شہباز شریف امریکہ میں ’بورڈ آف پیس‘ کے اجلاس میں شرکت کریں گے: دفتر خارجہ

بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

دفتر خارجہ اسلام آباد کے بیرونی دروازے سے 21 فروری 2022 کو ایک گاڑی اندر داخل ہو رہی ہے (سہیل اختر/ انڈپینڈنٹ اردو)

ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف واشنگٹن میں ہونے والے ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، یہ اجلاس یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہوگا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جنوری کو ڈیووس میں ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ آغاز کیا تھا جس پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کیے تھے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں تصدیق کی کہ وزیراعظم شہباز شریف ’بورڈ آف پیس‘ میں شرکت کریں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ وزیراعظم کب امریکہ روانہ ہوں گے۔

ترجمان نے کہا کہ وفد کے دیگر اراکین اور وزیر اعظم کی مصروفیات سے متعلق تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔

طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ’بورڈ آف پیس‘ میں نیک نیتی کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہے اور وہ تعمیری انداز میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس میں تنہا نہیں بلکہ آٹھ اسلامی اور عرب ممالک کی مشترکہ آواز کے طور پر اس فورم میں شریک ہے۔

ان کے بقول: ’غزہ اور مغربی کنارے کی صورت حال پر دو اہم مشترکہ بیانات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔‘

طاہر اندرابی نے کہا کہ اس فورم پر اجتماعی موقف موثر انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا: ’پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق، ترقی اور خوش حالی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا اور ایک طویل المدتی حل کے لیے کوشش کرتا رہے گا جس کی بنیاد سال 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہو جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان کی شمولیت کا مقصد فلسطینی عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات کی حمایت کرنا ہے۔‘

ٹرمپ، جو خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے، نے درجنوں عالمی رہنماؤں کو شمولیت کی دعوت دی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق یہ فورم غزہ میں سست روی کا شکار جنگ بندی سے آگے بڑھ کر دیگر عالمی مسائل سے بھی نمٹے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی جگہ لینا نہیں۔

اکتوبر 2025  میں طے پانے والی غزہ فائر بندی کئی ماہ سے مشکلات کا شکار ہے، کیونکہ اسرائیل اب بھی غزہ پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

’بورڈ آف پیس‘ ہے کیا؟

’بورڈ آف پیس‘ کا ذکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ستمبر 2025 میں غزہ کی جنگ ختم کرنے کے منصوبے کے دوران کیا تھا۔ بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ یہ بورڈ صرف غزہ تک محدود نہیں ہو گا بلکہ یہ دنیا کے دوسرے تنازعات کو بھی حل کرنے کی کوشش کرے گا۔

شروع میں سمجھا جا رہا تھا کہ یہ بورڈ اسرائیل کی غزہ جارحیت ختم کرنے اور تباہ حال علاقے کی از سر نو تعمیر کی نگرانی کے لیے ہو گا۔

لیکن اس کے مجوزہ چارٹر میں غزہ کا ذکر نہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ قوام متحدہ کے کچھ قوانین کی جگہ لینے کے لیے بنایا گیا ہے تاہم امریکہ کی طرف سے کہا گیا کہ اس مقصد اقوام متحدہ کی جگہ لینا نہیں۔

بورڈ میں رکن ممالک کو تین سال کے لیے شامل کیا جائے گا، لیکن اگر کوئی ملک ایک ارب ڈالر دے تو وہ مستقل رکن بن سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بورڈ کی ابتدائی ایگزیکٹو ٹیم میں شامل ہیں۔

بورڈ کے اختیارات کیا ہوں گے؟

نومبر میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے بورڈ آف پیس کو صرف غزہ کے لیے 2027 تک کی منظوری دی۔ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور کہا کہ امریکی قرارداد میں اقوام متحدہ کے کردار کو واضح نہیں کیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بورڈ آف پیس کو ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر خوش آمدید کہا جاتا ہے جو ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک بنائے گا اور فنڈنگ کو منظم کرے گا، جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات مکمل نہ ہو جائیں۔

اس قرارداد کے تحت بورڈ کو غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی سکیورٹی فورس بھیجنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

بورڈ کو ہر چھ ماہ بعد 15 رکنی سکیورٹی کونسل کو اپنی پراگرس رپورٹ دینا ہوگی۔ غزہ کے علاوہ یہ واضح نہیں کہ بورڈ کے پاس کیا قانونی اختیار یا طاقت ہو گی، یا یہ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کے ساتھ کیسے کام کرے گا۔ 

بورڈ کے منشور کے مطابق چیئرمین یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں فیصلوں کو روکنا اور ارکان کو ہٹانا شامل ہے تاہم وہ یہ اختیارات کچھ شرائط کے ساتھ استعمال کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کتنے ممالک نے دعوت قبول کی؟

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق تقریباً 50 انوائٹس میں سے اب تک 35 عالمی رہنماؤں نے بورڈ میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر پاکستان کے بورڈ میں شامل ہونے کی وجہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے پاکستان مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، غزہ کی ری کنسٹرکشن اور ایک منصفانہ اور مقررہ مدت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، جس کا مقبوضہ بیت القدس الشریف ہو گا۔

کون سے ممالک نے انکار کیا؟

یورپی ممالک سمیت کچھ روایتی امریکی اتحادی بورڈ میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق مستقل ارکان کو ایک ارب ڈالر فی کس فنڈ دینا ہوگا، جس پر بعض ممالک نے محتاط ردعمل دیا یا دعوت مسترد کر دی۔

ناروے اور سویڈن نے ٹرمپ کی دعوت قبول نہیں کی جبکہ اٹلی نے کہا کہ اس بورڈ میں شامل ہونا مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔

کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر شامل ہونے پر متفق ہے، لیکن تفصیلات پر ابھی کام ہو رہا ہے۔

امریکہ کے دوسرے اہم اتحادی ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور جاپان نے اب تک کوئی واضح مؤقف نہیں دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان