سپر ایل نینیو: پاکستان کے لیے خطرہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

 یہ خبر پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیوں کہ پاکستان پہلے ہی موسموں کے تغیر و تبدل سے خاصا نقصان اٹھا رہا ہے۔

28 اگست، 2025 کو وزیر آباد کے گاؤں چک علی شیر میں سیلابی پانی میں کھڑی فصلیں اور مکان ڈوبے نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سالانہ 14 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ 

اس پس منظر میں جب عالمی ماہرین یہ پیشن گوئیاں کرتے ہیں کہ اس سال دنیا میں سپر ایل نینیو آ رہا ہے جس سے عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہو گا۔

یہ خبر پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیوں کہ پاکستان پہلے ہی موسموں کے تغیروتبدل سے خاصا نقصان اٹھا رہا ہے۔

بحرالکاہل دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے جودنیا کے ایک تہائی حصے پر پھیلا ہوا ہے۔ اسے دنیا کے موسموں کا انجن بھی کہا جاتا ہے۔

یہاں کا درجہ حرارت ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ دنیا میں بارشیں معمول کے مطابق ہوں گی یا کم ہوں گی۔ دنیا میں گرمی پڑے گی یا سردی ہوگی۔ سیلاب آئیں گے یا خشک سالی ہو گی۔

زرعی پیداوار کس حد تک متاثر ہو گی۔ انسانی زندگی پر یہ اثرات کتنے تباہ کن ہوں گے۔

سپر ایل نینیو کیا ہے؟

دنیا میں 1850 کے بعد سے درجہ حرارت کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا تھا تب سے اب تک جو 11 گرم ترین سال قرار دیے گئے ہیں۔

وہ سارے کے سارے موجودہ صدی کے 25 سال میں سے ہیں جن میں سے 2024 سب سے گرم ترین سال تھا اور اس کا درجہ حرارت معمول سے 1.29 درجے زیادہ تھا۔ اس سال اپریل میں بحرالکاہل کا درجۂ حرارت تاریخی بلندیوں پر دیکھا گیا ہے۔

اگرچہ سمندر کے درجہ حرارت میں یہ رد وبدل معمول کی بات ہے اور ایسا ہر سات سال بعد ہوتا ہے لیکن اس بار موسمیاتی ماہرین بحرالکاہل کی سطح پر کسی حیران کن تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔

 بحرالکاہل کی سطح پر ہر چند سال بعد وہ ہوائیں جو عام طور پر گرم پانی کو مغرب کی جانب دھکیلتی ہیں ان کی شدت کم ہو جاتی ہے جس سے پانی کی سطح گرم ہونا شروع ہو جاتی ہے یہ گرمی خطِ استوا سے مشرق کی جانب پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔

ہر سال اس میں تھوڑا بہت رد و بدل ہوتا رہتا ہے جس پر ماہرین گہری نظر رکھتے ہیں لیکن اس سال یہ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ رہا ہے۔

 ماہرین اس وقت خطرے کی گھنٹی بجا دیتے ہیں جب بحرالکاہل کے مرکزی حصے کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے دو سینٹی گریڈ زیادہ ہو جائے۔

ریکارڈ شدہ تاریخ میں ایسا صرف تین بار ہوا ہے پہلی بار 1982-83، دوسری بار 1997-98 اور تیسری بار 2015-16 میں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ 1876 میں بھی ایک سپر ایل نینیو تشکیل پایا تھا جس سے عالمی سطح پر قحط شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں دنیا میں تقریباً پانچ کروڑ لوگ جان سے گئے تھے۔

 بحر الکاہل کی سطح پر اس سال اپریل میں جو درجہ حرارت ریکارڈ ہوا ہے وہ پہلے کسی بھی سال کے اپریل کے درجہ حرارت سے آدھا سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔

جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جس سے ماہرین یہ استدلال کر رہے ہیں کہ یہ اس سال کے موسم ِ خزاں تک ڈھائی سے تین سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے جو صرف ال نینو نہیں بلکہ سپر ال نینو بن جائے گا۔

سپر ایل نینیو کرے گا کیا؟

ایل نینیو کے اثرات دنیا بھر میں پڑتے ہیں۔ سمندروں سے نکلنے والی خوراک سے لے کر زمین سے اگنے والی فصلوں تک ہر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

جہاں نمی زیادہ ہوتی ہے وہاں اس کی جگہ خشکی لے لیتی ہے۔ جنگلات خشک ہو کر آگ پکڑ لیتے ہیں اور جو علاقے خشک ہوتے ہیں وہاں نمی آ جاتی ہے۔ یعنی جن علاقوں سے دنیا کی فوڈ سیکورٹی وابستہ ہوتی ہے وہاں پیداوار خاصی کم ہوجاتی ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کوئی عام سال نہیں ہے عالمی درجہ حرات جو صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.4 درجے زیادہ ہے اور ان حالات میں اگر ایک سپر ایل نینیو تشکیل پاتا ہے تو یہ ایسی ہولناک تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے جس کا مشاہدہ اس سے پہلے کی انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہو گا۔

 اس سے پہلے 1982-83 میں جو ایل نینیو آیا تھا اس سے عالمی معیشت کو4.1 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا تھا 1997-98 میں یہ نقصان 5.7 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔

لیکن اس سال اگر یہ اندازوں کے مطابق سپر ایل نینیو تک پہنچتا ہے تو پھر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کو یہ کتنا بھاری پڑے گا۔ دنیا پہلے ہی آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے بحرانی کیفیت میں ہے ان حالات میں ایک قدرتی آفت اسے ایک اور خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔

پاکستان کو کس قدر خطرہ ہے؟

ایل نینیو جب بھی ظاہر ہوا ہے اس نے پاکستان اور ہندوستان میں مون سون کی بارشوں کے نظام پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔ کبھی مون سون کم بارشیں دیتا ہے اور کبھی شدید بارشیں سیلاب کا باعث بن جاتی ہیں۔ 

ماہرین قیاس کرتے ہیں کہ 1876-78 میں بنگال کا قحط جس سے ہندوستان کی کل آبادی کے پانچ فیصد لوگ مر گئے تھے یہ بھی سپر ال نینو کا شاخسانہ ہی تھا۔

اُس وقت ہندوستان کی کل آبادی 25 کروڑ کے لگ بھگ تھی جس میں سے ایک کروڑ لوگ اس قحط کا نشانہ بن گئے تھے۔

ڈاکٹر محمد افضال جو پاکستان کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ہیں انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس علاقے میں سپر ایل نینیو کے اثرات 1877 میں سامنے آئے تھے۔

2026 کے حوالے سے موسمیاتی ماہرین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 90 فیصد امکانات ہیں کہ سپر ال نینو تشکیل پائے گا۔ جس کی وجہ سے مون سون کی بارشیں کم ہو سکتی ہیں اور ہیٹ ویوز زیادہ ہو سکتی ہیں۔ 

’درجہ حرات بڑھنے کا براہ راست اثر ہمارے پانی کے ذرائع اور فصلوں کی پیداوار پر پڑتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر موسمِ خزاں اور سردیوں میں پڑے گا ہو سکتا ہے کہ آنے والے سالوں میں ہم معمول سے زیادہ درجہ حرارت کو دیکھیں۔‘

پاکستان کے نامور ماہرِ موسمیات ڈاکٹر محمد حنیف کہتے ہیں کہ اسے سپر ایل نینیو کہہ کر بہت زیادہ خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے اس کی بجائے اسے طاقتور ایل نینیو کہنا زیادہ مناسب ہو گا.

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں1997 میں جب ایل نینیو آیا تھا تو مون سون پر تو اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا لیکن سردیوں کی بارشوں میں کمی ہو گئی تھی۔ 

’پاکستان میں مون سون کے تین حصے ہوتے ہیں لیکن اس کا زیادہ اثر مون سون کے تیسرے حصے، سردیوں اور اس کے بعد آنے والے موسم بہارپر زیادہ ہو گا کیونکہ تب ال نینو اپنے جوبن پر ہو گا۔ اگر اس کا دورانیہ بڑھ گیا تو پاکستان قحط کا شکار ہو جائے گا لیکن اس سے پہلے اس کے پیٹرن پر مسلسل نظر رکھنی ہو گی۔‘

پاکستان کا زرعی شعبہ اس کی مجموعی قومی پیداوار میں 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ 37 فیصد لوگوں کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پہلے ہی یہ شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے اور اس کی اہم فصلوں کی پیداوار 13.5 فیصد تک گر چکی ہے۔

سب سے زیادہ کمی کپاس کی فصل میں دیکھی گئی ہے جس کی پیداوار30 فیصد کم ہو چکی ہے۔ اس سال گندم کی پیداوار بھی مقررہ ہدف سے1.24 فیصد کم ہوئی ہے۔

 2015 میں شدید ایل نینو تشکیل پایا تھا جب بحرالکاہل کی سطح کا درجہ حرارت ڈھائی درجے تک بڑھ گیا تھا۔ اس سے کراچی میں گرم ہوا کی لہر آئی تھی جس سے سینکڑوں اموات ہوئی تھیں۔

 پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں اس سال معمول سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جس سے گلیشیئرز کے پھٹنے اور سیلابوں کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ