پاکستان نے جمعرات کو اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ ’اگرچہ موجودہ حالات کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم بالاخر فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔‘
ایران اور امریکہ درمیان ایک بار پھر سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکہ نے گذشتہ تین روز میں متعدد ایرانی مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے تو دوسری جانب ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
اس تناظر میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس تاثر میں کوئی صداقت نہیں کہ اس نے ثالثی کے عمل سے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔‘
طاہر اندرابی نے کہا کہ ’ثالثی کے عمل کو اس وقت چیلنجز کا سامنا ہے اور کشیدگی میں اضافے ہو رہا ہے لیکن یہ امید ہے کہ بالآخر امن اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
’امن کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا، اسے وقتی طور پر پس منظر میں ڈالا جا سکتا ہے مگر وہ برقرار رہتا ہے۔‘
ان کے مطابق اسی منطق کے تحت اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی اہمیت آج بھی برقرار ہے اور جب بھی فریقین یہ محسوس کریں گے کہ کشیدگی میں اضافے کی منطق اپنی حد کو پہنچ چکی ہے تو امن کی طرف واپسی اسی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے خاکے کے ذریعہ ہوگی۔
رواں برس اپریل میں اسلام آباد میں ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جبکہ جون میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں پاکستان اور قطر نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے ایک عملی روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا تھا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستانی قیادت اعلیٰ سطح پر سفارتی روابط جاری رکھے ہوئے ہے۔
’وزیراعظم نے قطر کے امیر اور گذشتہ سات روز کے دوران صدر پزشکیان سے گفتگو اور نائب وزیراعظم نے بھی ایران اور قطر کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ کسی نئے اقدام یا امن کے لیے کسی نئے فریم ورک کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ پہلے سے موجود ہے۔
دوسری جانب ہفتہ وار بریفنگ میں فنانشل ٹائمز کی سیندک مائنز پر شائع ہونے والی خبر پر بھی ترجمان نے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ ’عموماً ایسی خبروں جن کی صداقت مبہم ہو، پر تبصرہ کرنا پسند نہیں کرتے۔
’جہاں تک چین کا تعلق ہے، دونوں ممالک اپنے تعلقات کے تمام پہلوؤں پر مسلسل رابطے میں ہیں، جن میں پاکستان میں مختلف اقتصادی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی سکیورٹی بھی شامل ہے، بشمول اس منصوبے کے جس کا ذکر کیا گیا۔‘
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’ان منصوبوں کے میزبان ملک کی حیثیت سے پاکستان اپنے چینی مہمانوں، تکنیکی ماہرین اور ان منصوبوں پر کام کرنے والے دیگر افراد کی فول پروف سکیورٹی کی ضمانت دیتا ہے۔‘
برطانوی گرومنگ گینگ کے رکن کی پاکستان واپسی کا معاملہ
برطانیہ میں بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ برطانوی حکومت روچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی ملزم شبیر احمد کو سزا مکمل ہونے کے بعد پاکستان واپس بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔
ان خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق ایسی کسی پیش رفت سے وہ آگاہ نہیں۔
’میں اس حوالے سے کسی بھی پیش رفت سے آگاہ نہیں ہوں، اور میرا خیال ہے کہ میرے بیان نے اس حوالے سے پائے جانے والے کسی بھی تاثر کو واضح طور پر دور کر دیا ہے۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ اس معاملے سے ہمارا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی برطانوی قانون کے تحت اس فرد کی رہائی یا بعد ازاں اس کے ساتھ کیے جانے والے کسی بھی قانونی اقدام سے پاکستان کو جوڑا جا سکتا ہے۔‘