ایران کے ساتھ سرحدی اضلاع میں سکیورٹی بڑھا دی: پاکستانی حکام

بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سکریٹری حمزہ شفات کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت جاری ہے لیکن سیاحوں اور زائرین کی آمد و رفت روک دی گئی ہے۔

19 جون 2025 کو ایران سے واپسی پر پاکستانی زائرین بلوچستان کے علاقے تفتان میں پاکستان ایران سرحد عبور کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے جمعرات کو بتایا کہ ایران کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والے پرتشدد مظاہروں کے پیش نظر ایران کی سرحد سے متصل اضلاع میں سکیورٹی بڑھانے سمیت صورت حال کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایرانی حکام ان مظاہروں کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ملک کی گرتی ہوئی معیشت اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث گذشتہ ماہ کے آخر میں شروع ہوئے۔

مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن، جو ملک کے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے بدترین ہے، پر امریکہ کی جانب سے مظاہرین کی حمایت میں فوجی مداخلت کی دھمکیاں سامنے آئی ہیں، جس سے پہلے سے غیر مستحکم خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

پاکستان کی جنوب مغرب میں ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے۔ پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ پڑوسی ملک میں صورت حال کی کڑی نگرانی کر رہی ہے اور اس بدامنی کے دوران اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ضروری سفری دستاویزات اپنے پاس رکھیں۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سکریٹری حمزہ شفقات نے جمعرات کو عرب نیوز کو انٹرویو میں بتایا کہ ’وفاقی حکومت ایران میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے صورت حال کی نگرانی کر رہی ہے اور صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔‘

’جہاں تک ایران کے ساتھ تمام سرحدی اضلاع میں امن و امان کا تعلق ہے، ہم ہائی الرٹ پر ہیں اور فی الحال سرحد پر صورت حال معمول کے مطابق اور پرامن ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے ایران کے ساتھ سرحد پار نقل و حرکت اور تجارت معطل کر دی ہے؟ تو حمزہ شفقات نے کہا کہ تجارت جاری ہے، لیکن سیاحوں اور زائرین کی آمد و رفت روک دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ایران میں کچھ طلبہ پھنسے ہوئے تھے۔ انہیں نکال لیا گیا ہے اور وہ گوادر پہنچ گئے ہیں۔ تقریباً 200 طلبہ کو ان کے آبائی اضلاع میں منتقل کیا جا رہا ہے۔‘

پاکستان۔افغانستان سرحد کی صورت حال

پاکستان کا صوبہ بلوچستان طویل عرصے سے نسلی بلوچ علیحدگی پسندوں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے مذہبی گروہوں کی شورش کا گڑھ رہا ہے۔ ایران کے علاوہ، اس صوبے کی افغانستان کے ساتھ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ایسی سرحد بھی ملتی ہے جس کی مکمل نگرانی مشکل ہے۔

اسلام آباد نے اکثر افغانستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے دے رہا ہے۔ کابل نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ اکتوبر میں پاکستان میں عسکریت پسندی میں اضافے پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہائیوں کی بدترین سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔ اگرچہ پڑوسی ممالک نے دوحہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا، لیکن ان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

افغانستان کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے حکومتی اقدامات کے بارے میں پوچھے جانے پر حمزہ شفقات نے کہا کہ 2023 کے آخر میں اسلام آباد کی جانب سے اعلان کردہ وطن واپسی کی مہم کے حصے کے طور پر تقریباً 10 لاکھ افغان شہریوں کی واپسی کے بعد خطے میں عسکریت پسندی میں کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا: ’خبریں ہیں کہ ان میں سے کچھ کسی سرحدی چوکی یا دیگر علاقوں سے واپس آتے رہتے ہیں کیوں کہ ہماری سرحد غیر محفوظ ہے اور اس سرحد کے ہر انچ پر پہرہ دینا بہت مشکل ہے۔‘

’افغانستان کی طرف سے کسی بھی مداخلت پر، سرحد پر تعینات ہمارے سکیورٹی ادارے روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہیں۔‘

امن و امان کا مسئلہ

صوبائی حکومت کی امن و امان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، بلوچستان میں 2025 میں عسکریت پسندوں کے 900 سے زائد حملوں میں 167 بم دھماکے ہوئے، جن میں 400 سے زائد افراد جان سے گئے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی نسبت امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔

حمزہ شفقات کے مطابق: ’2025 میں 720 سے زائد دہشت گرد مارے گئے جو کئی دہائیوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز میں مارے گئے دہشت گردوں کی بڑی تعداد ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان میں 90000 سے زائد سکیورٹی آپریشنز میں ایک سو سے زائد دہشت گردوں کو حراست میں لیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبائی حکومت نے گذشتہ سال مختلف مواقع پر جنوب مغربی صوبے میں موبائل انٹرنیٹ سروس اکثر معطل رکھی، جس کا مقصد بلوچستان میں سکیورٹی کو یقینی بنانا تھا۔

حمزہ شفقات نے کہا: ’اس اقدام سے، مجھے یقین ہے کہ ہم سینکڑوں جانیں محفوظ بنانے میں کامیاب رہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال مخصوص علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ 25 دن سے کم وقت کے لیے معطل کیا گیا۔

’وائرلیس راؤٹرز کے ذریعے انٹرنیٹ سروس سارا سال لوگوں کے لیے کھلی رہی۔ ہم نے موبائل انٹرنیٹ صرف سڑکوں پر موجود لوگوں کے لیے بند کیا کیوں کہ حکومت طلبہ اور تاجر برادری کی مشکلات کو سمجھتی ہے اس لیے ہم موبائل انٹرنیٹ کی بندش کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان