مظاہروں کے بعد ’انگلی ٹرگر پر ہے‘: ایرانی پاسداران انقلاب

پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد پاک پور نے اسرائیل اور امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ ’تاریخی تجربات اور مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ سے سبق سیکھیں۔‘

ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد پاک پور نے جمعرات کو واشنگٹن کو خبردار کیا کہ بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے بعد ان کی فورس کی ’انگلی ٹرگر پر‘ ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران اب بھی مذاکرات میں دلچسپی رکھتا دکھائی دیتا ہے۔

ٹرمپ نے بارہا ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا امکان کھلا رکھا ہے۔ گذشتہ سال جون میں واشنگٹن نے اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کی حمایت کی اور اس میں شامل ہو گیا جس کا مقصد ایران کے ایٹمی اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو کمزور کرنا تھا۔

ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکی بحریہ کا ’بیڑا‘ خلیج کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایران پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

ایران میں دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے دو ہفتے کے احتجاج نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی زیر قیادت ایران کے مذہبی رہنماؤں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، لیکن کریک ڈاؤن کے سامنے یہ تحریک دم توڑ گئی جس کے بارے میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد مارے گئے اور اس کے ساتھ ہی تاریخ میں پہلی بار انٹرنیٹ بھی مکمل بند رہا۔

تہران کے خلاف فوری امریکی کارروائی کا امکان اب کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، کیوں کہ دونوں فریق سفارت کاری کو موقع دینے پر اصرار کر رہے ہیں۔

 ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت سے واپسی پر ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ ’محض احتیاط کے طور پر‘ ایران کی طرف ایک ’بہت بڑا بحری بیڑا‘ بھیج رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نہیں چاہوں گا کہ کچھ ہو لیکن ہم ان پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

 لفظی جنگ سے بھرپور اس تناؤ میں ٹرمپ نے منگل کو ایران کے رہنماؤں کو خبردار کیا تھا کہ اگر خامنہ ای پر حملے کے جواب میں ان کی جان پر کوئی حملہ ہوا تو امریکہ انہیں ’روئے زمین سے مٹا دے گا۔‘

 ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو ایک تقریر میں امریکہ اور اسرائیل پر احتجاج بھڑکانے کا الزام لگایا اور اسے '12 روزہ جنگ میں شکست کا ’بزدلانہ بدلہ‘ قرار دیا۔

’جائز اہداف‘

پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد پاک پور نے اسرائیل اور امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ ’تاریخی تجربات اور مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ سے سبق سے سیکھتے ہوئے کسی بھی غلط فہمی سے بچیں، تاکہ انہیں مزید تکلیف دہ اور افسوس ناک انجام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب اور پیارا ایران، پہلے سے کہیں زیادہ تیار اور سپریم کمانڈر ان چیف کے احکامات اور اقدامات پر عمل درآمد کے لیے اپنی انگلیاں ٹرگر پر رکھے ہوئے ہیں۔

محمد پاک پور کے یہ ریمارکس سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک تحریری بیان میں سامنے آئے جو ایران میں پاسداران کے قومی دن کی مناسبت سے جاری کیا گیا تھا۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر کا مشن 1979 کے اسلامی انقلاب کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ 

سماجی کارکن پاسداران پر احتجاج کے خلاف ہونے والے جان لیوا کریک ڈاؤن میں صفِ اول کا کردار ادا کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ سمیت دیگر ممالک نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جب کہ مہم جو طویل عرصے سے یورپی یونین اور برطانیہ سے بھی ایسے ہی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 

اسی دوران ایک اور اعلیٰ فوجی شخصیت، ایرانی جوائنٹ کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کے سربراہ جنرل علی عبداللہی علی آبادی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ’تمام امریکی مفادات، اڈے اور اثر و رسوخ کے مراکز‘ ایرانی مسلح افواج کے لیے ’جائز اہداف‘ ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اصل جانی نقصان؟

احتجاج کے حوالے سے پہلی بار جانی نقصان کے سرکاری اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے ایرانی حکام نے بدھ کو بتایا کہ 3117 افراد جان سے گئے۔

 ایران کی شہدا اور غازی فاؤنڈیشن کے ایک بیان میں سکیورٹی فورسز کے ارکان یا بے گناہ شہریوں، اور امریکہ کے حمایت یافتہ ’فسادیوں‘ کے درمیان فرق واضح کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو کہا کہ احتجاج ’شہریوں کا فطری حق ہے۔‘ لیکن ان مظاہرین کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے ’جن کے ہاتھ بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘ 

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جانی نقصان کی اتنی بڑی وجہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ تھی اور یہ کہ مرنے والوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ، حتیٰ کہ 20000 سے بھی اوپر ہو سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا