امریکہ نے بدھ کو ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد ایران کے ساحلی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات پر دو مرحلوں میں حملے کیے، جبکہ ایران نے جواباً پڑوسی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایران نے اس تنازعے کو امریکہ کے ساتھ اپنی ’بقا کی جنگ‘ قرار دیا ہے۔
یہ تازہ کشیدگی ایک کمزور جنگ بندی کے ٹوٹنے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے، جس سے دوبارہ مکمل جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ایران نے ایک بار پھر خطے سے توانائی کی برآمدات روکنے کی دھمکی دی ہے۔
ایران کی جانب سے ہفتے کی رات آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد لڑائی میں شدت آ گئی۔ فوجی کارروائیوں کے باعث جہاز بھی اس اہم بحری راستے سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔ بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ماہ کی بلند ترین سطح 84.95 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق فوج نے پہلے ایرانی جزیرے ’گریٹر تنب‘ پر ساحلی دفاعی نظام اور کروز میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ تقریباً نو گھنٹے بعد ایران کے مختلف شہروں میں مزید حملے کیے گئے۔
امریکی فوجی بیان میں کہا گیا کہ حملوں میں ایرانی کمانڈ مراکز، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بندر عباس میں بھی حملے کیے گئے جو ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ اور بحریہ و پاسدارانِ انقلاب کی اہم تنصیبات کا مرکز ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ بیان کے مطابق کویت کے علی السالم فضائی اڈے پر امریکی فوجیوں کی موجودگی والے مقام اور ریڈار نظام کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کی کوششوں کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو تباہ کرنا بھی ہے جو مستقبل کی زیادہ پیچیدہ عسکری کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
امریکی فوج نے یہ بھی کہا کہ اس نے ایک خالی تیل بردار جہاز کو ناکارہ بنا دیا جو متعدد انتباہات کے باوجود جزیرہ خارگ کی طرف جا رہا تھا۔ فوج کے مطابق جہاز کے دھویں کے اخراج والے حصے (سموک سٹیک) کو ہیلفائر میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
منگل کو ناکہ بندی دوبارہ شروع ہونے کے بعد امریکہ دو جہازوں کا رخ موڑ چکا ہے اور ایک کو ناکارہ بنا چکا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بندر عباس سمیت کئی ساحلی علاقوں میں دھماکے ہوئے۔ ہواز، کنارک، سیریک اور قشم میں بھی دھماکوں یا میزائل حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
پریس ٹی وی نے وسطی ایران کے شہر خنداب میں کم از کم دو دھماکوں کی خبر دی، جبکہ مہر نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں ’دشمنانہ خطرات‘ کے مقابلے کے لیے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ہواز میں ایک ایسے ہسپتال کے قریب حملہ ہوا جہاں بچوں کے کینسر کا مرکز قائم ہے، جس کے باعث ہسپتال کو عارضی طور پر خالی کروانا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کے اہل خانہ سڑکوں پر نکل آئے اور وہیں ان کی دیکھ بھال کرنے لگے۔
پہلے حملے کے بعد ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی سلامتی کا انحصار آبنائے ہرمز میں ’ایرانی قواعد و ضوابط‘ کے نفاذ پر ہے۔
انہوں نے کہا: ’ہم امریکہ کے ساتھ ایک ناگزیر اور وجودی جنگ میں ہیں۔‘
جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد مارے اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، خاص طور پر ایران اور لبنان میں، جہاں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صرف جولائی میں امریکی حملوں میں 35 افراد مارے جا چکے ہیں۔
ایران معاہدہ چاہتا ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پنسلوانیا ڈیفنس اینڈ انوویشن سمٹ کے موقعے پر کہا کہ ’ہم جلد ہی ایران کو شکست دے دیں گے۔ بہت جلد اسے شکست ہو جائے گی۔‘
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی فریق ’بہت شدت سے سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا: ’انہیں ہماری کارروائیاں پسند نہیں آ رہیں اور وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ ہم معاہدہ کرتے ہیں یا معاملے کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔‘
منگل کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے ایرانی حکام سے رابطہ کر کے پیغام دیا ہے کہ ’بہتر ہے کہ آپ معاہدہ کر لیں۔‘
ایران کے فوجی ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکہ جون میں طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے اور آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ’ایرانی قواعد‘ کو تسلیم کرے۔
شدید لڑائی کے باوجود خیرسگالی کا ایک اشارہ بھی سامنے آیا
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ایک امریکی خاتون کو، جنہیں بائیڈن انتظامیہ کے دور میں 2024 میں ’غلط طور پر حراست میں لیا گیا تھا‘ ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’امریکہ ایران کے اس خیرسگالی کے اقدام کو سراہتا ہے۔‘
انسانی حقوق کے وکیل جیرڈ جینسر نے رہا ہونے والی امریکی شہری کی شناخت ڈینا کراری کے نام سے کی۔ ان کے مطابق وہ دسمبر 2024 سے ایران سے باہر جانے سے روکی جا رہی تھیں۔
جینسر نے ایکس پر لکھا: ’ڈینا اب محفوظ ہیں اور امریکا واپس جا رہی ہیں۔‘ انہوں نے ان کی رہائی کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔