’جادوگر‘ میسی اپنا دوسرا ورلڈ کپ جیتنے سے ایک قدم دور

ارجنٹائن نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سیمی فائنل میں کبھی شکست نہ کھانے کی اپنی روایت برقرار رکھی، اور اب میسی مسلسل دوسرے جبکہ مجموعی طور پر تیسرے ورلڈ کپ فائنل میں شرکت کریں گے۔

ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی 16 جولائی 2026 کو ورلڈ کپ سیمی فائنل جیتنے کے بعد انگلش کپتان ہیری کین سے ہاتھ ملاتے ہوئے (اے ایف پی)

لیونل میسی پہلے ہی ورلڈ کپ جیت چکے ہیں، لیکن ارجنٹائن کے کپتان نے بدھ کو انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں اپنے شاندار کیریئر میں ایک اور سنہرا باب شامل کرتے ہوئے ٹیم کو فتح دلانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو اٹلانٹا میں سخت امتحان کا سامنا تھا، جہاں انتھونی گورڈن کے گول کی بدولت انگلینڈ 85ویں منٹ تک برتری حاصل کیے ہوئے تھا، لیکن پھر میسی نے اپنا جادو دکھایا۔

اس بار ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی نے خود گول نہیں کیا، مگر اینزو فرنینڈیز کو برابری کا گول کرانے کے لیے پاس دیا، جبکہ لاؤتارو مارٹینیز کے فاتحانہ ہیڈر کے لیے بھی شاندار کراس فراہم کیا، جس سے ارجنٹائن نے 2-1 سے کامیابی حاصل کر لی۔

میچ کے بعد 39 سالہ میسی نے کہا کہ ’یہ جذبات بہت خاص ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ پوری ٹیم بھی یہی محسوس کر رہی تھی۔ یہ وہ میچ تھا جسے ارجنٹائن کے عوام جیتنا چاہتے تھے، اور ہم بھی۔‘

انہوں نے انگلینڈ کے خلاف اپنے کیریئر کا پہلا مقابلہ کھیلنے کے بعد مزید کہا کہ ’یہ مقابلہ ہمیشہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔‘

اگرچہ میسی 1986 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف ڈیاگو میراڈونا کے دو تاریخی گولز کو نہیں دہرا سکے، تاہم دو اہم اسسٹ ان کے لیے کافی رہے۔ وہ پہلے ہی چار سال قبل قطر میں ورلڈ کپ جیت کر میراڈونا کے کارنامے کی برابری کر چکے ہیں۔

ارجنٹائن نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سیمی فائنل میں کبھی شکست نہ کھانے کی اپنی روایت برقرار رکھی، اور اب میسی مسلسل دوسرے جبکہ مجموعی طور پر تیسرے ورلڈ کپ فائنل میں شرکت کریں گے۔

جنوبی امریکی ٹیم 1962 کے بعد پہلی ایسی ٹیم بننے کی کوشش کر رہی ہے جو اپنے ورلڈ کپ ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کرے۔

اگر ایسا ہوا تو میسی 2014 کے فائنل میں جرمنی سے ہارنے والی ٹیم کے واحد کھلاڑی ہوں گے جو دوبارہ ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوں گے۔ وہ برازیل کے عظیم کھلاڑی کافو کے بعد تین ورلڈ کپ فائنلز کھیلنے والے صرف دوسرے فٹبالر بھی بن جائیں گے۔

میسی نے کہا ’مسلسل دو ورلڈ کپ فائنلز کھیلنا واقعی ناقابلِ یقین احساس ہے۔‘

ارجنٹائن نے اسی اٹلانٹا سٹیڈیم میں پری کوارٹر فائنل میں مصر کے خلاف بھی آخری لمحات میں شاندار واپسی کرتے ہوئے 3-2 سے کامیابی حاصل کی تھی، اور انگلینڈ کے دفاعی انداز اختیار کرتے ہی ارجنٹائن نے فتح کا موقع بھانپ لیا۔

میسی کہتے ہیں کہ ’ایک بار پھر ہم نے مشکل حالات میں کامیابی حاصل کی۔ ہم نے کبھی یقین نہیں کھویا۔‘

اس میچ کے ساتھ ہی میسی نے چھ مختلف ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں ریکارڈ 33 میچز کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔

اگرچہ میچ کے بڑے حصے میں ان کا اثر محدود دکھائی دیا، لیکن میسی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ چند لمحات میں کھیل کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔

انگلینڈ کے کپتان ہیری کین نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ میچ کے زیادہ تر حصے میں ہم نے انہیں اچھی طرح روکے رکھا، لیکن دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی یہی خاصیت ہوتی ہے کہ جب انہیں آخری حصے میں گیند ملتی ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے آج بھی یہی کیا، اور اسی لیے وہ تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘

سپین کے خلاف تاریخی فائنل

اگر ارجنٹائن اتوار کو سپین کو شکست دے کر اپنا عالمی ٹائٹل برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو میسی کو تاریخ کا سب سے عظیم فٹبالر قرار دینے کی بحث شاید ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

پیلے اور ڈیاگو میراڈونا دونوں صرف دو ورلڈ کپ فائنلز میں کھیلے، جبکہ میراڈونا صرف ایک مرتبہ عالمی چیمپئن بنے۔

میسی ورلڈ کپ کی تاریخ میں 21 گولز کے ساتھ اب بھی سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میسی 2022 میں فرانس کو شکست دے کر عالمی چیمپئن بننے کے بعد بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائر ہو سکتے تھے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے خود کو اس ورلڈ کپ کے لیے محفوظ رکھا۔

یورپی فٹ بال کی شدید مصروفیات چھوڑ کر انٹر میامی میں کھیلنے سے وہ امریکی ماحول سے بھی ہم آہنگ ہو گئے۔

جہاں پرتگال میں کرسٹیانو رونالڈو کی مسلسل موجودگی کو بعض ناقدین ٹیم کے لیے رکاوٹ قرار دیتے ہیں، وہیں میسی آج بھی ارجنٹائن کے لیے پہلے کی طرح فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔

انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل نے کہا: ’میسی جس بھی ٹیم میں کھیلتے ہیں، وہ اس کے قائد اور سب سے اہم کھلاڑی ہوتے ہیں۔‘

اب میسی کو پہلی بار کسی باضابطہ مقابلے میں سپین کا سامنا کرنے کا موقع ملے گا، اور یہی بات اس فائنل کو ان کے لیے مزید خاص بنا دیتی ہے۔

میسی 13 برس کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ بارسلونا منتقل ہوئے تھے، جہاں وہ تقریباً دو دہائیوں تک رہے، پھر 2021 میں پیرس سینٹ جرمین چلے گئے۔

ان کے پاس ہسپانوی شہریت بھی موجود ہے اور امکان ہے کہ مستقبل میں وہ بارسلونا کے قریب کاستیلدیفیلس میں دوبارہ رہائش اختیار کریں۔

لیکن اس سے پہلے میسی کی پوری توجہ سپین کے عالمی چیمپئن بننے کے خواب کو چکنا چور کرنے پر مرکوز ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال