صدر ٹرمپ کی گفتگو میں نازیبا الفاظ کا استعمال کیوں بڑھ گیا؟

ایک نئی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تقریروں میں نازیبا الفاظ کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں اور موضوع سے ہٹ کر زیادہ بے ربط باتیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 21 مئی 2026 کو وائٹ ہاؤس میں تقریب کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

ایک نئی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تقریروں میں نازیبا الفاظ کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں اور موضوع سے ہٹ کر زیادہ بے ربط باتیں کر رہے ہیں۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے ان کی تقریروں اور ٹروتھ سوشل پوسٹس کے ایک تجزیے کے مطابق، ٹرمپ اپنے دوسرے صدارتی دور میں زیادہ غیر اخلاقی زبان اور توہین آمیز الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔

 تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اب تک ان کی دوسری مدت کی تقریباً 93 فیصد تقریروں میں ایک یا ایک سے زیادہ غیر اخلاقی جملے شامل رہے ہیں، جب کہ ان کی پہلی مدت کے ابتدائی ڈیڑھ سال کے دوران یہ شرح 40 فیصد تھی۔

ان کی پہلی مدت کے اسی عرصے کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر بھی ان کی جانب سے اس زبان کے استعمال میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

یہ رجحان خاص طور پر گذشتہ ماہ اس وقت نمایاں ہوا، جب ٹرمپ نے ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹروتھ سوشل پر غیر اخلاقی الفاظ سے بھری ایک پوسٹ شیئر کی۔

'*** آبنائے کھولو، تم پاگل ****، ورنہ تم جہنم میں رہو گے۔ بس دیکھتے جاؤ۔‘ انہوں نے ایسٹر سنڈے کو لکھا۔(اس پوسٹ میں انہوں نے گالیوں کا استعمال کیا)۔

رواں ماہ کے شروع میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے وائٹ ہاؤس کو بھی '*** ہاؤس‘ قرار دیا۔

صدر نے کہا کہ ‘مجھے میری اہلیہ نے کہا تھا کہ ’آپ کو صدر جیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس لیے غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔‘ میں نہیں کروں گا۔ اس لیے، عام طور پر میں اسے *** ہاؤس کہتا، لیکن میں ایسا نہیں کہنا چاہتا۔‘

واشنگٹن پوسٹ کے تجزیے کے مطابق، ٹرمپ اپنے عوامی خطابات میں زیادہ کثرت سے موضوع سے بھٹک جاتے ہیں، اور ان کی تقریروں میں بے ربط باتوں کی اوسط تعداد ان کی پہلی مدت کے 10 سے بڑھ کر دوسری مدت میں 37 ہو گئی ہے۔

صدر کی رات گئے پوسٹوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ رواں سال اب تک ٹروتھ سوشل پر صدر کی 30 فیصد سے زیادہ اصل پوسٹس رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے کے درمیان شیئر کی گئی ہیں، جو کہ گذشتہ سال کے 25 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

اس تجزیے کے بارے میں پوچھے جانے پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’صدر ٹرمپ کو سیاسی طور پر درست ہونے کی پروا نہیں۔ انہیں امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی فکر ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویلز نے مزید کہا: ’امریکی عوام اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ صدر کتنے کھرے، شفاف اور موثر ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پانچ نومبر 2024 کو ایک بھاری اکثریت سے شاندار کامیابی حاصل کی۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ کچھ ماہرین ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں سوشل میڈیا پر غصے کے اظہار، خاص طور پر ایران جنگ کے دوران، پر تیزی سے تشویش کا شکار ہو رہے ہیں۔

فلاڈیلفیا سے تعلق رکھنے والی ٹراما تھراپسٹ اور مصنفہ شیری بوٹون نے گذشتہ ماہ دی انڈپینڈنٹ کو بتایا تھا کہ ٹرمپ کی پوسٹس میں ’ہمدردی کی کمی‘ ہے، جسے انہوں نے ’تشویشناک‘ قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا: ’کئی معاملات میں، جب کوئی جارحانہ بیان بازی کا استعمال کر رہا ہوتا ہے، تو یہ اکثر اپنی کمزوری یا عدم تحفظ کو چھپانے کے لیے ایک دفاعی طریقہ کار کے طور پر کام کرتا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ