اسحاق ڈار آج روبیو سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بات کریں گے

اسحاق ڈار کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ ایم او یو پر اتفاق ہو گیا تاہم اس کے لیے صدر ٹرمپ کی منظوری باقی ہے۔

اسحاق ڈار جمعے کو روبیو سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بات کریں گے: دفتر خارجہ

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار رواں ہفتے دورہ امریکہ کے دوران واشنگٹن میں آج (جمعے کو) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے جس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور اسلام آباد کی امن کوششوں پر بات کی جائے گی۔

فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور اپریل میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان غیر معمولی براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔

اسلام آباد نے بارہا اس تنازع میں مذاکرات اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے، جس نے عالمی کارگو اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو جاری بیان میں بتایا کہ اسحاق ڈار نیویارک میں اپنی ملاقاتیں مکمل کرنے کے بعد جمعے کو واشنگٹن ڈی سی روانہ ہوں گے، جہاں وہ مارکو روبیو سے ملاقات کر کے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بات کریں گے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا: ’مذاکرات میں اہم ترجیحی شعبوں میں تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحاق ڈار واشنگٹن میں مصروفیات مکمل کرنے کے بعد اسی روز اسلام آباد واپس روانہ ہو جائیں گے۔

اسحاق ڈار کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان  جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے 60 روزہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق ہو گیا تاہم اس کے لیے صدر ٹرمپ کی منظوری باقی ہے۔

28  فروری سے جاری اس جنگ میں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں اور عالمی توانائی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔

ایران، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث پاکستان نے خود کو امریکہ-ایران تنازع میں ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔

پاکستانی حکام نے ریاض، بیجنگ، دوحہ اور دیگر عالمی دارالحکومتوں سے بھی رابطے کیے اور ثالثی کی کوششوں کے لیے ان کی حمایت حاصل کی۔


امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے، ٹرمپ سے منظوری باقی: امریکی میڈیا

نیوز ویب سائٹ ایکسیوز نے جمعرات کو دو امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے 60 روزہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق ہو گیا، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری باقی ہے۔ روئٹرز


سعودی عرب کی کویت پر حملوں کی مذمت

سعودی عرب نے جمعرات کو ایک بیان میں کویت پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت اور مخالفت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا ’مملکت اس بات پر زور دیتی ہے کہ وہ ریاستوں کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی اور خطے کی سلامتی و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے۔

’مملکت سعودی عرب، ریاست کویت کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور کویت کی جانب سے اپنی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ اور اپنے برادر عوام کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔‘


ایران کی بندرعباس پر امریکی حملوں کی مذمت: ’اقدام ناقابل قبول‘ قرار

ایران نے جمعرات کو بندرعباس کے علاقوں پر ہونے والے امریکی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں اس کارروائی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے امریکہ کے اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران اس حملے کو اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام سمجھتا ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔


امریکہ نے آبنائے ہرمز سٹریٹ اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دیں

امریکہ کے محکمہ خزانہ نے بدھ کے روز ایران کی خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو تہران کا نیا ادارہ ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی فوج کی جانب سے عالمی سمندری تجارت سے زبردستی رقم وصول کرنے کی حالیہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ ’اکنامک فیوری‘ پالیسی نے ایرانی حکومت کو مالی طور پر دباؤ میں ڈال دیا ہے۔‘

بیان میں خبردار کیا گیا کہ جو بھی اس اتھارٹی کو فیس ادا کرے گا، وہ ممکنہ طور پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی معاونت کر رہا ہوگا اور اس طرح وہ بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسیوں کے باعث ایران کو ہتھیاروں کے پروگرام، پراکسی گروپس اور جوہری منصوبوں کے لیے وسائل حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے مطابق امریکہ ایران کو ’دسیوں ارب ڈالر‘ کی آمدن تک رسائی حاصل کرنے سے روکنے میں کامیاب رہا ہے۔

20 مئی کو ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ایرانی خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی نے ایک نقشہ بھی شیئر کیا، جس میں اپنی ’ریگولیٹری حدود‘ کی وضاحت کی گئی۔ اس نقشے میں آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف مخصوص حدود دکھائی گئی ہیں، جہاں سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت درکار ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے جنگ بندی برقرار ہے، جبکہ سفارتی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم اس کے باوجود ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر اپنا کنٹرول سخت کر دیا ہے، جبکہ امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایرانی اہداف پر حملے بھی کیے ہیں۔


اسرائیل کے جنوبی لبنان میں صور شہر اور گرد و نواح پر حملے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے شہر صور اور اس کے گرد و نواح میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، اس سے قبل شہریوں کو علاقے سے انخلا کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی حزب اللہ کے خلاف کی جا رہی ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’اسرائیلی فوج اس کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔‘

فوج نے شہر کے بعض مخصوص علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر خالی کر کے دریائے زہرانی کے شمال کی جانب منتقل ہو جائیں۔ اسرائیلی حکام نے خبردار کیا کہ ان علاقوں میں رہنے والے افراد اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

بعد ازاں اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر جاری ایک اور بیان میں کہا کہ اس نے صور کے علاقے میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعرات کی صبح اسرائیل نے شہر صور اور اس کے مشرقی علاقوں میں دو الگ الگ حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس سے علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔


ایران کا امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے جمعرات کو فضائی حملوں کے جواب میں ایرانی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا ہے کہ ’آج صبح قابض امریکی فوج کی جانب سے بندر عباس ایئرپورٹ کے نواح میں ایک مقام پر فضائی گولہ باری کے ذریعے کی گئی جارحیت کے بعد، اس حملے کے جواب میں امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔‘

رپورٹ میں امریکی فوجی اڈے کے مقام کے حوالے سے تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں تاہم کویت نے کہا ہے کہ جمعرات کی صبح اس کی جانب میزائل اور ڈرونز داغے گئے۔


آبنائے ہرمز پار کرنے کی کوشش کرنے والی چار کشتیوں پر فائرنگ: ایرانی میڈیا

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے چار جہازوں پر وارننگ فائرنگ کی، جس کے بعد انہیں واپس لوٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا، اسی دن جب امریکہ نے جنوبی ایران میں تازہ فضائی حملے کیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آئی آر آئی بی نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’چار جہازوں نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ رابطہ کیے بغیر آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج فارس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔‘

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 12 بج کر 35 منٹ پر پیش آیا، تاہم جہازوں کی شناخت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق جہازوں کو پہلے انتباہ دیا گیا، لیکن جب انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو وارننگ شاٹس فائر کیے گئے، جس کے بعد وہ واپس جانے پر مجبور ہو گئے۔


امریکہ کے ایران پر نئے حملے، بندرعباس میں کنٹرول سٹیشن کو نشانہ بنایا: امریکی فورسز

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے جمعرات کو جنوبی ایران میں نئے فضائی حملے کیے ہیں۔

یہ کارروائی اُس وقت سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے امن معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو امریکہ ’کام مکمل‘ کر دے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق جمعرات کی صبح بندر عباس شہر میں تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ حملے اس ہفتے کے آغاز میں ہونے والی امریکی کارروائیوں کے بعد کیے گئے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے اہلکاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب خطرہ بننے والے ایران کے چار ڈرونز کو مار گرایا۔

امریکی فوجی اہلکار کے مطابق امریکی فورسز نے بندر عباس میں ایک زمینی کنٹرول سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا، جہاں سے پانچواں ڈرون لانچ ہونے والا تھا۔

پیر کی رات ہونے والے حملوں کے باوجود ایران نے بدھ کو کہا تھا کہ جنگ کا دوبارہ آغاز بعید لگتا ہے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ اس کی فوج مکمل طور پر تیار حالت میں ہے۔ ان متضاد بیانات نے 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اب تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ موجودہ پیشرفت سے مطمئن نہیں، تاہم یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر فوجی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مذاکرات کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی بھی ہے، جسے ایران نے عملی طور پر بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب لبنان میں اسرائیل نے جنوبی شہر صور کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا اور حزب اللہ کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا۔ ٹرمپ نے عمان کو بھی خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی پانی ہے اور اسے سب کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔

ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہلکار نے کہا کہ دشمن کی کمزوری کے باعث جنگ کا امکان کم ہے، لیکن اگر حملہ ہوا تو ایران کی فوج مکمل تیاری کے ساتھ جواب دے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا