|
جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال یہاں کلک کریں
رات 10 بج کر 05 منٹ: امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ میں ’تمام اقتصادی مراکز‘ کو نشانہ بنائں گے: پاسداران انقلاب
ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک جنرل نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو ایران مشرقِ وسطیٰ میں ’تمام اقتصادی مراکز‘ کو نشانہ بنائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی میڈیا اسنا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کے جنرل ابراہیم جبار نے کہا کہ ’ہم دشمن سے کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ ہمارے اہم مراکز کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم خطے کے تمام اقتصادی مراکز کو نشانہ بنائیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہم نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ اس وقت تیل کی قیمت 80 ڈالر سے اوپر ہے اور جلد ہی 200 ڈالر تک پہنچ جائے گی۔‘
رات 10 بجے: برطانوی وزیر اعظم کا ڈرون شکن ہیلی کاپٹر اور وارشپ سائپرس بھیجنے کا اعلان
وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے منگل کو کہا ہے کہ برطانیہ ’ڈرونز کا مقابلہ کرنے والے ہیلی کاپٹر‘ اور ایچ ایم ایس ڈریگن وار شپ کو سائپرس بھیج رہا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے ایکس پر لکھا کہ ’برطانیہ سائپرس کی سکیورٹی اور وہاں تعینات برطانوی فوجی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے ابھی سائپرس کے صدر سے بات کی ہے تاکہ انہیں آگاہ کر سکوں کہ ہم ڈرون شکن صلاحیتوں سے لیس ہیلی کاپٹر بھیج رہے ہیں اور ایچ ایم ایس ڈریگن کو بھی خطے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔‘
کیئر سٹارمر نے کہا کہ لندن ’ہمیشہ برطانیہ اور اپنے اتحادیوں کے مفاد میں اقدام کرے گا۔‘
The UK is fully committed to the security of Cyprus and British military personnel based there.
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) March 3, 2026
We’re continuing our defensive operations and I've just spoken with the President of Cyprus to let him know that we are sending helicopters with counter drone capabilities and HMS… pic.twitter.com/0tsZb4dG2i
رات 9 بج کر 15 منٹ: وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج شام جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے خطے میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے بھی آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری کا پیغام شامل تھا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جب کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
گفتگو کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس معاملے پر قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
شام 6 بج کر 54 منٹ: ایران جنگ میں براہ راست حملوں میں حصہ نہ لینے پر امریکہ کی برطانیہ سے کشیدگی
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے صدر ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے درمیان اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔
برطانیہ نے براہِ راست حملوں میں حصہ نہیں لیا، جس پر ٹرمپ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں بگاڑ کا عندیہ دیا ہے۔
اسٹارمر نے پہلے امریکی طیاروں کو برطانوی اڈے استعمال کرنے سے روکا، تاہم بعد میں میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے محدود اجازت دی۔
برطانوی وزیراعظم نے ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا قانونی جواز اور ایک قابلِ عمل منصوبہ ہونا ضروری ہے۔
اس کشیدہ صورتحال نے طویل عرصے سے قائم امریکہ اور برطانیہ کے خصوصی تعلقات کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
سہ پہر 5 بج کر 44 منٹ: دو دنوں میں 650 امریکی فوجی مارے گئے یا زخمی ہوئے: پاسداران انقلاب
پاسدارن انقلاب نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی بحری اثاثوں اور فوجی ہیڈکوارٹرز پر میزائلوں اور ڈرون حملوں نے امریکی جہاز بردار بحری بیڑے ابراہم لنکن کو ایرانی پانیوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائنی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’جنگ کے ابتدائی دو دنوں میں 650 امریکی فوجی مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں۔‘
سہ پہر 5 بج کر 20 منٹ: ایران کی کھانے پینے کی اشیا اور زرعی مصنوعات کی برآمدات پر پابندی
ایران کی حکومت نے منگل کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کے پیش نظر تمام خوراک اور زرعی مصنوعات کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے تسنیم نے حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ’کھانے پینے کی تمام اشیا اور زرعی مصنوعات کی برآمدات تاحکم ثانی ممنوع قرار دی گئی ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حکومت نے عوام کے لیے ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی کو ترجیح دی ہے۔‘
سہ پہر 4 بج کر 47 منٹ: سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں کے لیے ایڈوائزری جاری
Advisory for Pakistani Nationals in the Kingdom of #SaudiArabia. pic.twitter.com/dHN8VlPcxG
— Pakistan Embassy Saudi Arabia (@PakinSaudiArab) March 3, 2026
سہ پہر 4 بج کر 29 منٹ: جارحیت کا جواب دینے کا آپشن بھی موجود ہے: سعودی عرب
سعودی عرب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ اس بات کی تصدیق ہے کہ یہ بزدلانہ اور غیر منصفانہ حملوں کی تکرار تمام بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، جن میں 1949 کے جنیوا کنونشنز اور 1961 کا ویانا کنونشن آن ڈپلومیٹک ریلیشنز شامل ہیں، جو مسلح تصادم کے دوران بھی سفارتی مقامات اور عملے کو استثنیٰ دیتے ہیں۔
سعودی عرب نے زور دیا کہ اس ایرانی رویے کا دہرایا جانا، حالانکہ ایرانی حکام کو معلوم ہے کہ مملکت اپنی فضائی حدود یا علاقے کو ایران کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی، خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل دے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، علاقائی سالمیت، شہریوں، رہائشیوں اور اہم مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق رکھتا، جس میں جارحیت کا جواب دینے کا آپشن بھی شامل ہے۔
سہ پہر 4 بج کر 23 منٹ: بندر عباس پر موجود پاکستانی ملاحوں کی واپسی کی کوششیں
پاکستان کے ایران کے لیے سفیر مدثر نے منگل کو کہا ہے کہ وہ بندر عباس پر موجود پاکستانی ملاحوں اور ان کے خاندان والوں سے رابطے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بندر عباس پر اس وقت 15 پاکستانی ملاح موجود ہیں۔
Media reported about our sailors seeking Mission’s assistance. I wish to share that we are in contact with our sailors (15 in number) who are on a ship in Bandar Abbas . We are in contact with their families as well as their parent company in Pakistan . We are making every…
— Ambassador Mudassir (@AmbMudassir) March 3, 2026
ان کا کہنا ہے کہ ’ان کی پاکستان واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ امید ہے یہ سب آج یا کل تک ہو جائے گا۔‘
فرض سمجھ کر ایران جنگ رکوانے کی سفارتی کوشش کر رہے ہیں، اسحاق ڈار
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلام آباد ایران جنگ کو روکنے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) سے منگل کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جنگ رکوانے کی کوششیں فرض سمجھ کر کی جا رہی ہیں اور پاکستانی عوام کو بھی اس بات کو سمجھنا چاہیے۔
’اپنے ملک میں حالات خراب کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ آپ کی حکومت ایران جنگ رکوانے کی ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایران میں خود مختار ملک ہے اور ان سے صرف درخواست کی جا سکتی ہے، حکم دینا ممکن نہیں۔
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں ہیں، اس کے تحت میں نے وہاں کی قیادت سے رابطہ کیا اور انہوں نے کہا کہ ایران کو کہیں اس کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔ جس کی میں نے گارنٹی لے کر دی، اور آپ دیکھیں باقی تمام ممالک کے برعکس سعودی عرب پر سب سے کم کارروائی ہوئی۔
دوپہر 3 بج کر 22 منٹ: ایران کے خلاف جنگ سے مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے: روس
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے منگل کے روز ایک سنگین انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ نہ صرف ایران بلکہ اس کے عرب پڑوسی ممالک کو بھی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی جانب راغب کر سکتی ہے۔
روئٹرز کے مطابق روسی وزیرِ خارجہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی یہ جنگ اس خطرے کو بڑھا رہی ہے کہ جوہری پھیلاؤ (nuclear proliferation) کے معاملات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔‘
لاوروف کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیاں دیگر ممالک کو اپنی سکیورٹی کے لیے ایٹمی طاقت بننے پر مجبور کر سکتی ہیں، جس سے دنیا ایک نئے اور خطرناک بحران کی زد میں آ جائے گی۔
دوپہر 3 بج کر 20 منٹ: لبنان میں 30 ہزار افراد بے گھر
اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے منگل کو بتایا کہ پیر سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 30,000 بے گھر افراد لبنان میں پناہ گزین پناہ گزین ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے ترجمان بابر بلوچ نے کہا کہ ’محتاط اندازے کے مطابق تقریبا 30,000 افراد اجتماعی شیلٹرز میں رہائش پذیر اور رجسٹرڈ تھے۔ بہت سے لوگ اپنی گاڑیوں میں سڑکوں کے کنارے سوئے تھے یا اب بھی سڑکوں پر ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے تھے۔‘
دوپہر دو بج کر 20 منٹ: بحرین میں امریکی ایئر بیس کمانڈ کی عمارت تباہ
بحرین سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ایک حملے میں وہاں موجود ایک امریکی فضائی اڈے کا کمانڈ سینٹر تباہ ہو گیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے ہونے والے دھماکوں کے لمحات کو دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈرون اور میزائل حملے سے امریکی کمانڈ اور عملے کی عمارت کو تباہ کر دیا گیا اور ایندھن کے ٹینکوں کو آگ لگا دی گئی۔
امریکہ نے ابھی تک ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل بحرین میں امریکی بحری اڈے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔
اسرائیل کا اثر و رسوخ پاکستان کی سرحد تک لانے کی سازش: خواجہ آصف
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ایران پر جنگ مسلط کرنے کی وجہ اسرائیلی اثررسوخ پاکستان تل پھیلانے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
صیہونیت انسانیت کے لئے خطرہ ھے۔ فلسطین کی سرزمین پہ اسرائیل کے قائم ھونے سے لیکر آجتک اسلامی دنیا پہ جو بھی قیامتیں ٹوٹیں جو بھی جنگیں مسلط ھوئیں انکے پیچھے صیہونی سوچ اور ریاست بالواسطہ یا بلا واسط کار فرما نظر آئیگی ۔ دنیا کے معاشی نظام پہ صیہونیت کا ایک صدی سے قبضہ ھے۔ بڑی…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) March 3, 2026
دوپہر 1 بج کر 55 منٹ: اسرائیلی دفاعی فورسز کے تہران اور بیروت پر تازہ حملے
اسرائیل کی دفاعی افواج (IDF) نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایرانی دارالحکومت تہران اور لبنان کے دارالحکومت بیروت پر نئے حملے کیے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ڈی ایف اس وقت تہران اور بیروت میں فوجی اہداف پر بیک وقت ٹارگٹڈ حملے کر رہا ہے۔‘
ای ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان اویخائے ادرائی کا کہنا ہے کہ ’بڑے فضائی حملوں کی ایک لہر‘ جاری ہے۔
یہ حملے آئی ڈی ایف کی جانب سے جنوبی بیروت کے رہائشیوں اور درجنوں دیہاتوں کو وہاں سے نکل جانے کی وارننگ جاری کرنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہوئے۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ وہ حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور ہتھیاروں کے ڈپو کو نشانہ بنا رہا ہے۔
نئی جاری کردہ تصاویر میں بیروت پر سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے اور اے ایف پی نیوز ایجنسی ایرانی دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکوں کی اطلاع دے رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ نے کہا کہ اس نے اسرائیل کی مجرمانہ جارحیت کے جواب میں تین اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے جس میں درجنوں لبنانی شہروں اور قصبوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ٹیلی گرام پر تین الگ الگ پوسٹس میں حزب اللہ نے کہا کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں میں نافا اڈے کو میزائلوں سے اور شمالی اسرائیل میں میرون اور رامات ڈیوڈ ایئر بیس کو ڈرون سے نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
دوپہر 1 بج کر 55 منٹ: کویت میں امریکی سفارت خانہ بند
کویت میں امریکی سفارت خانہ اگلے نوٹس تک بند کر دیا گیا ہے۔ فیس بک پر ایک پیغام میں، امریکی سفارت خانے نے کہا کہ وہ ’خطے میں تشدد کی وجہ سے تمام روزانہ اور قونصلر دورے منسوخ کر رہا ہے۔‘
پیر کو امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک میں موجود امریکیوں پر زور دیا کہ وہ ’سنگین خطرات‘ کے پیش نظر یہ خطہ چھوڑ دیں۔
دوپہر 12 بج کر 08 منٹ: سونیا گاندھی کی مودی حکومت کی خاموشی پر تنقید
انڈیا میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کی مذمت کی ہے اور اس معاملے پر مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سونیا نے ایک اخبار میں لکھے مضمون میں کہا کہ حکومت کی یہ خاموشی غیر جانب داری نہیں، بلکہ ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے، جس سے انڈیا کی خارجہ پالیسی کی سمت اور اس کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
سونیا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے نہ تو اس قتل کی واضح مذمت کی اور نہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر کوئی ٹھوس ردعمل دیا ہے۔
صبح 11 بج کر 55 منٹ: صارفین کو ایندھن کی قلت کا خدشہ نہیں ہونا چاہیے: آسٹریلیا
آسٹریلیا میں توانائی کے وزیر کرس بوون نے منگل کو کہا کہ صارفین کو ایندھن کی قلت کے بارے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
بوون نے رپورٹرز کو بتایا کہ ’آسٹریلیا کے پاس 36 دن پیٹرول، 34 دن ڈیزل، اور 32 دن جیٹ فیول ذخیرہ میں ہے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سب سے زیادہ سطح ہے۔
’سروس سٹیشن پر جلدی کرنے اور بھرنے کی ضرورت نہیں۔ میں لوگوں کی تشویش کو سمجھتا ہوں لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے پاس آسٹریلیا میں پیٹرول کا اچھا ذخیرہ موجود ہے، آسٹریلیا میں پیٹرول کی فراہمی کو فوری خطرہ نہیں ہے۔‘
منگل کو تیل کی قیمتیں سپلائی میں خلل کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیس نظر تیسرے دن مزید بڑھ گئیں۔
صبح 11 بج کر 40 منٹ: شنگھائی تعاون تنظیم کا اقوام متحدہ سے قیام امن کا مطالبہ
شنگھائی تعاون تنظیم کے ایران کے حوالے سے صورت حال کے حوالے سے جاری بیان میں رکن ممالک اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے قیام امن کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں روسی سفارت خانے کی جانب سے ایکس پر شیئر کیے گئے بیان میں شنگھائی تعاون تنظیم (#SCO) کے رکن ممالک نے مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت اور ایران پر فوجی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں کہا گتیا کہ ’ایس سی او کے رکن ممالک طاقت کے استعمال کو ناقابل قبول سمجھتے ہیں اور موجودہ اختلافات کے حل کے لیے صرف پرامن ذرائع سے، مکالمے، باہمی احترام اور فریقین کے جائز مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے، بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔‘
ایس سی او کے رکن ممالک نے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ احتیاط برتیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورت حال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔‘
صبح 11 بج کر 29 منٹ: کراچی میں مظاہرین پر امریکی فوجیوں نے بھی گولی چلائی: رپورٹ
دو امریکی حکام نے پیر کو کہا کہ امریکی میرینز نے گذشتہ اتوار کراچی قونصل خانے پر حملے کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کی تھی، جو طاقت کا غیرمعمولی استعمال ہے اور ملک میں کشیدگی کو شدید بڑھا سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد اتوار کو اس وقت دس مظاہرین مارے گئے جب انہوں نے کونصل خانے داخل ہونے کی کوشش کی۔
روئٹرز کی ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے، دونوں امریکی حکام نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ آیا میرینز کی گولیوں سے یہ اموات ہوئیں۔
انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مشن کی حفاظت کرنے والے دیگر افراد، بشمول نجی سکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس نے بھی فائرنگ کی تھی یا نہیں۔
یہ امریکہ کی طرف سے پہلی بار تصدیق ہوگی کہ امریکی میرینز مظاہرین پر فائرنگ میں ملوث تھے۔
صبح 11 بج کر 15 منٹ: ’جانشین کا انتخاب 'زیادہ وقت نہیں لے گا‘
ایران کی خبر رساں ایجنسی اسنا نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی مجلس ماہرین کے ایک رکن نے، جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری رکھتے ہیں، کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کا انتخاب 'زیادہ وقت نہیں لے گا۔‘
صبح 10 بج کر 50 منٹ: ہوائی جہازوں کے ٹکٹ کئی گنا مہنگے
ایشیا اور یورپ کے درمیان ہوائی جہازوں کے ٹکٹوں کی قیمتیں ایران کے خلاف جنگ اور مشرق وسطیٰ کے اہم مراکز کی بندش کے بعد بہت بڑھ گئی ہیں۔
بیجنگ سے لندن کے لیے واپسی اکانومی کلاس کا ٹکٹ عام طور پر 10,000 یوان ($1,452.71) سے کم ہوتا ہے، لیکن بدھ کے لیے ایئر چائنا کے پاس واحد آپشن بزنس کلاس ہے، جس میں ایک طرفہ ٹکٹ کی قیمت 50,490 یوان ہے۔
بڑے خلیجی مرکز، جن میں دنیا کا سب سے مصروف بین الاقوامی ہوائی اڈہ دبئی بھی شامل ہے - جو عام طور پر روزانہ 1,000 سے زائد پروازیں چلاتا ہے - منگل کو چوتھے دن بند رہے، جس سے آسٹریلیا سے یورپ جانے والے مشہور روٹس کی گنجائش کم ہو گئی، جہاں ایمریٹس اور قطر ایئر ویز کا مارکیٹ شیئر عام طور پر زیادہ ہوتا ہے۔
آسٹریلیا کے فلائٹ سینٹر ٹریول گروپ نے بحران کے آغاز کے بعد سے اپنے سٹورز اور ایمرجنسی اسسٹنس لائنز پر کالز میں 75 فیصد اضافہ دیکھا ہے اور اس کی ٹیمیں 24 گھنٹے کام کر رہی ہیں تاکہ متاثرہ صارفین کی مدد کی جا سکے۔
صبح 10 بج کر 15 منٹ: حزب اللہ پر اسرائیل کا نیا حملہ
اسرائیل کی فوج نے منگل کو کہا کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے اہداف بشمول ’کمانڈ سینٹرز اور ہتھیاروں کے ذخیروں‘ پر حملے شروع کیے ہیں۔
اسرائیل نے مزید کہا کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے خلاف اپنی مہم کو آگے بڑھائے گا۔
حزب اللہ نے گذشتہ رات کہا کہ اسرائیل پر اس کا راکٹ اور ڈرون حملہ جنگ بندی کے باوجود ایک سال سے زیادہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایک ’دفاعی کارروائی‘ ہے۔
صبح 10 بج کر 10 منٹ: قطر نے بیلسٹک میزائل مار گرائے
قطر کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ فوج نے منگل کی صبح دو بیلسٹک میزائلوں کو روکا ہے۔
البتہ اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے دارالحکومت دوحہ میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنیں ہیں۔
قطر نے پیر کو دو ایرانی بمبار طیاروں کو مار گرایا تھا اور ایل این جی کی پیداوار روک دی تھی۔
اس بحران نے ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
صبح 10 بج کر 05 منٹ: ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ
اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریاتی ادارے اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا ہے۔
اسرائیل نے کہا کہ نشریاتی ادارے نے ’ریاست اسرائیل کی تباہی اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا مطالبہ کیا ہے۔‘
ایرانی نشریاتی ادارے نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ تہران میں اس کے ہیڈ کوارٹر کے قریب دھماکے ہوئے ہیں لیکن اس کے کام میں کوئی خلل نہیں پڑا۔
صبح 10 بج کر 02 منٹ: ایران میں 101 مزید اموات
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی نے منگل کو کہا کہ جنگ کے تیسرے دن ایران میں 101 اموات ہوئی ہیں، جن میں ’85 عام شہری اور 11 فوجی اہلکار شامل ہیں۔‘
صبح 10 بجے: ’ایران آبنائے ہرمز میں ’کسی بھی جہاز کو جلا دے گا‘
ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک جنرل نے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ آبنائے ہرمز پر جانے کی کوشش کرنے والے ’کسی بھی جہاز کو جلانے‘ کی دھمکی دی ہے۔
جنرل سردار جباری نے گارڈز کے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم تیل کی پائپ لائنوں پر بھی حملہ کریں گے اور تیل کی ایک بوند کو خطے سے باہر نہیں جانے دیں گے۔ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمت 200 ڈالر (فی بیرل) تک پہنچ جائے گی۔‘
امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 48 گھنٹوں میں 1250 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ کے مطابق اہداف میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، بیلسٹک میزائل سائٹس، ایرانی بحریہ کے جہاز اور آبدوزیں اور اینٹی شپ میزائل سائٹس شامل ہیں۔
صبح 9 بج کر 22 منٹ: قطر میں اجتماعات، ویڈیوز پر پابندی
خلیجی ریاست قطر کی وزارت داخلہ نے موجودہ صورت حال میں حادثاتی مقامات کے ارد گرد جمع ہونے یا حادثے کی جگہوں پر جانے کی ممانعت کے بارے میں خبردار، یا جاری فیلڈ کی ترقیات سے متعلق کلپس کی ویڈیو بنانے اور شائع کرنے کی ممانت کا اعلان کیا ہے۔
Warning regarding the prohibition of gathering around accident sites or heading to incident sites, or filming and publishing clips related to ongoing field developments.#MOIQatar pic.twitter.com/vXxUE2F4bO
— Ministry of Interior - Qatar (@MOI_QatarEn) March 3, 202
صبح 9 بج کر 10 منٹ: پاکستان میں امریکہ ویزہ سروس جعمے تک معطل
اسلام آباد میں امریکہ کے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ موجودہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر، اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور لاہور و کراچی میں قونصل خانے نے جمعہ، 6 مارچ تک تمام ویزا اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی ہیں۔
Due to the current security situation, the U.S. Embassy in Islamabad and the Consulates General in Lahore and Karachi have cancelled all visa appointments through Friday, March 6.
— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) March 3, 2026
صبح 8 بج کر 40 منٹ: ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو، دیگر علاقوں میں چھ ڈرون حملے
سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ منگل کی صبح دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرونز کے حملے سے چھوٹے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ایران نے خلیجی ممالک پر جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کی وزارت دفاع کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ دارالحکومت ریاض اور الخرج شہر کے قریب نصف درجن سے زیادہ ڈرونز کو روکا گیا ہے۔
وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان، میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ریاض اور الخرج شہروں کے قریب آٹھ ڈرونز حملے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل منگل کو علی الصبح جاری ہونے والے سعودی وزارت دفاع کے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ ’ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرونز سے حملہ کیا گیا، ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ، حملے کے نتیجے میں آگ لگ گئی اور عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکہ کے سفارت خانے کو دو مشتبہ ایرانی ڈرون حملوں کے بعد امریکہ ’جلد‘ جوابی کارروائی کرے گا۔
المتحدث الرسمي لوزارة الدفاع: تعرّضت السفارة الأمريكية في الرياض لهجوم بمسيّرتين بحسب التقديرات الأولية، ونتج عن ذلك حريق محدود وأضرار مادية بسيطة في المبنى. pic.twitter.com/YuCukrePkH
— وزارة الدفاع (@modgovksa) March 3, 2026
نیوز نیشن نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا‘ کہ امریکہ کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے گا۔
دو عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کے ارد گرد فائر انجن دیکھے۔
قبل ازیں عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی مشن کی عمارت پر دھواں دیکھا تھا اور سعودی دارالحکومت میں غیر ملکی سفارت خانے کے سفارتی کوارٹر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں۔
سعودی فوج کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس حساس معاملے پر بات کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی فضائی دفاع نے حملے میں ریاض کے سفارتی کوارٹر کو نشانہ بنانے والے چار ڈرونز کو روکا۔
اس کے نتیجے میں امریکی سفارت خانے نے جدہ، ریاض اور ظہران کے لیے جگہ جگہ پناہ گاہیں اور غیر ضروری سفر کو محدود کرنے کے نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی عرب میں یہ حملے خلیجی ریاستوں میں میزائلوں اور ڈرونز کی لہر کے ساتھ موافق ہیں جس میں متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ ایران سے آنے والے بیلسٹک میزائلوں سے نمٹ رہی ہے
قطر کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے منگل کی صبح سویرے دو بیلسٹک میزائلوں کو روکا۔
تہران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خطے بھر میں حملے شروع کیے۔
ایران کے فوجیوں نے بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، رہائشی عمارتوں اور ہوٹلوں کے علاوہ تیل کے امیر علاقے میں فوجی مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق پیر کو کویت سٹی کے امریکی سفارت خانے سے بھی دھواں نکلتا دیکھا گیا۔
بعد میں کویت میں مقیم ایک سفارت کار اور ایک مغربی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ سفارت خانے کو کئی ڈرونز سے نقصان پہنچا ہے، جب کہ کویت میں مقیم ایک دوسرے سفارت کار نے بتایا کہ عمارت کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تھا۔
صبح 5 بج کر 20 منٹ: ریاض میں امریکی سفارت خانے میں دھماکہ
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دو ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ابتدائی اندازے کے مطابق دو ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں محدود آگ لگی اور عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔
وزارت نے شہزاد سلطان ایئربیس کے قریب پانچ دشمن ڈرونز کو تباہ کرنے کی بھی اطلاع دی ہے۔
صبح 5 بج کر 15 منٹ: اہداف کے حصول تک کارروائی جاری رہے گی: روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران پر حملے کے بارے میں کہا کہ ہمارا ہدف ان کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد ’ایران کی پیداواری صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے اور اس خطرے کو بھی جو ان کی بحری افواج کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے لاحق ہے۔ یہی مقصد ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’...ہمیں امید ہے کہ ایرانی عوام اس حکومت کا تختہ الٹ کر اپنے ملک کے لیے ایک نیا مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’لیکن اس مشن کا ہدف ان کی بیلسٹک میزائل کی صلاحیتوں اور ان کی بحری صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے۔‘
صبح 4 بج کر 25 منٹ: مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چھ ہوگئی
امریکی سینٹر کمانڈ کے مطابق 2 مارچ کو شام 4 بجے تک چھ امریکی فوجی کارروائی کے دوران جانیں کھو چکے ہیں۔ امریکی افواج نے مزید دو فوجی اہلکاروں کی باقیات ایک ایسی جگہ سے بازیاب کیے ہیں جو ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران نشانہ بنی تھی۔ تاہم اس نے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔
گذشتہ رات، امریکی B-1 بمبار طیاروں نے ایران کے اندر حملہ کیا تاکہ ایرانی بیلسٹک میزائل کی صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔
ادھر امریکی حکومت نے خلیجی ممالک میں اپنے شہریوں سے فورا انخلا کا کہا ہے۔
صبح 4 بجے: امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں شہریوں کو خبردار کر دیا
امریکہ کے محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے مصر اور خلیجی ریاستوں سمیت مشرق وسطیٰ کا بیشتر حصے چھوڑ دیں۔
اسسٹنٹ سکریٹری برائے قونصلر امور مورا نامدار نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ محکمہ خارجہ ’امریکیوں پر زور دیتا ہے کہ وہ دستیاب تجارتی نقل و حمل کا استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل ممالک سے ابھی روانہ ہو جائیں۔‘
انتباہ میں شامل ممالک یا علاقوں میں بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل اور فلسطینی علاقے، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن شامل ہیں۔
