پاکستان کی وزارت داخلہ نے جمعرات کو بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود سے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے پر وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
اس سے قبل واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ڈرون آپریشن کو نشانہ بنانے کے لیے حملے کا دعویٰ کیا تھا۔
تازہ حملوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں نافذ ہونے والی عارضی جنگ بندی کی خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے امن معاہدے کی امیدیں مدہم پڑ گئی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
محسن نقوی نے سعودی شہزادے عبدالعزیز بن سعود کے ساتھ ملاقات کے دوران سکیورٹی اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی۔
پاکستانی وزارت داخلہ نے بتایا ’دونوں وزرائے داخلہ نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
’سعودی عرب کے وزیر داخلہ نے کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔‘
پاکستان، جو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم ثالث ہے، اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہوا تھا اور جس کے جواب میں تہران نے خلیجی ممالک پر حملے کیے ہیں۔
سعودی عرب، چین، قطر، ترکی اور کئی دوسرے ممالک نے اس بحران کو ختم کرنے کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کی حمایت کی ہے، جس نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی کارگو اور توانائی کی فراہمی کو معطل کر دیا ہے۔
پاکستان نے اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کی میزبانی کی تھی اور حالیہ ہفتوں میں تعطل کے شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ نے ایرانی سرکاری ٹی وی کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسے ایک غیر سرکاری معاہدے کا مسودہ موصول ہوا ہے جس کے تحت ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے گا اور ایران اور عمان مشترکہ طور پر ٹریفک کا انتظام سنبھالیں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ نے کہا کہ کسی ایک ملک کا اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول نہیں ہوگا اور انہوں نے بظاہر عمان کو دھمکی بھی دی، جس کے ساتھ امریکہ کے کئی دہائیوں پر محیط فوجی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔
ٹرمپ نے کہا، ’کوئی بھی اس (آبنائے) پر کنٹرول نہیں کرنے جا رہا۔ یہ بین الاقوامی سمندری حدود ہے اور عمان کو بھی باقی سب کی طرح ہی رویہ رکھنا ہوگا ورنہ ہمیں انہیں اڑانا پڑے گا۔ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں، وہ ٹھیک رہیں گے۔‘
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کو ایک بیان میں بندر عباس پر امریکی حملے کی مذمت کی۔
بقائی نے کہا ایران نے ’امریکی حکام کی دھمکیوں‘ کے بعد عمان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ابھی تک ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر مطمئن نہیں اور امریکہ اس ملک پر سے پابندیاں نرم کرنے پر بات چیت نہیں کر رہا۔
ایک فریم ورک معاہدے کے بارے میں ایرانی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کر دے گا اور ایران کے ارد گرد کے علاقوں سے اپنی افواج کو واپس بلا لے گا۔
اس رپورٹ میں ایران کے جوہری پروگرام کا کوئی ذکر نہیں تھا، جسے امریکہ ختم کرنا چاہتا ہے۔