ٹرمپ کا پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے رات گئے ایکس پر ٹرمپ کو اپنی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع اور ایران کو خیر سگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کی درخواست کی تھی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا (اے ایف پی)

جوں جوں ٹرمپ کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی تھی، ایران میں جنگ بندی کے لیے آخری کوششیں جاری رات گئے تک جاری رہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی کی مہلت پاکستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 5 بجے ختم ہونی تھی۔

پاکستان کی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز زیر غور تھی۔

عالمی رہنماؤں کی جانب سے ٹرمپ کی دھمکی کی مذمت، اقوام متحدہ اور پوپ نے اسے ناقابل قبول قرار دیا

لائیب اپ ڈیٹس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو رات گئے پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ایران دی گئی ڈیڈلائن میں دو ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر، ’اور چونکہ انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کے خلاف بھیجی جانے والی تباہ کن طاقت کو روک دوں، اور اس شرط پر کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو، میں ایران پر بمباری اور حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر رضامند ہوں۔ یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے ہی تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکے ہیں بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں، اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن اور مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق ایک حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ’ہمیں ایران کی جانب سے دس نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے، اور ہمارا ماننا ہے کہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ ماضی کے تقریباً تمام متنازع نکات پر امریکہ اور ایران کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے، لیکن دو ہفتوں کی مدت اس معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مکمل کرنے کے لیے درکار ہوگی۔

’امریکہ کے صدر کی حیثیت سے، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے، میرے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ یہ دیرینہ مسئلہ حل کے قریب ہے۔‘

ایران ردعمل

ادھر ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ جنگ بندی معاہدہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری سے طے پایا۔

ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے ردعمل میں کہا ہے کہ اس نے ’ایک بڑی  فتح حاصل کی ہے، اور امریکہ نے ہماری دس نکات پر مشتمل تجویز کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے آخری تفصیلات طے کرنے کی غرض سے اسلام آباد میں مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

امریکی صدر کی مقررہ ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل، ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران سفارتی عمل کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی غرض سے پاکستان کی درخواست کا مثبت جائزہ لے رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ٹرمپ اس تجویز سے آگاہ ہیں اور اس پر ردعمل دیں گے۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ غیر معمولی دھمکی کہ اگر ایران خلیجی تیل کی ناکہ بندی ختم نہیں کی تو اس کے تمام پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا، عالمی رہنماؤں کے لیے تشویش کا باعث بنی، مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی اور اقوام متحدہ کے سربراہ اور پوپ لیو سمیت وسیع پیمانے پر مذمت سامنے آئی۔ کچھ بین الاقوامی قانونی ماہرین کے مطابق شہری بنیادی ڈھانچے پر وسیع حملہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے تیز ہو گئے، جن میں ریلوے اور پل، ایک ہوائی اڈہ اور ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ نشانہ بنے۔ امریکی افواج نے خارگ جزیرے پر بھی حملے کیے، جہاں ایران کا اہم تیل برآمدی ٹرمینل واقع ہے۔

ایران نے جواباً اعلان کیا کہ وہ خلیجی پڑوسی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے اب مزید گریز نہیں کرے گا اور اس نے خلیج میں ایک جہاز اور سعودی عرب کے ایک بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر نئے حملوں کا دعویٰ کیا۔ روئٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ منگل کی رات دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چھٹے ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ میں تقریباً ایک درجن ممالک میں 5,000 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں ایران کے 1,600 سے زیادہ شہری شامل ہیں، یہ اعداد و شمار سرکاری ذرائع اور انسانی حقوق کے گروہوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے، جس سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عالمی معاشی سست روی یا حتیٰ کہ کساد بازاری کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کی مہم کے دوران ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جس سے ان کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اکثریت کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکیوں کی بڑی اکثریت اس جنگ کی مخالفت کرتی ہے اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے نالاں ہے۔

مذاکرات کی صورت حال غیر واضح

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے، جو ثالثی کر رہے ہیں، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا کہ ٹرمپ کو اپنی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کرنی چاہیے اور ایران کو خیر سگالی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول دینی چاہیے۔

مذاکرات کی صورت حال غیر واضح ہے، جبکہ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری رہا۔ ایک ایرانی عہدیدار نے ڈیڈ لائن سے تقریباً پانچ گھنٹے قبل بتایا کہ امریکہ اور ایران ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، جو دوبارہ کبھی بحال نہیں ہو سکے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن شاید ایسا ہو جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’تاہم، اب جبکہ مکمل اور جامع نظام کی تبدیلی ہو چکی ہے، جہاں زیادہ سمجھ دار اور کم شدت پسند ذہن غالب ہوں گے، شاید کوئی غیر معمولی مثبت تبدیلی ممکن ہو — کون جانتا ہے؟‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس بیان پر ’شدید تشویش‘ میں مبتلا ہیں۔ پوپ لیو نے ایران کی آبادی کے خلاف دھمکیوں کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے ٹرمپ کی دھمکی کو ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ‘ اور ’شدید تشویشناک‘ قرار دیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں، جہاں چین اور روس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق قرارداد کو ویٹو کر دیا، ایروانی نے کہا کہ ٹرمپ کی زبان کسی بھی سیاسی رہنما کے شایان شان نہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ اسرائیل پر حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور وہ دفاعی و جارحانہ دونوں کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔

ایرانی عوام بھی کسی ممکنہ ریلیف کی امید میں وقت دیکھ رہے تھے۔ اصفہان سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ شیما نے روئٹرز کو فون پر بتایا: ’مجھے امید ہے کہ یہ بھی ٹرمپ کی ایک اور دھمکی ہی ثابت ہوگی۔‘

گذشتہ ہفتوں کے دوران ٹرمپ اس طرح کی دھمکیوں سے اچانک پیچھے ہٹتے رہے ہیں، جن کی وجہ انہوں نے ایران کے بعض نامعلوم افراد کے ساتھ ’تعمیری مذاکرات‘ کو قرار دیا، تاہم تہران نے ایسے کسی بھی سنجیدہ مذاکرات کی تردید کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق قانونی مشیر برائن فینوکیَن کے، جو اب انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے وابستہ ہیں، مطابق ٹرمپ کے بیانات کو امریکی اور بین الاقوامی قانون کے تحت ’نسل کشی کی دھمکی‘ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

منڈیاں مفلوج

عالمی منڈیاں بڑی حد تک غیر یقینی کا شکار رہیں اور اس بات پر فیصلہ کرنے سے گریزاں دکھائی دیں کہ آیا ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل کریں گے یا نہیں۔ ڈیڈ لائن سے قبل کویت کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ احتیاطی تدبیر کے طور پر آدھی رات سے صبح 6 بجے تک گھروں میں رہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین میں امریکی شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے، مصر میں احتیاط برتنے اور سعودی عرب کا سفر مؤخر کرنے کی ہدایت کی۔

ایران کی برنا نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے اوپر فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے اور لڑاکا طیارے شہر کے اوپر نچلی پروازیں کر رہے ہیں۔

اسرائیل نے منگل کو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملے کیے اور فارسی زبان میں جاری ایک سوشل میڈیا پیغام میں خبردار کیا کہ ریلوے کے قریب موجود افراد خطرے میں ہوں گے۔

وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل نے ان ریلوے لائنوں اور پلوں کو نشانہ بنایا جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں، اسلحہ اور خام مال کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہے تھے، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

ایران کے امیرکبیر پیٹروکیمیکل پلانٹ پر منگل کی شام امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا، نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا۔ اس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب کے صنعتی شہر جبیل میں ایک بڑے پیٹروکیمیکل مرکز کو نشانہ بنایا، جہاں مغربی تیل کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ رائٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیو میں دھواں اور شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا