سعودی عرب اور قطر کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی ’شدید مذمت‘

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت ’برادر ملک بحرین اور برادر ملک کویت کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بزدلانہ ایرانی جارحیت کی شدید مذمت کرتی ہے۔‘

یکم اپریل، 2026 کو کویت کے ہوائی اڈے پر مبینہ ڈرون حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)

سعودی عرب اور قطر نے بدھ کو ایک بیان میں بحرین اور کویت پر ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مملکت ’برادر ملک سلطنت بحرین اور برادر ملک ریاست کویت کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بزدلانہ ایرانی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

’اس جارحیت میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کی متعدد اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص جان سے گیا اور متعدد زخمی ہوئے۔‘

قطر نے اپنے بیان میں ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ’قطر ان حملوں کو دونوں ممالک کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی، 1949 کے جینیوا کنونشنز اور ان کے اضافی پروٹوکولز کی کھلی خلاف ورزی، نیز بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں، خصوصاً شہریوں اور شہری تنصیبات کو فوجی تنازعات میں نشانہ بنانے کی ممانعت اور اندھا دھند حملوں کی پابندی، کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔‘

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق کویت نے بدھ کو ایرانی ڈرونز کی جانب سے ایک ٹرمینل کی عمارت کو شدید نقصان پہنچانے، ایک شخص کی موت اور مسافروں و ملازمین سمیت 63 افراد کو زخمی ہونے کے بعد اپنے مرکزی ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کر دیا۔

کویتی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل سعود عبدالعزیز العتیبی نے بتایا کہ ’متعدد جارحانہ ڈرونز‘ نے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ٹرمینل کو نشانہ بنایا۔

وزارت صحت کے ترجمان عبداللہ السند نے بتایا کہ کچھ افراد کو شدید چوٹیں آئیں۔ انڈین سفارت خانے نے تصدیق کی کہ مرنے والا شہری انڈین تھا۔

کویت کی وزارت خارجہ نے کہا ان کا ملک ایران کو جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور وہ ان حملوں کو ’نہ قبول کرے گا اور نہ ہی برداشت کرے گا۔‘

سول ایوی ایشن حکام کے مطابق ہوائی اڈے کو بعد میں جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا گیا۔

دریں اثنا، امریکی فوج نے کہا کہ ایران نے کویت پر دو میزائل داغے جو راستے میں تباہ ہو گئے اور اس نے ملک میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے ’متعدد ڈرونز کو مار گرایا۔‘

فوج نے یہ بھی بتایا کہ امریکی اور بحرینی افواج نے خلیجی سلطنت کی طرف آنے والے میزائلوں کو فضا میں ہی روک دیا، جو امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈ کوارٹر ہے۔

بحرین کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی فوج نے ایران کی طرف سے داغے گئے تین میزائلوں اور متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کی نیم فوجی پاسداران انقلاب نے اعتراف کیا کہ اس نے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور ایک دوسرے ملک میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، تاہم اس نے کویت کا نام نہیں لیا۔

امریکہ اور ایران دونوں نے کہا کہ وہ گذشتہ حملوں یا حملوں کی کوششوں کا بدلہ لے رہے تھے۔

امریکی فوج نے یہ بھی کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی فوجی گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن پر حملے کیے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے قشم جزیرے پر امریکی حملوں کی مذمت کی، جہاں اس کا کہنا ہے کہ ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نشانہ بنایا گیا اور دیگر گذشتہ حملوں کی بھی مذمت کی۔

ان حملوں کے بعد ایک سینیئر اماراتی سفارت کار نے ایران کے خلاف ’ایک مضبوط، متحد اور یکجا خلیجی موقف‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

انور گرگاش نے ایکس پر لکھا ’یہ جارحیت کسی ایک مخصوص ریاست کو نشانہ نہیں بناتی، بلکہ ہم سب کو نشانہ بناتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا