اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر ايتمار بن غفير نے جمعرات کو سینکڑوں یہودیوں کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد الاقصیٰ کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا جو ان انتظامات کی خلاف ورزی ہے جن کے تحت وہاں صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت ہے۔
ايتمار بن غفير کے اس اقدام کی اردن اور فلسطینی حکام کی جانب سے مذمت کی گئی۔
مسلم حکام کے ساتھ دہائیوں پرانے ایک نازک انتظام کے تحت اس کمپاؤنڈ کا انتظام اردن کے ایک مذہبی ادارے کے پاس ہے اور یہودی وہاں آ تو سکتے ہیں لیکن اپنے مذہبی امور انجام نہیں دے سکتے۔
اسرائیل کی جانب سے ان قواعد میں تبدیلی کی کسی بھی تجویز نے ماضی میں مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔
جمعرات کو ايتمار بن غفير کے اس اقدام کے بعد فوری طور پر کسی بدامنی کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ اقدام یہودیوں کے مذہبی تہوار کے موقع پر کیا گیا، جو سوگ کا دن ہے جس میں قدیم یہودی ہیکل کی تباہی کو یاد کیا جاتا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ايتمار بن غفير نے ایک ویڈیو میں کہا: ’اس دن ہم تباہی کو یاد کرتے ہیں، لیکن ہم ٹیمپل ماؤنٹ پر بڑی پیش رفت بھی دیکھ رہے ہیں۔ دیکھیں یہاں (مسجد اقصیٰ میں) کیا ہو رہا ہے، یہودی یہاں اپنے مذہبی عقائد پر عمل کر رہے ہیں اور خود کو اس جگہ کا مالک محسوس کر رہے ہیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اردن کی وزارت خارجہ اور فلسطینی وزارت مذہبی امور دونوں نے ايتمار بن غفير کے اس اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ یہ موجودہ حیثیت (سٹیٹس کو) کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
اردن نے کہا کہ ايتمار بن غفير کا یہ اقدام ’مسجد کی بے حرمتی، کشیدگی میں اضافہ، ایک وحشیانہ اقدام اور ناقابل قبول اشتعال انگیزی‘ ہے۔
اس حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ماضی میں ايتمار بن غفير کے ایسے بیانات اور اقدامات کے بعد نیتن یاہو کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ اسرائیل کی اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کے تحت سٹیٹس کو برقرار رکھا جائے گا۔