پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے تناظر میں کہا ہے کہ پاکستان کا مؤقف بدستور واضح ہے اور ’ہم ابراہم معاہدے کے فریق نہیں بنیں‘ گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے بعد سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ’تمام آٹھوں ممالک ایک مشترکہ آواز بن کر بورڈ آف پیس میں شامل ہوئے ہیں۔ بورڈ آف پیس غزہ اور وسیع تر فلسطینی مسئلے کے لیے امید کی ایک قابلِ عمل کرن ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ بورڈ آف پیس میں رواں ماہ پاکستان کی شمولیت کے معاملے پر ترجمان نے واضح کیا کہ ’وزارت خارجہ نے غزہ بورڈ آف پیس پر دستخط سے وزیراعظم کو منع نہیں کیا تھا، اس میں شمولیت خلوص نیت سے کی۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’یہ ایک غلط فہمی ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا کسی بھی طرح ابراہم معاہدے یا اس مسئلے سے متعلق کسی متبادل راستے سے کوئی تعلق ہے۔‘
’پاکستان نے غزہ استحکام فورس میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور پاکستان کے فلسطین پر موقف میں تبدیلی نہیں آئی۔‘
دوسری جانب پاکستان نے جمعرات کو ایران کے مسئلے کو ’سفارت کاری‘ سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد تہران کے خلاف طاقت کے استعمال کے مخالف ہے۔
ایران نے رواں ماہ ملک میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جبکہ ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ بھی تھا۔ اس صورت حال میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی کارروائی سے متعلق ملے جلے اشارے دیے۔
واشنگٹن نے ایران کے خلاف فوجی مداخلت کو مسترد نہیں کیا ہے، جس سے صورت حال تناؤ کا شکار ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا: ’پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ہم طاقت کے استعمال کے بھی مخالف ہیں اور پابندیوں کے نفاذ کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارا مؤقف بدستور برقرار ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق خطہ کسی بھی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
امریکہ مشرق وسطیٰ میں اب بھی کئی اڈے برقرار رکھے ہوئے، جن کے متعلق ایران پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے رواں ہفتے پڑوسی ممالک کو انتباہ جاری کیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے میز پر آئے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکہ کا اگلا حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
جس پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’فوجی دھمکیوں کے ذریعے سفارت کاری مؤثر یا سودمند ثابت نہیں ہو سکتی۔‘
ایمان مزاری سزا اندرونی معاملہ
یورپی یونین کی جانب سے ایمان مزاری کی سزا سے متعلق کی گئی سوشل میڈیا پوسٹ پر ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’سب سے پہلے یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ سزا مقامی قوانین کے تحت عدالتی عمل کے ذریعے دی گئی ہے۔ متعلقہ افراد کو اپیل اور عدالتی چارہ جوئی کا پورا حق حاصل ہے اور ان کے لیے مقامی سطح پر قانونی راستہ موجود ہے۔‘
تاہم طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان تمام امور پر یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سزا دینے والے جج کی ’رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔‘
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ تفصیلی فیصلے میں لکھا تھا کہ ’اس وقت چار ممالک کو دہشت گرد ریاستیں قرار دیا گیا ہے، جن میں کیوبا، جمہوریہ کوریا (شمالی کوریا)، ایران اور شام شامل ہیں۔‘
بریفنگ کے دوران اس فیصلے میں درج اس درجہ بندی سے متعلق سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ’یہ فیصلہ معزز جج کی ذاتی رائے ہے۔ پاکستان یقینا اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا اور صاف الفاظ میں، اس قسم کی کوئی درجہ بندی نہ تو اقوام متحدہ کے تحت موجود ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون میں موجود ہے۔‘
’امریکہ کی جانب سے ٹریول ایڈوائزری اپ گریڈ کر دی گئی‘
امریکہ کی جانب سے پاکستان سے متعلق ٹریول ایڈوائزری سے متعلق ترجمان ددفتر خارجہ نے کہا کہ ’اسے اپ گریڈ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مزید پاکستانی امریکہ سے پاکستان کا سفر کر سکیں گے۔‘
بقول طاہر اندرابی: ’اس ٹریول ایڈوائزری سے پاکستان ایک محفوظ ملک کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جو عالمی سطح پر ایک مثبت اشارہ ہے۔‘