ایشیا میں سیلاب اور سمندری طوفانوں سے 700 سے زیادہ اموات، سینکڑوں لاپتہ

متاثر ہونے والے ممالک میں ملائیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ ارو انڈیا شامل ہیں، جہاں 40 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے جبکہ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

26 نومبر 2025 کو رائل تھائی نیوی کی طرف سے جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں لوگوں کو ہاٹ یائی میں سیلابی پانی میں گھری رہائشی عمارتوں سے باہر دیکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)

کئی ایشیائی ممالک میں تباہ کن سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 750 سے تجاوز کر گئی ہے، جب انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور سری لنکا میں طوفانوں نے کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ بارشیں کی ہیں۔

غیر معمول سمندری طوفان سینیار انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ سے گزرنے سے جنوب مشرقی ایشیا میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے، جب کہ طاقتور طوفان ڈتوا سری لنکا اور انڈیا سے ٹکرایا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 40 لاکھ سے زیادہ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں تقریباً 30 لاکھ جنوبی تھائی لینڈ اور 11 لاکھ مغربی انڈونیشیا میں ہیں۔

انڈونیشیا میں آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ ملک میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے مرنے والوں کی تعداد ہفتے کو بڑھ کر 417 ہو گئی، جو ہفتے کے شروع میں 174 تھی۔

کم از کم 279 افراد لاپتہ ہیں، یہاں تک کہ تقریباً 80,000 کو نکال لیا گیا ہے، اور سینکڑوں اب بھی انڈونیشیا کے مغربی علاقے سماٹرا کے تین صوبوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

پولیس کے ترجمان فیری والنٹوکان نے کہا کہ سماٹرا میں بہت سے لوگ زندہ رہنے کے لیے کھانا اور پانی چوری کرنے پر مجبور ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن بحال کرنے کے لیے علاقائی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ لاجسٹک امداد پہنچنے سے پہلے لوٹ مار ہوئی۔ 

’(مقامیوں) کو معلوم نہیں تھا کہ امداد آئے گی اور فکر مند تھے کہ وہ بھوکے مر جائیں گے۔‘

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں لوگوں کو خوراک، ادویات اور گیس کے حصول کے لیے رکاوٹوں، سیلاب سے بھری سڑکوں اور ٹوٹے ہوئے شیشے کے پیچھے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ 

کچھ لوگوں کو کنوینیئنس سٹورز تک پہنچنے کے لیے کمر تک گہرے سیلابی پانی میں سے گزرتے ہوئے دیکھایا گیا۔

بدھ کو سماٹرا میں شدید بارشوں نے تباہی مچانا شروع کر دی، جس سے بڑے پیمانے پر سیلاب آیا جس سے کئی قصبے ڈوبے اور سڑکیں بہہ گئیں۔  

لینڈ سلائیڈنگ نے جزیرے کے شمال میں تمام کمیونٹیز کو منقطع، مواصلاتی ڈھانچے کو تباہ اور اہم راستوں کو ناقابل استعمال بنا دیا ہے۔ تین دنوں سے ناقابل رسائی علاقوں میں امداد اور سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر تعینات کیے گئے ہیں۔

ایجنسی کے سربراہ سہاریانتو نے کہا، ’ہم شمالی تپانولی سے سیبولگا تک کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو تیسرے دن سے مکمل طور پر منقطع ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

تھائی لینڈ میں 170 افراد جان سے جا چکے ہیں اور سیلاب نے 38 لاکھ افراد پر مشتمل 14 لاکھ گھرانوں کو متاثر کیا۔ 

بینکاک میں ایک حکومتی ترجمان نے بتایا کہ موسلا دھار بارشوں سے 12 جنوبی صوبوں کے کچھ حصے زیر آب آگئے، کم از کم آٹھ میں ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی۔

موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی موسم، ایک جزوی طور پر سمندری طوفان سینیار کے ذریعے چلایا گیا، جو کہ آبنائے ملاکا میں ایک غیر معمولی طور پر نایاب نظام بنا۔

سونگکھلا کے سب سے بڑے شہر ہاٹ یائی میں گذشتہ جمعے کو 335 ملی میٹر (13 انچ) بارش ہوئی، جو کہ شدید بارش کے دنوں میں 300 سالوں میں ایک دن کی سب سے زیادہ بارش تھی۔

پڑوسی ملک ملائیشیا میں تعداد تو کم ہے لیکن نقصان کا پیمانہ شدید ہے۔

وسیع پیمانے پر سیلاب نے شمالی پرلیس کے بڑے حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے دو افراد جان سے گئے اور دسیوں ہزار افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور کر دیا۔

مزید مغرب میں سری لنکا سمندری طوفان دتوا سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور وہاں مرنے والوں کی تعداد 193 تک پہنچ گئی ہے۔

ملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق، 228 سے زیادہ لوگ اب بھی لاپتہ ہیں اور تقریباً 78,000 بے گھر ہو چکے ہیں۔ 

امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم حکام کے خیال میں اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔  

ہفتے کو جزیرے سے آنے والی ویڈیوز میں گھروں، سڑکوں اور کھیتوں کو سیلاب کے پانی میں لپیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ فلپائن میں ٹائفون کوٹو اور آبنائے ملاکا میں نایاب طوفان سینیار کے امتزاج سے پورے خطے میں شدید حالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا