|
تازہ ترین
|
جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال — چوتھے دن کا احوال — پانچویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں
رات 11 بج کر 05 منٹ: ایران پر زمینی کارروائی مخالفین کے لیے ’تباہی‘ ثابت ہو گی: عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ زمینی حملے کے لیے تیار ہے اور اس طرح کا اقدام اسلامی جمہوریہ کے مخالفین کے لیے ’تباہی‘ ثابت ہوگا۔
عراقچی نے امریکی نیوز چینل این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم ان کا مقابلہ کر سکتے یں اور یہ ان کے لیے بہت بڑی تباہی ہوگی۔‘
رات 9 بج کر 30 منٹ: ایران کی آذربائیجان پر ڈرون حملے کی تردید، اسرائیلی سازش قرار
خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ حملہ نہیں کیا اور اس کا الزام اسرائیل پر لگایا ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’صیہونی حکومت کے ایسے اقدامات، جو مختلف طریقوں سے مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے ہیں، کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جمعرات کو اپنے آذربائیجانی ہم منصب جہون بیراموف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اس بات کی تردید کی کہ ایران نے آذربائیجان پر کوئی پروجیکٹائل داغا ہے۔
انہوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے حملوں میں اسرائیلی حکومت کا کردار ہے جس کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا اور ایران کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔‘
ایران کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے جمعرات کو ایران پر ’دہشت گردی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
اس سے قبل آذربائیجان کے علاقے نخچیوان ڈرون حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے سے مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق حملے میں کم از کم چار ڈرون استعمال کیے گئے جو ایران سے میں داخل ہوئے۔ آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فوج نے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا جبکہ دیگر ڈرونز شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
رات 9 بج کر 10 منٹ:ایران کے مبینہ ڈرون حملوں کے بعد آذربائیجان کی جوابی کارروائی کی دھمکی
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے جمعرات کو ایران پر ’دہشت گردی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آذربائیجان کے علاقے نخچیوان ڈرون حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے سے مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق حملے میں کم از کم چار ڈرون استعمال کیے گئے جو ایران سے میں داخل ہوئے۔ آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فوج نے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا جبکہ دیگر ڈرونز شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
دوسری جانب ایران نے حملے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار آذربائیجان کے اتحادی اسرائیل کو قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنا ہے۔
رات 8 بج کر 20 منٹ: ’کوئی بھی اسرائیل کے لیے لڑنا نہیں چاہتا‘: سابق امریکی فوجی کا کانگریس میں احتجاج
ایران جنگ پر امریکی کانگریس کے اجلاس کے دوران ایک سابق فوجی افسر نے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی میں مداخلت کی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں زبردستی گھسیٹ کر باہر نکال دیا۔
اس دوران ہونے والی ہاتھا پائی میں ان کا بازو ٹوٹ گیا۔
’اسرائیل کے لیے کوئی لڑنا نہیں چاہتا‘: سابق امریکی فوجی جنہیں سینیٹ کی آرمڈ فورسز سب کمیٹی سے گھسیٹ کر نکالا گیا#Independenturdu #Israel #US pic.twitter.com/uKG1tZipxu
— Independent Urdu (@indyurdu) March 5, 2026
احتجاج کرنے والے شخص کی شناخت سابق امریکی میرین برائن میگینِس کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز سب کمیٹی کے اجلاس کے دوران نعرے لگائے کہ ’کوئی بھی اسرائیل کے لیے لڑنا نہیں چاہتا۔‘
واقعے کی ویڈیو جنگ مخالف خواتین کے گروپ ’کوڈ پنک‘ نے سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار برائن میگینِس کو اجلاس سے باہر لے جا رہے ہیں۔
بعد میں انہیں ٹوٹے ہوئے بازو کے ساتھ ایک راہداری میں دیوار کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا گیا جبکہ متعدد سکیورٹی اہلکار ان کے ارد گرد موجود تھے۔
ایک خاتون عینی شاہد کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں باہر نکالتے وقت پکڑ کر دروازے سے گزارنے کی کوشش کی جس دوران ان کا بازو دروازے میں پھنس کر ٹوٹ گیا۔ خاتون نے کہا کہ اہلکاروں نے انہیں زمین پر بھی گرا دیا اور صورت حال بہت کشیدہ ہو گئی تھی۔
رات 7 بج کر 09 منٹ: ابوظبی میں ڈرونز کا ملبہ گرنے سے پاکستانی، نیپالی شہری زخمی: میڈیا آفس
ابوظبی میں حکام نے جمعرات کو بتایا ہے کہ ان فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا جس کے نتیجے میں ملبہ گرنے سے چھ پاکستانی اور نیپالی شہری زخمی ہوئے ہیں۔
ابظبی میڈیا آفس نے ایکس پر بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی کیڈ 2 (ICAD-2) کے دو مقامات پر ڈرونز کا ملبہ گرا ہے۔
Abu Dhabi authorities have responded to an incident of debris falling in two locations in ICAD 2, following the successful interception of drones by air defence systems. The incident resulted in minor and moderate injuries to six Pakistani and Nepali nationals.
The public is…
— مكتب أبوظبي الإعلامي (@ADMediaOffice) March 5, 2026
بیان کے مطابق ملبہ گرنے سے چھ پاکستانی اور نیپالی شہریوں کو معمولی اور درمیانے درجے کی چوٹیں آئی ہیں۔
میڈیا آفس نے عوام سے کہا ہے کہ وہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔
رات 7 بجے: تفتان بارڈر سے 37 سفارتکاروں سمیت 1979 افراد پاکستان داخل
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے جمعرات کو بتایا کہ ایران میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث تفتان بارڈر کے راستے پاکستان آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 37 سفارتکاروں سمیت مجموعی طور پر 1979 افراد پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں۔
ایران میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان کی تمام متعلقہ مشینری مکمل طور پر الرٹ اور متحرک ہے پاکستان، ایران سرحد کے راستے پاکستانی شہریوں سمیت غیر ملکیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جنہیں تفتان بارڈر پر ہر ممکن سہولیات اور ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے اب تک تفتان…
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) March 5, 2026
وزیر اعلیٰ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت بلوچستان کی تمام متعلقہ مشینری الرٹ ہے اور پاکستان، ایران سرحد کے راستے آنے والے پاکستانی شہریوں اور غیر ملکیوں کو تفتان بارڈر پر ضروری سہولیات اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔..
شام 5 بج کر 20 منٹ: اب تک 1000 سے زیادہ ایرانی ڈورنز کو مار گرایا گیا: یو اے ای
متحدہ عرب امارات نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے پانچ مارچ 2026 کو سات بیلسٹک میزائلوں میں سے چھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک میزائل ملک کی حدود میں آ گرا۔
وزارت دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسی دوران داغے گئے 131 ڈرونز میں سے 125 کو مار گرایا گیا جبکہ 6 ڈرون ملک کی حدود میں گرے۔
بیان کے مطابق ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 196 بیلسٹک میزائل فضائی حدود میں داخل ہوئے جن میں سے 181 کو تباہ کر دیا گیا جبکہ 13 سمندر میں جا گرے اور دو میزائل ملک کی حدود میں گرے۔
اسی طرح مجموعی طور پر 1072 ایرانی ڈرون شناخت کیے گئے جن میں سے 1001 کو مار گرایا گیا جبکہ 71 ڈرون ملک کے اندر گرے۔ مزید برآں آٹھ کروز میزائل بھی شناخت کیے گئے جنہیں تباہ کر دیا گیا۔
سہ پہر 4 بج کر 40 منٹ: خطے میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کے لیے حکومتی اقدامات
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ خطے کی بدلتی صورت حال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے ایران سے پاکستانی شہریوں کے انخلا اور بیرون ملک مختلف مقامات پر پھنسے پاکستانیوں کی مدد کے لیے پیشگی اقدامات کیے ہیں۔
ترجمان کے مطابق دفتر خارجہ کا کرائسز مینجمنٹ یونٹ 24 گھنٹے صورت حال کی نگرانی کر رہا ہے اور پاکستانی شہریوں کو ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کی ہدایات پر بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، جہاں پھنسے پاکستانیوں کو ویزا سہولت، سفری انتظامات اور دیگر لاجسٹک مدد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ رجسٹریشن پورٹلز، خصوصی ایپس اور ہیلپ لائنز بھی شروع کی گئی ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق فضائی رابطے جزوی طور پر بحال ہونے کے بعد پھنسے پاکستانی کمرشل پروازوں کے ذریعے واپس اپنے مقامات پر جانا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حفاظت اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے پرعزم ہے۔
بیان کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات پر بیرون ملک پاکستان کے سفارتی مشنز میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو ویزا سہولت، لاجسٹک معاونت اور سفری انتظامات میں مدد فراہم کی جا سکے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کے سفارتی مشنز نے بروقت رابطے اور مدد کی فراہمی کے لیے خصوصی ایپلی کیشنز، رجسٹریشن پورٹلز اور ہیلپ لائنز بھی شروع کی ہیں تاکہ پاکستانیوں کے لیے ضروری قونصلر سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوپہر 3 بج کر 34 منٹ: وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، ایران سے پاکستانیوں کے انخلا پر غور
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو اجلاس ہوا جس میں ایران سے پاکستانیوں کے انخلا اور خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی صورت حال پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں ایران سے پاکستانیوں کے انخلا کے لیے برادر ملک آذربائیجان کی مدد کو سراہا گیا اور شرکا کو ایران سے پاکستانیوں کے انخلاء کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران سے پاکستانی بحفاظت وطن واپس پہنچ رہے ہیں اور آذربائیجان میں پاکستانی سفارت خانہ پوری طرح متحرک ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر دفتر خارجہ اس ساری صورت حال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ ’اجلاس کو خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے پاکستانی سفارتخانوں کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔‘
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک میں پاکستانی سفارت خانے پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہر دم میسر رہیں۔
دوپہر 1 بج کر 45 منٹ: ایران پر حملوں کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قراداد پیش، غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ
پنجاب اسمبلی میں جمعرات کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی مشترکہ حملے کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کر دی گئی، جس میں فوری جنگ بندی اور حملوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی امتیاز محمود کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں کہا گیا کہ ’28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختار سرزمین پر فوجی حملے کیے جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔‘
قرارداد کے مطابق یہ ایوان اس بات پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں رپورٹس کے مطابق 1000 سے زائد افراد جان سے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے جبکہ رہائشی علاقوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔’خصوصاً جنوبی ایران کے شہر مینب میں ایک لڑکیوں کے سکول پر بمباری میں تقریباً 180 معصوم بچیوں کی شہادت ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جو انسانی اور اخلاقی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔‘
قرارداد میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے کئی افراد کی موت کو ’نہایت افسوس ناک‘ اور ’قابلِ مذمت واقعہ‘ قرار دیا۔
قرارداد میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور مینب کے سکول پر حملے سمیت شہری تنصیبات پر حملوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کروائی جائیں۔
دوپہر 1 بجے: ایران کا عراق میں موجود علیحدگی پسند کرد چھاپہ ماروں پر حملہ
اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ایران نے عراق میں کرد چھاپہ ماروں کو نشانہ بنایا، جب کہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے پھیلتی جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
جمعرات کو تہران نے کہا کہ اس نے عراق میں موجود کرد گروہوں پر حملہ کیا ہے، جب کہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ ایرانی کرد چھاپہ مار عسکریت پسندوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ ایران میں داخل ہو سکیں۔
ایرانی حملوں میں جلا وطن ایرانی کرد گروہ کے ایک رکن جان سے گئے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا: ’علیحدگی پسند گروہوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہوا کا رخ بدل گیا ہے اور وہ کارروائی کی کوشش کریں۔
’ہم انہیں کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے۔‘
یہ حملے اس بات کا مزید ثبوت تھے کہ یہ جنگ خطے بھر کی مختلف قوتوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، بلکہ اس سے بھی دور کے فریق اس میں شامل ہو رہے ہیں۔
دن 12 بج کر 45 منٹ: بندرگاہوں کی عارضی بندش کی خبریں ’جعلی‘ ہیں: پاکستانی وزارت اطلاعات
پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیکر نے سوشل میڈیا پر پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیر گردش نوٹیفیکیشن کو جعلی قرار دیا ہے۔
فیکٹ چیکر وزارت اطلاعات کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش جعلی نوٹیفیکیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ سکیورٹی صورت حال کے باعث پاکستان میں تمام بندرگاہوں کے داخلی راستوں کو 10 مارچ 2026 تک عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تاہم ’مذکورہ نوٹیفکیشن من گھڑت ہے۔‘
مزید کہا گیا کہ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن یا وزارتِ بحری امور کی جانب سے کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔
دن 12 بج کر 30 منٹ: ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر مزید حملے
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران نے جمعرات کی صبح اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے تہران پر’بڑے پیمانے کے‘ حملے کا آغاز کر دیا ہے۔
اسرائیل نے اپنی جانب آنے والے متعدد میزائل حملوں کا اعلان کیا اور تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں فضائی حملے سائرن بجنے لگے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ مزید حملوں میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ اس نے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کو ہدف بناتے ہوئے حملے کیے اور ایران کے دارالحکومت تہران میں ’بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی ایک بڑی لہر‘ شروع کر دی ہے۔
اسرائیل کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد تہران میں متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
صبح 11 بج کر 30 منٹ: ایرانی بحری جہاز پر حملہ: امریکہ اپنی قائم کردہ مثال پر بچھتائے گا، ایران
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا ہے کہ سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز کی جانب سے ایک ایرانی جنگی جہاز کو غرق کرنے کے بعد امریکہ ’اس قائم کردہ مثال پر سخت پچھتائے گا۔‘
عباس عراقچی کا یہ تبصرہ بحر ہند میں آئی آر آئی ایس دینا نامی جہاز کے غرق ہونے کا ایرانی حکومت کی جانب سے پہلا اعتراف ہے۔
انہوں نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ’امریکہ نے ایران کے ساحلوں سے دو ہزار میل دور سمندر میں ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔‘
انہوں نے لکھا: ’انڈیا کی بحریہ کے مہمان جنگی جہاز دینا کو، جس پر تقریباً 130 ملاح سوار تھے، بین الاقوامی پانیوں میں بغیر کسی انتباہ کے نشانہ بنایا گیا۔ میری بات یاد رکھیں امریکہ اپنی قائم کردہ اس مثال پر سخت پچھتائے گا۔‘
صبح 8 بجے: امریکی حمایت سے ایران کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں: ایران مخالف کرد
عراق کے شمالی حصے میں قائم ایران مخالف کرد گروہ کے حکام نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے اندر ممکنہ سرحد پار فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں، اور امریکی حکام نے عراقی کردوں سے کہا ہے کہ وہ ان کی حمایت کریں۔
اے پی کے مطابق کرد گروہوں کو بکھری ہوئی ایرانی اپوزیشن کا سب سے منظم حصہ سمجھا جاتا ہے اور خیال ہے کہ ان کے پاس ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو موجود ہیں۔ اگر وہ جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ تہران میں مشکلات کا شکار حکام کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے اور اس سے عراق کے اس تنازعے میں شامل ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
شمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں قائم کردستان آزادی پارٹی (پی اے کے) کے ایک عہدیدار خلیل ندیری نے بدھ کو کہا کہ ان کی کچھ فورسز صوبہ سلیمانیہ میں ایرانی سرحد کے قریب علاقوں میں منتقل ہو چکی ہیں اور تیار حالت میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرد اپوزیشن گروہوں کے رہنماؤں سے ممکنہ کارروائی کے حوالے سے امریکی حکام نے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے جب بدھ کو رپورٹرز نے یہ سوال کیا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ ایرانی کرد گروہوں کو ہتھیار دینے پر غور کر رہی ہے، تو انہوں نے کہا تھا: ’ہمارے مقاصد کسی خاص فورس کی حمایت یا اسے مسلح کرنے پر مبنی نہیں ہیں۔ دوسرے فریق کیا کر رہے ہیں، اس سے ہم آگاہ ہیں، لیکن ہمارے مقاصد اس کے گرد نہیں گھومتے۔‘
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے پہلے، جن سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ شروع ہوئی، پی اے کے نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تہران کی جانب سے احتجاجی مظاہروں پر سخت کریک ڈاؤن کے جواب میں نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب پر حملے کیے ہیں۔ تاہم گروہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ انہوں نے عراق سے ایران کے اندر کوئی فورس نہیں بھیجی۔
اے پی کے مطابق اگر ایرانی اور عراقی کرد گروہ اس جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ اس تنازعے میں کسی بڑی زمینی فوج کی پہلی شمولیت ہوگی۔ کرد جنگجو پہلے بھی شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف جنگ میں لڑائی کا تجربہ رکھتے ہیں۔
ایک اور ایرانی کرد گروہ کوملہ کے ایک عہدیدار نے نے سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کو کہا کہ ان کی فورسز ایک سے دس دن کے اندر سرحد عبور کرنے کے لیے تیار ہیں اور ’موزوں حالات کا انتظار کر رہی ہیں۔‘
ایران میں کردوں کی شکایات اور بغاوتوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جو موجودہ اسلامی جمہوریہ اور اس سے پہلے کی بادشاہت دونوں کے خلاف رہی ہیں۔ شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں کردوں کو دیوار سے لگایا گیا اور ان پر دباؤ ڈالا گیا، جس کے نتیجے میں بعض اوقات بغاوتیں بھی ہوئیں۔
سن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی مذہبی حکومت نے بھی کرد باغیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان لڑائیوں کے دوران ایرانی افواج نے کرد قصبوں اور دیہات کو تباہ کیا اور چند ماہ میں ہزاروں افراد مارے گئے۔
اگرچہ کرد گروہ موجودہ حکومت کو ہٹانے کی خواہش میں ایک دوسرے سے متفق ہیں، لیکن ان کے دیگر اپوزیشن گروہوں سے اختلافات بھی رہے ہیں، خاص طور پر سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے دھڑے سے، جنہوں نے کردوں پر ایران کو تقسیم کرنے کے ارادے کا الزام لگایا ہے۔
عراقی کرد جنگ میں شامل ہونے پر ہچکچاہٹ کا شکار
ممکنہ کارروائی نے عراق کے کرد خطے کی قیادت کو ایک نازک صورت حال میں ڈال دیا ہے۔
تین عراقی کرد عہدیداروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اتوار کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود بارزانی اور بافل طالبانی کے درمیان فون پر بات ہوئی۔ یہ دونوں بالترتیب کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ ہیں۔ گفتگو میں ایران کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک عہدیدار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی کردوں سے کہا کہ وہ ایران میں کارروائیوں کے دوران ایرانی کرد گروہوں کی فوجی مدد کریں اور سرحد کھول دیں تاکہ وہ باآسانی آ جا سکیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ نے کرد رہنماؤں سے شمالی عراق میں موجود امریکی فوجی اڈے کے حوالے سے بات کی تھی، لیکن کسی مخصوص منصوبے پر اتفاق کی تردید کی۔
عراقی کرد عہدیدار کے مطابق کرد قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر وہ براہِ راست جنگ میں شامل ہوئے تو ایران سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران اور اس کے اتحادی عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کی ایک لہر دیکھی گئی ہے جن کا ہدف امریکی فوجی اڈے، اربیل میں امریکی قونصل خانہ اور کرد گروہوں کے اڈے رہے ہیں۔
اگرچہ زیادہ تر حملے روک لیے گئے، لیکن شہریوں کے گھروں کو نقصان پہنچا اور سکیورٹی خدشات کے باعث ایک اہم گیس فیلڈ کی بندش کے بعد علاقے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
اپنے بیان میں پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے تصدیق کی کہ بافل طالبانی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی، جنہوں نے ’جنگ میں امریکہ کے مقاصد کے بارے میں وضاحت اور وژن فراہم کیا۔‘ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کا خیال ہے کہ بہترین حل مذاکرات کی میز پر واپسی ہے۔
عراق کی کرد علاقائی حکومت اور مسعود بارزانی کے ترجمانوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
عراق کی سرحد بند کرنے کی کوشش
شمالی عراق میں مسلح ایرانی کرد گروہوں کی موجودگی بغداد کی مرکزی حکومت اور تہران کے درمیان کشیدگی کا باعث رہی ہے۔
سن 2023 میں عراق نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ان گروہوں کو غیر مسلح کر کے سرحدی علاقوں سے ہٹا کر بغداد کی جانب سے مقرر کردہ کیمپوں میں منتقل کیا جانا تھا۔
اگرچہ ان کے فوجی اڈے بند کر دیے گئے اور عراق کے اندر ان کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی، لیکن گروہوں نے اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے۔
عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے فون پر درخواست کی کہ عراق دونوں ممالک کی سرحد پر کسی بھی اپوزیشن گروہ کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ عراق اس بات کا پابند ہے کہ ’کسی بھی گروہ کو ایرانی سرحد عبور کرنے یا عراقی سرزمین سے دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی اجازت نہ دی جائے‘ اور بتایا کہ سرحد پر مزید سکیورٹی دستے بھیجے جا چکے ہیں۔
اے پی کے مطابق ایران کے ممکنہ ردعمل کے علاوہ، اگر عراقی کرد سرحد پار حملوں میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے، جو حالیہ دنوں میں اربیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہیں۔
صبح 7 بجے: کویت کے قریب ٹینکر پر دھماکہ، عملہ محفوظ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز
برطانیہ کی یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے جمعرات کو کہا ہے کہکویت کے ساحل پر لنگر انداز ایک ٹینکر نے اطلاع دی ہے کہ اس کے بائیں حصے پر ایک بڑا دھماکا دیکھا گیا اور جہاز میں پانی داخل ہو رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دھماکے کے بعد ایک چھوٹی کشتی کو علاقے سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ یہ دھماکا خلیج میں کویت کی مبارک الکبیر بندرگاہ سے جنوب مشرق میں 56 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔
ادارے نے ایک ایڈوائزری نوٹ میں کہا: ’کارگو ٹینک سے تیل پانی میں آ رہا ہے جس کے کچھ ماحولیاتی اثرات ہو سکتے ہیں، جہاز میں پانی داخل ہو گیا ہے، کسی آتشزدگی کی اطلاع نہیں ہے اور عملہ محفوظ ہے۔‘
بعد ازاں کویت کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ملک کی علاقائی حدود سے باہر پیش آیا، جو مبارک الکبیر بندرگاہ سے کم از کم 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
صبح 6 بج کر 30 منٹ: امریکی حملے کا شکار ایرانی جہاز سے 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں: سری لنکن بحریہ
سری لنکا کی بحریہ نے بدھ کو بتایا کہ سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز سے داغے گئے ٹارپیڈو کی وجہ سے ڈوبنے والے ایک ایرانی جنگی جہاز میں سوار 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور 32 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ بحرِ ہند میں ڈوبنے والا ایرانی جہاز اسلامی جمہوریہ کا ’قیمتی جنگی جہاز‘ تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ چند مواقع میں سے ایک ہے جب کسی آبدوز نے کسی جہاز کو ڈبویا ہے۔
’آئی آر آئی ایس دینا‘ نامی جہاز کی تباہی اس امریکی۔اسرائیلی فوجی کارروائی کو ظاہر کرتی ہے جو ایران کے خلاف اس کی سرحدوں سے باہر تک پھیل رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ جنگ کے اہم مقاصد میں سے ایک ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک بریفنگ کے دوران کہا: ’ایک امریکی آبدوز نے ایک ایرانی جنگی جہاز کو ڈبو دیا جو سمجھ رہا تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ ہے۔‘ انہوں نے کہا: ’لیکن اسے ایک ٹارپیڈو نے ڈبو دیا۔‘
سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا کہ جب سری لنکا کی بحریہ کو آئی آر آئی ایس دینا سے مدد کا سگنل ملا، جس پر 180 افراد سوار تھے، تو اس نے امدادی کارروائی کے لیے جہاز اور طیارے روانہ کیے۔
تاہم بحریہ کے ترجمان کمانڈر بدھیکا سمپتھ نے کہا کہ جب سری لنکا کی بحریہ موقع پر پہنچی تو جہاز کا کوئی نشان نہیں تھا، ’صرف تیل کے کچھ دھبے اور لائف رافٹس نظر آ رہے تھے۔ ہم نے لوگوں کو پانی میں تیرتے ہوئے پایا۔‘
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ویڈیو میں ٹارپیڈو حملے کا لمحہ دکھایا گیا ہے۔ اس میں ایرانی جہاز کو زیرِ آب دھماکے سے نشانہ بنتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے وہ ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے اور پانی کا ایک بڑا فوارہ ہوا میں بلند ہو جاتا ہے۔
بدھیکا سمپتھ کے مطابق بچائے گئے 32 افراد کو سری لنکا کے جنوبی ساحل پر واقع شہر گال کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نکالی گئی لاشوں کو بھی خشکی پر لایا جا رہا ہے۔
گال کے نیشنل ہسپتال میں ایرانی ملاحوں کی لاشیں ٹرکوں میں پہنچائی جا رہی تھیں اور انہیں ایک عارضی مردہ خانے میں رکھا جا رہا تھا۔ ہسپتال کے اطراف سری لنکن پولیس اور بحریہ کے اہلکار تعینات تھے۔
وزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر انیل جَسنگھے نے کہا کہ بچائے گئے افراد میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے، سات کو ہنگامی طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ دیگر کو معمولی زخمی ہونے پر علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
آئی آر آئی ایس دینا، جو ایران کے جدید ترین جنگی جہازوں میں سے ایک تھا، گہرے سمندری پانیوں میں گشت کرتا تھا اور اس پر بھاری توپیں، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، جہاز شکن میزائل اور ٹارپیڈوز نصب تھے۔ اس پر ایک ہیلی کاپٹر بھی موجود تھا۔
فروری 2023 میں امریکی محکمہ خزانہ نے اس جہاز پر پابندیاں عائد کی تھیں، ساتھ ہی ایک ایرانی ڈرون بنانے والی کمپنی کے آٹھ اعلیٰ عہدیداروں پر بھی پابندیاں لگائی گئی تھیں جو یوکرین میں شہری اہداف کے خلاف استعمال کے لیے روس کو ہتھیار فراہم کرتی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق اس جنگ کے دوران اب تک کم از کم 17 ایرانی بحری جہاز ڈبوئے جا چکے ہیں۔