پاکستان نے جمعرات کو ایران کے مسئلے کو ’سفارت کاری‘ سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد تہران کے خلاف طاقت کے استعمال کے مخالف ہے۔
ایران نے رواں ماہ ملک میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جبکہ ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ بھی تھا۔ اس صورت حال میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی کارروائی سے متعلق ملے جلے اشارے دیے۔
واشنگٹن نے ایران کے خلاف فوجی مداخلت کو مسترد نہیں کیا ہے، جس سے صورت حال تناؤ کا شکار ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا: ’پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ہم طاقت کے استعمال کے بھی مخالف ہیں اور پابندیوں کے نفاذ کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارا مؤقف بدستور برقرار ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق خطہ کسی بھی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
امریکہ مشرق وسطیٰ میں اب بھی کئی اڈے برقرار رکھے ہوئے، جن کے متعلق ایران پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے رواں ہفتے پڑوسی ممالک کو انتباہ جاری کیا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے میز پر آئے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکہ کا اگلا حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
جس پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’فوجی دھمکیوں کے ذریعے سفارت کاری مؤثر یا سودمند ثابت نہیں ہو سکتی۔‘
’غزہ بورڈ آف پیس امید کی کرن‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ بورڈ آف پیس میں رواں ماہ پاکستان کی شمولیت کے معاملے پر ترجمان نے واضح کیا کہ ’وزارت خارجہ نے غزہ بورڈ آف پیس پر دستخط سے وزیراعظم کو منع نہیں کیا تھا، اس میں شمولیت خلوص نیت سے کی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’پاکستان نے اکیلے اس میں شمولیت نہیں کی، ہمارے ساتھ دیگر آٹھ مسلم ممالک نے بھی کی۔ غزہ بورڈ آف پیس امید کی کرن ہے۔ لیکن ہم معاہدہ ابراہیمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘
بقول ترجمان دفتر خارجہ: ’پاکستان نے غزہ استحکام فورس میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور پاکستان کے فلسطین پر موقف میں تبدیلی نہیں آئی۔‘
ایمان مزاری سزا اندرونی معاملہ
یورپی یونین کی جانب سے ایمان مزاری کی سزا سے متعلق کی گئی سوشل میڈیا پوسٹ پر ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’سب سے پہلے یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ سزا مقامی قوانین کے تحت عدالتی عمل کے ذریعے دی گئی ہے۔ متعلقہ افراد کو اپیل اور عدالتی چارہ جوئی کا پورا حق حاصل ہے اور ان کے لیے مقامی سطح پر قانونی راستہ موجود ہے۔‘
تاہم طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان تمام امور پر یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔
’امریکہ کی جانب سے ٹریول ایڈوائزری اپ گریڈ کر دی گئی‘
امریکہ کی جانب سے پاکستان سے متعلق ٹریول ایڈوائزری سے متعلق ترجمان ددفتر خارجہ نے کہا کہ ’اسے اپ گریڈ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مزید پاکستانی امریکہ سے پاکستان کا سفر کر سکیں گے۔‘
بقول طاہر اندرابی: ’اس ٹریول ایڈوائزری سے پاکستان ایک محفوظ ملک کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جو عالمی سطح پر ایک مثبت اشارہ ہے۔‘