر حکومت کا مؤقف جاننا چاہتے ہیں۔‘
اس پر اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے تصدیق کی کہ طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے مزید کہا کہ ’اگر قیدی مطمئن نہیں ہوتا ہے تو ریاست اقدامات کرے گی۔‘
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایک موقعے پر دوبارہ کہا کہ عمران کی ’اپنے بچوں کے ساتھ ٹیلی فون کالز کا معاملہ بھی اہم ہے۔‘
سپریم کورٹ کے اسی بینچ نے منگل کو پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دا کورٹ مقرر کرتے ہوئے انہیں اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنے اور عدالت کو ان کی صحت اور بیرک کی صورت حال سے متعلق تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے منگل کو ہی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ساتھ تین گھنٹے تک ملاقات کی تھی اور آج (جمعرات کو) سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ داخل کی۔
گذشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ عدالت کا 24 اگست 2023 کا حکم بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ’جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے موجود ہے اور اس پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ سلمان صفدر سپریم کورٹ کے عدالتی مینڈیٹ کے ساتھ اڈیالہ جیل جا رہے ہیں اور انہیں عدالت کے دوست کے طور پر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔‘
سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کو جیل سپرٹنڈنٹ اور سلمان صفدر کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، دونوں رپورٹس میں زیادہ چیزیں ایک جیسی ہیں۔ جگہ اچھی ہے اور سہولیات ٹھیک ہیں۔‘
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’فیملی ممبرز سے ملاقات کا ایشو ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، مناسب ہوگا کہ متعلقہ فورم ان کا فیصلہ کریں۔‘
دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ میں سفارشات پڑھ کر سنائیں۔
انہوں نے کہا طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کروایا جائے، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو کچھ کتابیں دینے کا بھی کہا گیا تھا۔ ’آنکھ کے معالجین کے مشورے کے بعد کتابیں فراہم کی جائیں گی۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اور صحت کے معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے۔ صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اٹارنی جنرل نے جواب دیا ’صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی۔‘
چیف جسٹس نے کہا بچوں سے ٹیلی فون کالز کا مسئلہ بھی ہے، ہم حکومت پر اعتماد کر رہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اپیل کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیں گے۔
’درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کا اختیار چیلنج کر رکھا ہے، جبکہ اب تو ٹرائل کا فیصلہ بھی آ چکا ہے اور فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں۔ ایسی صورت میں کیا یہ مقدمہ غیر موثر نہیں ہو چکا؟‘
وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ نارمل مقدمہ ہوتا تو وہ غیر موثر ہونے کا کہتے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم مقدمہ کی قانونی حیثیت پر حکم دیں تو یہ فریقین کو متاثر کرے گا۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ گھڑی واپس کرنی ہے یا نہیں، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہم اپیلیٹ کورٹ کا کردار ادا نہیں کریں گے اور ہمیں ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کا خیال بھی رکھنا ہے۔
اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس مکمل اختیارات ہیں۔
عدالت نے بعد ازاں کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔