ایران میں انٹرنیٹ کی آنکھ مچولی جاری، موبائل کمپنی کا سی ای او فارغ

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی موبائل فون آپریٹر کمپنی ایران سیل  کے چیف ایگزیکٹو علی رضا رفیع کو انٹرنیٹ بند کرنے کے حکومتی فیصلہ نا ماننے پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

ایک شخص 10 ستمبر 2023 کو تہران میں ایک عمارت کے باہر ایک خاتون کو فون استعمال کرتے دیکھ رہا ہے۔ ایرانی حکام نے انسٹاگرام اور واٹس ایپ سمیت مقبول سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو بلاک کر دیا، جو اب وقفے وقفے سے کھولے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

فارس نیوز ایجنسی نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ایران کے دوسری سب سے بڑی موبائل فون آپریٹر کمپنی ایران سیل  کے چیف ایگزیکٹو کو انٹرنیٹ بند کرنے کے حکومتی فیصلے کی تعمیل میں ناکامی پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

سائبر سکیورٹی اور انٹرنیٹ مانیٹر کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے نے اتوار کو بتایا کہ محدود سطح پر مختصر بحالی کے بعد ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی دوبارہ بند کر دی گئی ہے, جبکہ کچھ دیر بعد سروس دوبارہ شروع کر دی گئی۔ 

ادارے نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ ’ایران میں گوگل اور میسجنگ سروسز کی مختصر، اور فلٹر شدہ بحالی کے بعد ٹریفک کی سطح گر گئی ہے۔‘

ابتدائی طور پر اقتصادی بحران کی وجہ سے دارالحکومت تہران میں شروع ہونے والے مظاہرے پورے ملک میں  پھیل گئے اور آٹھ جنوری کو بغیر کسی انتباہ کے ایرانی حکومت نے تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے تھے۔ ایسا کرنے کی وجہ حکومت مخالف مظاہروں کی کالوں کا حد سے زیادہ بڑھ جانا بتایا گیا تھا۔  

اس کے بعد سے ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی عملی طور پر ناممکن ہو گئی، حالانکہ کچھ غیر ملکی ویب سائٹس، جیسے کہ گوگل کے لیے اتوار کو پابندیوں میں نرمی آنا شروع ہو گئی تھی۔

فارس نے رپورٹ کیا کہ ’علی رضا رفیع کو تقریباً ایک سال تک عہدے پر کام کرنے کے بعد کمپنی کے سی ای او کی حیثیت سے ہٹا دیا گیا۔‘

ایجنسی نے کہا، ’ایران سیل نے بحران کے حالات میں انٹرنیٹ تک رسائی پر پابندی کے حوالے سے اعلان کردہ پالیسیوں کو نافذ کرنے میں فیصلہ ساز اداروں کے احکامات کی نافرمانی کی۔‘

فارس نے مزید کہا کہ متعلقہ اداروں نے ایران سیل کے سی ای او کو ’بحران حالات میں اعلان کردہ قوانین کی تعمیل کرنے میں ناکامی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ تک رسائی ’بتدریج‘ بحال کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

اتوار کی صبح تہران میں، اے ایف پی کے صحافی عالمی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے، حالانکہ زیادہ تر انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اب بھی بلاک ہیں۔

محدود رابطے کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہوسکیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق گوگل تک رسائی اتوار کو ’تمام موبائل فون لائنوں اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کے ذریعے‘ بحال کر دی گئی۔

ایرال سیل کی بنیاد 2005 میں رکھی گئی تھی اور اس کے سات کروڑ صارفین کا دعویٰ ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا