اردن میں دو فوجیوں کی موت کے بعد امریکہ کے ایران پر تازہ حملے

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کم کرنا اور پاسداران انقلاب کی کو سزا دینا ہے جنہوں نے گذشتہ رات اردن میں امریکی اہلکاروں پر حملے کیے۔

18 جولائی، 2026 کی اس تصویر میں جنوبی ایران میں رودان اور بندر عباس کو ملانے والی سڑک پر تباہ شدہ پل دیکھا جا سکتا ہے جسے امریکی حملے میں نشانہ بنایا گیا (اے ایف پی)

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکہ نے اردن میں دو امریکی فوجیوں کی موت اور ایک کے لاپتہ ہونے کے بعد ایران پر تازہ حملے کیے ہیں۔ 

ہفتے کو حملوں سے قبل ایران کے سپریم لیڈر نے کہا تھا کہ واشنگٹن کو ’تنازعے کو بڑھاوا دینے کی کوششوں‘ کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر فضائی حملے مشرقی وقت کے مطابق  کے مطابق شام چھ بجے شروع ہوئے۔

بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا کہ ’ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کم کرنا اور ان پاسداران انقلاب کی کو فوری سزا دینا ہے جنہوں نے گذشتہ رات اردن میں امریکی اہلکاروں پر حملے کیے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے بتایا کہ امریکہ نے جنوبی ایران میں سیرک کے قریب ایک حملہ کیا ہے اور مزید کہا کہ کسی جانی نقصان یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

امریکہ اور ایران نے ایک ماہ قبل طے پانے والے جنگ بندی کے عبوری معاہدے کے گذشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سے حملوں میں تیزی کر دی ہے، جس سے ایک بار پھر مکمل جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ دو امریکی فوجیوں کی موت جمعے کو ہوئیں اور ایک تیسرا امریکی اہلکار لاپتہ ہے۔ اس اعلان کے بعد جنگ شروع ہونے سے اب تک مرنے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جب کہ 420 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایکس پر لکھا کہ ’ان کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔‘

ہفتے کو ایرانی پلوں، بجلی کی تنصیبات اور دیگر انفراسٹرکچر پر امریکی حملوں کے بعد ایران نے بظاہر سعودی عرب سمیت خلیج میں امریکہ کے دیگر اتحادیوں اور اردن کو نشانہ بنایا۔

ایران کے سپریم لیڈر کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ایرانی سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والے ایک تحریری بیان میں، سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹرمپ کے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ’مکمل طور پر بے وقعت اور ساکھ سے عاری‘ تھے۔

بیان میں امریکہ کو ’اس سے بھی بھاری قیمت اور مزید ذلت‘ کا انتباہ دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے اس پر تبصرے کی درخواست کا فوری کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ تنازع، جو فروری کے آخر میں اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی حامی تنظیموں کو ناکارہ بنانے کی امید میں ایران پر حملے کیے تھے، توانائی کی سپلائی میں بڑے خلل، عالمی مہنگائی کے خدشات اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے لیے جنگ کا سبب بنا ہے۔

ہفتے کو کویت مسلسل حملوں کی زد میں رہا۔ مسلح افواج کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا اور ان حملوں کے دوران امدادی کارروائیوں میں آگ بجھانے والے عملے کے کچھ ارکان اور تیل کے شعبے کے کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس نے کویت کے کیمپ عریفجان میں امریکی فوجی سپورٹ سنٹر کو نشانہ بنایا اور علی السالم ایئر بیس پر ریڈار کی تنصیب کو تباہ کر دیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے بعد میں بتایا کہ اس کی تیل کی ایک تنصیب ’بار بار ہونے والے ایرانی حملوں‘ کا نشانہ بنی، جس سے کافی نقصان ہوا اور کچھ لوگ زخمی ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی میڈیا نے بتایا کہ آئی آر جی سی نے بحرین میں بھی ایک مقام کو ہدف بنایا جہاں شیخ عیسی ایئر بیس پر امریکی جنگی طیارے موجود تھے اور اس کے ساتھ ایک انٹیلی جنس ڈیٹا سنٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی سیٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد پہلی بار امریکی فوجیوں کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے امریکہ نے ہفتے کو ایران کو ’سزا‘ دینے کے لیے نئے فضائی حملے کیے۔ چند گھنٹے بعد، سینٹرل کمانڈ نے مسلسل آٹھویں رات حملوں کا اعلان کیا۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر نے امریکیوں کو ’ناقابل فراموش سبق‘ سکھانے کا عہد کیا جب کہ ایران نے ایک ہفتے سے شدت اختیار کرتے امریکی حملوں کے جواب میں خلیج کے اطراف میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان امریکی حملوں میں ایک ہوائی اڈے، ایک ریلوے سٹیشن اور پلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا