ایئر فورس ٹو: امریکی نائب صدر کا ’فلائنگ آفس‘

ایئر فورس ون کی طرح اس طیارے میں سکیورٹی سب سے اہم ترجیح ہے۔ 

امریکی صدر جس جہاز میں سفر کرتے ہیں اسے ’ایئرفورس ون‘ کہا جاتا ہے، بالکل اسی طرح نائب صدر کے جہاز کو ’ایئر فورس ٹو‘ کہا جاتا ہے۔

توقع ہے کہ ایران سے جنگ کے معاملے پر مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس اسی طیارے سے ہفتے کو اسلام آباد آئیں گے۔

ایئر فورس ون کے برعکس ایئر فورس ٹو کوئی خصوصی جہاز نہیں بلکہ امریکی نائب صدر جب کسی ایئر فورس کے جہاز میں سوار ہوتے ہیں تو اس کا کال سائن خود بخود ’ایئر فورس ٹو‘ بن جاتا ہے۔

عموماً امریکی نائب صدر سفر کے لیے بوئنگ C-32 کا استعمال کرتے ہیں جو بوئنگ 757 کا فوجی ورژن ہے۔

یہ جہاز خاص طور پر جدید ترین اور محفوظ کمیونیکیشن سسٹمز، کانفرنس روم، دفاتر اور آرام کے کمروں سے لیس ہوتا ہے تاکہ نائب صدر فضا میں بھی اپنے سرکاری امور انجام دے سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسرے الفاظ میں یہ امریکی نائب صدر کا فضائی دفتر ہے، جہاں سے وہ اپنے تمام تر امور سرانجام دے سکتے ہیں۔

ایئر فورس ون کی طرح اس طیارے میں سکیورٹی سب سے اہم ترجیح ہے۔ 

ایئر فورس ٹو میں جدید دفاعی نظام نصب ہیں اور ضرورت پڑنے پر دیگر فوجی جہاز بھی ساتھ رہتے ہیں۔

جہاز کا عملہ تجربہ کار پائلٹ اور سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ نائب صدر محفوظ طریقے سے دنیا کے کسی بھی حصے میں سفر کر سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی