انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اتوار کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے ثالثی کردار پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شراکت دار خود منتخب کرے۔
نئی دہلی میں امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں جب ایک صحافی نے انڈین وزیر خارجہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستانی کردار کے بارے انڈیا کو اعتراض ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’شراکت داری پر یہ امریکہ کا فیصلہ ہے‘، لیکن اس معاملے سمیت دیگر امور پر انڈیا اور امریکہ کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جے شنکر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں واضح طور پر ’امریکہ فرسٹ‘ کا مؤقف اپنایا تھا، جبکہ انڈیا بھی ’انڈیا فرسٹ‘ کے اصول پر عمل کرتا ہے۔
انڈین وزیر خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے اور امریکی اور ایرانی قیادت بارہا پاکستان کے اس کردار کی تعریف کر چکے ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایکس پر جاری ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان جلد امریکہ اور ایران کے درمیان مذکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اتوار کو کہا کہ مذاکرات میں ’بامعنی پیش رفت‘ ہوئی ہے، جس سے اس امید کو تقویت ملتی ہے کہ ایک مثبت اور پائیدار نتیجہ جلد حاصل کر لیا جائے گا۔
ایران کے ساتھ ’نمایاں‘ پیش رفت ہوئی ہے: روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر ٹول کے کھولنے کے لیے ایک ’خاکے‘ پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس کے لیے ایران کی مکمل منظوری اور پھر عمل درآمد ضروری ہوگا۔
کواڈ اجلاس میں شرکت کرنے والے روبیو نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات، جن میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، میں پیش رفت ہوئی ہے جو نمایاں ہے مگر حتمی نہیں۔
روبیو نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے خلیجی خطے کے شراکت داروں کے ساتھ گزشتہ 48 گھنٹوں میں ایک خاکے پر پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو نہ صرف آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل سکتی ہے بلکہ اس پر کسی قسم کا ٹول بھی نہیں ہوگا، اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی خدشات کو بھی حل کیا جا سکے گا۔
روبیو نے واضح کیا کہ اس کے لیے ایران کی مکمل منظوری اور عملی اقدامات ضروری ہوں گے، جبکہ تفصیلات طے کرنے کے لیے مزید مذاکرات بھی درکار ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی رات پاکستان سمیت خطے کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات چیت کی، جس میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے اور اب حتمی شکل دیے جانے کا منتظر ہے۔
روبیو نے کہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام ایک پیچیدہ اور تکنیکی معاملہ ہے، جسے حل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی ترجیح اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے اور اسی پر کام جاری ہے۔
روبیو نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے اچھی خبر مل سکتی ہے، تاہم انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ اب تک پیش رفت اہم ہے مگر حتمی نہیں۔