وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بدھ کو کہا کہ سعودی عرب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سفارت کاری کو موقع دینے کے فیصلے اور پاکستانی کی ثالثی کی کوششوں کو سرہراتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ انہوں نے خلیجی ریاستوں کی درخواست پر ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے فوری منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا تھا: ’قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ایران پر ہمارے شیڈولڈ فوجی حملے کو، جو کل کے لیے طے تھا، روک دیں کیونکہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔‘
ایکس پر جاری اپنے بیان میں فیصل بن فرحان نے کہا کہ یہ اقدام جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی سکیورٹی اور آزادی کو 28 فروری 2026 سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے اور متنازع امور کو خطے کے امن و استحکام کے مطابق حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اس حوالے سے پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں کو بھی سراہا۔
The Kingdom of Saudi Arabia highly appreciates the US President Donald Trump's decision to give diplomacy a chance to reach an acceptable agreement to end the war, restore the security and freedom of maritime navigation in the Strait of Hormuz to its state prior to February 28th,…
— فيصل بن فرحان (@FaisalbinFarhan) May 20, 2026
فیصل بن فرحان نے امید ظاہر کی کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے فوری مثبت ردعمل دے گا تاکہ خطے اور دنیا میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔
سعودی عرب کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی قائم ہے اور کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ثالثی کی کوششوں سمیت دونوں جانب سے بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ’ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ایران کے 14 نکاتی متن کی بنیاد پر جاری ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ کی ایران موجودگی کا مقصد پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔‘
ایران نے بدھ ہی کو خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ مشرق وسطیٰ سے باہر تک پھیل سکتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران بارہا خبردار کر چکا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کے جواب میں وہ مشرق وسطیٰ میں موجود ان ممالک کو نشانہ بنائے گا جہاں امریکی اڈے قائم ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ فوجی مہم دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے سے محض ایک گھنٹے کی دور تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے آپریشن ایپک فیوری روکنے کے چھ ہفتے بعد بھی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بڑی حد تک تعطل کا شکار ہیں۔
ایران نے رواں ہفتے امریکہ کو ایک نئی تجویز دی ہے تاہم اس کے عوامی مؤقف میں وہی شرائط دہرائی گئی ہیں جنہیں ٹرمپ پہلے مسترد کر چکے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ ایک بار پھر تہران پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان دونوں فریقین کے درمیان پیغامات پہنچانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔