پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو کہا ہے کہ گذشتہ ماہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال ’انتہائی تشویش ناک‘ ہے۔
بلاول نے کشمیر میں الیکشن سے قبل مظفر آباد میں پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی عہدے داروں سے خطاب میں کہا ’اگر کوئی کشمیریوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرے گا تو ہمیں شدید دکھ ہو گا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اور اگر کوئی ہماری فوج کے خلاف بات کرے گا تو وہ بھی ہمیں ہرگز برداشت نہیں۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں اور گذشتہ روز پولیس اور سرکاری میڈیا نے بتایا تھا مبینہ طور پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے منسلک مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک رینجر اہلکار جان سے چلا گیا۔
یہ تازہ پرتشدد واقعہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے دو ہفتے سے بھی کم وقت قبل پیش آیا۔
کشمیر میں حکام گذشتہ کئی ہفتوں سے ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹ رہے ہیں جو انڈین زیر انتظام کشمیر سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر کیے جا رہے ہیں۔
جے اے اے سی ابتدا میں بجلی کی قیمتوں، طرز حکمرانی اور معاشی حقوق جیسے معاملات پر آواز اٹھانے کے لیے سامنے آئی تھی۔
تاہم حالیہ عرصے میں اس کی توجہ مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر مرکوز ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں کشمیر میں حکومت سازی کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
کشمیر حکومت نے گذشتہ ماہ جے اے اے سی پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ تنظیم پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ تاہم جے اے اے سی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
بلاول بھٹو نے آج کشمیر کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا ’یہ جتنی دیر برقرار رہے گی، اتنا ہی زیادہ نقصان مسئلہ کشمیر، پاکستان کی ساکھ اور اس کے مؤقف کو پہنچے گا۔‘
انہوں نے کہا بعض طاقتیں پاکستان کے خلاف کارروائی کا موقع تلاش کر رہی ہیں جبکہ پاکستان دنیا کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی ان کی سازش ناکام بنانے کے لیے قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
’ہم سب کو سوچنا چاہیے۔ پاکستان اور کشمیر کے سیاست دانوں، سیاسی کارکنوں، عام شہریوں اور احتجاج کرنے والوں کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ ان حالات میں ہمیں اپنے الفاظ کا بہت احتیاط سے انتخاب کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہمیں سیاست ضرور کرنی چاہیے لیکن اس انداز میں کہ پاکستان کے دشمن کو ہماری اندرونی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بلاول کے مطابق ’ہم سب چاہتے ہیں کہ تمام مسائل سیاسی اور پُرامن طریقے سے حل ہوں، اور ہم اس کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ایک لحاظ سے اس معاملے پر حکومت کا مؤقف درست ہے کیونکہ ’کوئی بھی ریاست کو بلیک میل نہیں کر سکتا اور ریاست ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔‘
چوہدری گفتار حسین نے کہا کالعدم تنظیم کے رہنماؤں نے اپنی جماعت اور وعدوں سے بے اعتنائی برتنے کے بعد خواتین اور بچوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کیا۔
انہوں نے کہا جے اے اے سی کے یہ اقدامات نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ ’کشمیری اقدار‘ کے بھی منافی ہیں۔
’طلبہ کو تعلیم سے دور کرنا ان کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔‘
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ریاست امن، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔