کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے بدھ کو کہا کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نمائندہ خصوصی کی جانب سے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر لانگ مارچ روک رہی ہے۔
تاہم کمیٹی کا کہنا ہے ’پہلے سے جاری تمام پرامن دھرنے جاری رہیں گے۔‘
ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی نے کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ ختم کرنے کے اعلان کی تصدیق کی ہے۔
جے اے اے سی نے راولاکوٹ میں دھرنے کے حوالے سے ایک اعلامیہ جاری کیا، جس کے مطابق کمیٹی ’اپنا مقدمہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے انصاف پہ چھوڑتے ہوئے مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو بچانے کی خاطر لانگ مارچ کو روکنے کا اعلان کرتی ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے ’فیلڈ مارشل عاصم منیر کو موجودہ حالات کے تناظر میں 13 جولائی کو ایک تفصیلی خط بھیجا جو انہیں 14 جولائی کو موصول ہوا۔
’اس (خط) میں پانچ جون سے اب تک کے تمام حالات سے آگاہ کر کے فیلڈ مارشل سے انصاف کی اپیل کی گئی، جس پر انہوں نے فوری طور پر سید قمر رضا، چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کو اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف بھیجا۔‘
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ قمر رضا سے آج مطالبات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اعلامیے کے مطابق قمر رضا نے کمیٹی سے لانگ مارچ کو روکنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ تمام مسائل کا بہت جلد بات چیت کے ذریعے حل نکالا جائے گا۔
کشمیر میں جاری کشیدگی سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہو گی: بلاول
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال ’انتہائی تشویش ناک‘ ہے۔
انہوں نے آج کشمیر میں الیکشن سے قبل مظفر آباد میں پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی عہدے داروں سے خطاب میں کہا ’اگر کوئی کشمیریوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرے گا تو ہمیں شدید دکھ ہو گا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اور اگر کوئی ہماری فوج کے خلاف بات کرے گا تو وہ بھی ہمیں ہرگز برداشت نہیں۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں اور گذشتہ روز پولیس اور سرکاری میڈیا نے بتایا تھا مبینہ طور پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے منسلک مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک رینجر اہلکار جان سے چلا گیا۔
یہ تازہ پرتشدد واقعہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے دو ہفتے سے بھی کم وقت قبل پیش آیا۔
کشمیر میں حکام گذشتہ کئی ہفتوں سے ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹ رہے ہیں جو انڈین زیر انتظام کشمیر سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر کیے جا رہے ہیں۔
جے اے اے سی ابتدا میں بجلی کی قیمتوں، طرز حکمرانی اور معاشی حقوق جیسے معاملات پر آواز اٹھانے کے لیے سامنے آئی تھی۔
تاہم حالیہ عرصے میں اس کی توجہ مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر مرکوز ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں کشمیر میں حکومت سازی کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
کشمیر حکومت نے گذشتہ ماہ جے اے اے سی پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ تنظیم پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ تاہم جے اے اے سی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
بلاول بھٹو نے آج کشمیر کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا ’یہ جتنی دیر برقرار رہے گی، اتنا ہی زیادہ نقصان مسئلہ کشمیر، پاکستان کی ساکھ اور اس کے مؤقف کو پہنچے گا۔‘
انہوں نے کہا بعض طاقتیں پاکستان کے خلاف کارروائی کا موقع تلاش کر رہی ہیں جبکہ پاکستان دنیا کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی ان کی سازش ناکام بنانے کے لیے قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
’ہم سب کو سوچنا چاہیے۔ پاکستان اور کشمیر کے سیاست دانوں، سیاسی کارکنوں، عام شہریوں اور احتجاج کرنے والوں کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ ان حالات میں ہمیں اپنے الفاظ کا بہت احتیاط سے انتخاب کرنا چاہیے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا ’ہمیں سیاست ضرور کرنی چاہیے لیکن اس انداز میں کہ پاکستان کے دشمن کو ہماری اندرونی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔‘
بلاول کے مطابق ’ہم سب چاہتے ہیں کہ تمام مسائل سیاسی اور پُرامن طریقے سے حل ہوں، اور ہم اس کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ایک لحاظ سے اس معاملے پر حکومت کا مؤقف درست ہے کیونکہ ’کوئی بھی ریاست کو بلیک میل نہیں کر سکتا اور ریاست ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔‘
’جے اے اے سی نے پروپیگنڈے پر مبنی مہم چلائی‘
کشمیر کے سیکریٹری داخلہ چوہدری گفتار حسین نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے لیے ’بے بنیاد دعوؤں اور پروپیگنڈے‘ پر مبنی مربوط مہم چلائی۔
چوہدری گفتار حسین نے کہا کالعدم تنظیم کے رہنماؤں نے اپنی جماعت اور وعدوں سے بے اعتنائی برتنے کے بعد خواتین اور بچوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کیا۔
انہوں نے کہا جے اے اے سی کے یہ اقدامات نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ ’کشمیری اقدار‘ کے بھی منافی ہیں۔
’طلبہ کو تعلیم سے دور کرنا ان کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔‘
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ریاست امن، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
