جے ڈی وینس کی گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر میں سفر کی خواہش، رپورٹ

رپورٹ کے مطابق میرین ٹو پر سفر کا یہ منصوبہ بالآخر خراب موسم کے باعث منسوخ کر دیا گیا، تاہم سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے اس معاملے پر آپس میں ناخوشی کا اظہار کیا۔

5 مئی 2026 کو امریکی ریاست کینٹکی کے شہر ہیبرون میں واقع سنسناٹی/ناردرن کینٹکی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کے بیٹے وویک ایئر فورس ٹو سے باہر آ رہے ہیں۔ (رابرٹو شمٹ/پول/گیٹی امیجز/اے ایف پی)

ایم ایس ناؤ نے رپورٹ کیا ہے کہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے گذشتہ ہفتے مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو واشنگٹن میں گالف کی تربیت کے لیے لے جانے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی کوشش کی، جو ان کے غیر معمولی سفری مطالبات میں سے ایک تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان مطالبات کے باعث رپبلکن رہنما کی سکیورٹی پر مامور اہلکار مبینہ طور پر ’تنگ آ چکے ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق میرین ٹو پر سفر کا یہ منصوبہ بالآخر خراب موسم کے باعث منسوخ کر دیا گیا، تاہم سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے اس معاملے پر آپس میں ناخوشی کا اظہار کیا۔

ماضی میں نائب صدور کے بچوں کو مختلف سرگرمیوں کے لیے سیکرٹ سروس کے اہلکار گاڑیوں میں لے جاتے تھے، نہ کہ فوجی طیاروں یا ہیلی کاپٹروں کے ذریعے، جنہیں چلانے پر فی گھنٹہ دسیوں ہزار ڈالر خرچ آ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آخری وقت میں کیے جانے والے متعدد سفری مطالبات، جنہیں ’آف دی ریکارڈ‘ نقل و حرکت کہا جاتا ہے، کے باعث سکیورٹی ٹیم میں غصہ اور حوصلہ شکنی پیدا ہوئی ہے۔

سروس کے اندرونی ماحول سے واقف ایک ذریعے نے ایم ایس ناؤ کو بتایا: ’سکیورٹی ٹیم اس بات سے تنگ آ چکی ہے کہ انہیں کسی بھی منصوبے کی پیشگی اطلاع نہیں دی جاتی اور ہر چیز کو او ٹی آر (آف دی ریکارڈ) بنا دیا جاتا ہے۔ وہ (وینس) سمجھتے ہیں کہ وہ اب بھی امریکی سینیٹر کی طرح آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نائب صدر کے ترجمان نے دی انڈپینڈنٹ کو جاری بیان میں کہا: ’وینس خاندان امریکی سیکرٹ سروس کے ان مرد و خواتین کا شکر گزار ہے، جو امتیازی انداز میں اپنے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ اگرچہ وسیع پالیسی ذمہ داریوں کے حامل ایک نائب صدر اور ایک کم عمر، بڑھتے ہوئے خاندان کی حفاظت ایک منفرد چیلنج ہے، تاہم سیکرٹ سروس کے اہلکار ہر روز بہترین انداز میں یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔‘

انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق جے ڈی وینس کا نیول آبزرویٹری میں اپنے سرکاری گھر سے اینڈریوز ایئر فورس بیس کے گالف کورس تک سفر ایک ایسے معروف فضائی راستے پر مشتمل ہوتا، جس سے ٹریفک جام جیسے عوامی مسائل سے بھی بچا جا سکتا تھا اور وینس خاندان محفوظ ماحول میں ایک ساتھ وقت بھی گزار سکتا تھا۔

عہدیدار نے مؤقف اختیار کیا کہ جے ڈی وینس نے کبھی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا، تاہم ان کے عہدے کی نوعیت کے باعث منفرد سکیورٹی چیلنجز پیدا ہوئے ہیں، جن میں ایک کم عمر اور بڑھتے ہوئے خاندان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے باقاعدہ سفر میں سیکرٹ سروس اہلکاروں کی ان کے ساتھ موجودگی بھی شامل ہے۔

سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن نے ایک بیان میں کہا: ’جب امریکی سیکرٹ سروس کے خصوصی ایجنٹ کسی حفاظتی ٹیم میں شامل ہونے کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ اس ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ اس میں طویل اوقات کار، مسلسل سفر اور ہر وقت لچک کی ضرورت ہوتی ہے۔ راتیں، تعطیلات اور ہفتہ وار چھٹیاں بھی اس ملازمت کا حصہ ہیں۔ ہمارے اہلکار مسلسل محنت کرتے ہیں تاکہ جن افراد کی حفاظت ان کے سپرد ہے، ان کی سلامتی اور تحفظ یقینی بنایا جا سکے، جبکہ جہاں تک ممکن ہو ان کی معمول کی زندگی بھی برقرار رکھی جا سکے۔‘

رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس ہی واحد شخصیت نہیں جن کے سکیورٹی اور سفری وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے مبینہ طور پر شکاگو میں اپنی موسیقار دوست سے ملاقات کا منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا جب جمعے کے روز ان کا طیارہ رن وے پر موجود تھا اور وائٹ ہاؤس کے ناراض حکام نے انہیں اجلاس کے لیے فوری طور پر واشنگٹن طلب کر لیا۔

اس سفر سے آگاہ ایک ذریعے نے ایم ایس ناؤ کو بتایا: ’کاش پٹیل آج (شکاگو) اپنی دوست کے کنٹری میوزک کنسرٹ کے سلسلے میں ایک فرضی دفتری دورے کے بہانے آ رہے تھے۔‘

رپورٹ کے مطابق اگرچہ اجلاس بلانے کی درست وجہ واضح نہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کاش پٹیل کی حالیہ سرگرمیوں سے بڑھتی ہوئی حد تک ’پریشان‘ ہیں، جن میں ایران کے ساتھ دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران شہر چھوڑنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ اس تنازعے کے دوران صدر کی جان کو ممکنہ ایرانی خطرات سے متعلق بھی بات چیت جاری رہی ہے۔

تاہم کاش پٹیل نے اس رپورٹ کو ’جھوٹا‘ قرار دیا ہے۔

ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا کاش پٹیل نے محکمانہ خریداریوں اور تفریحی سفروں کے لیے ٹیکس دہندگان کے فنڈز کا غلط استعمال کیا یا نہیں۔

 8 جولائی کو لکھے گئے ایک خط میں رکن کانگریس جیمی راسکن اور سینیٹر ڈک ڈربن نے الزام عائد کیا کہ کاش پٹیل پر بین الاقوامی دوروں کے دوران خصوصی مراعات کا مطالبہ کرنے کے الزامات لگے ہیں، جن میں ہوائی میں ’وی آئی پی سنورکلنگ‘ کے دورے، جیٹ سکی کی سواری اور ایف بی آئی کے سرکاری دوروں کے دوران ہیلی کاپٹر کے استعمال کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

قانون سازوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خدشہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر ویلنگٹن میں ایف بی آئی کا ایک اتاشی دفتر جزوی طور پر وہاں سیر و تفریح کے سفر کو آسان بنانے یا اس کا جواز پیش کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہو۔

دی انڈپینڈنٹ کو دیے گئے ایک سابقہ بیان میں ایف بی آئی کے ترجمان نے کہا تھا کہ خط میں لگائے گئے الزامات ’مکمل طور پر غلط‘ ہیں۔

بیورو کے مطابق کاش پٹیل نے ’تمام ذاتی سفری اخراجات اور دیگر ذاتی اخراجات کی مکمل ادائیگی خود کی ہے، بجٹ و انتظامی دفتر کے قواعد پر سختی سے عمل کرتے ہوئے، بالکل اسی طریقے سے جیسے ان سے پہلے آنے والے تمام ایف بی آئی ڈائریکٹرز کرتے رہے ہیں، اور وہ مکمل طور پر قواعد کے مطابق ہیں۔‘

حالیہ برسوں میں سیکرٹ سروس کو عملے کی کمی اور غیر معمولی کام کے بوجھ کا سامنا رہا ہے۔ اس ماہ جاری ہونے والی انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024 میں، جب انتخابی مہم کے دوران ایک جلسے میں ایک مسلح شخص نے ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اس وقت ادارہ مطلوبہ تعداد کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد عملے کی کمی کا شکار تھا۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ