امریکہ اور ایران میں دوبارہ کشیدگی، مذاکرات تعطل کا شکار

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خلیج میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک لہر کو ’کامیابی سے ناکام بنایا‘۔

7 مئی 2026 کو امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ امریکی بحریہ کی اس تصویر میں آرلی برک کلاس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس رافیل پیرالٹا (ڈی ڈی جی 115) کو ایرانی پرچم بردار خام تیل بردار ٹینکر ’اسٹریم‘ کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب یہ جہاز 26 اپریل 2026 کو ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب سفر کرنے کی کوشش کر رہا تھا (اے ایف پی)

امریکی فوج نے منگل کو کہا کہ اس نے خلیج میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک لہر کو ’کامیابی سے ناکام بنایا‘ اور ایران کے جزیرہ قشم پر اپنے دفاع میں حملے بھی کیے۔ دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں بھی کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آئی۔

یہ حالیہ کشیدگی ایسے کئی واقعات کی تازہ ترین کڑی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہونے کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی یہ تنازع تعطل کا شکار ہے، ایک کمزور جنگ بندی برقرار ہے جبکہ آبنائے ہرمز اب بھی بڑی حد تک بحری آمدورفت کے لیے بند ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے منگل کو ایک بیان میں کہا: ’ایران نے خطے میں اپنے پڑوسی ممالک کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوا۔‘

بیان میں کہا گیا: ’کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے میں ہی گر گئے یا ٹوٹ گئے جبکہ بحرین کی جانب داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔‘

کویت کی فوج نے کہا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ’دشمنانہ‘ میزائل اور ڈرون حملوں کو روک رہا ہے۔

سینٹ کام نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کی بھی تردید کی کہ انہوں نے بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں ایک علیحدہ فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج نے ایران کی جانب سے سویلین بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئے تین حملہ آور ڈرون بھی مار گرائے، جو علاقائی پانیوں میں سفر کر رہے تھے۔

جزیرہ قشم پر حملے سے متعلق سینٹ کام نے کہا کہ حملوں میں جزیرے پر موجود ایک ’ایرانی فوجی زمینی کنٹرول سٹیشن‘ کو نشانہ بنایا گیا اور اس کارروائی میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

جزیرہ قشم آبنائے ہرمز میں واقع ہے، جو خلیجی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے تہران نے اسے عملاً بند کر رکھا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے جزیرہ قشم پر حملے کے جواب میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

تاہم سینٹ کام نے ایکس پر جاری بیان میں جواب دیا: ’غلط۔ امریکی افواج پر ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔‘

اس سے قبل امریکی افواج نے ایک ایسے جہاز پر میزائل داغا تھا جو امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب جانے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا۔

واشنگٹن اب تک چھ ایسے جہازوں کو زبردستی روک چکا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ 13 اپریل سے نافذ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

8  اپریل سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے، تاہم تنازعے کے مستقل خاتمے کے لیے بعد ازاں ہونے والے مذاکرات اب تک کامیاب نہیں ہو سکے۔

تہران نے پیر کو کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیل کی وسیع ہوتی فوجی کارروائی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

ایران اور امریکہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ جنگ روکنے کے لیے ایک ابتدائی عبوری معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، تاہم دونوں فریقوں نے ابھی تک اس معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا