انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے ریستورانوں سے بیف کیوں غائب ہونے لگا؟

کولکتہ کے مشہور ریستورانوں میں بیف سٹیک، چپس اور بیف بریانی جیسے کھانے مینو سے مستقل بنیادوں پر نکال دیے گئے ہیں۔

آٹھ ستمبر 2015 کو ممبئی میں ایک قصاب اپنی دکان میں گوشت کاٹ رہا ہے (روئٹرز)

بیف کے پکوان مغربی بنگال کے مقبول ریستورانوں کے مینو سے تیزی سے غائب ہونے لگے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ چند روز قبل انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتہ پارٹی (بی جے پی) نے اہم ریاستی انتخابات جیت لیے ہیں۔

کولکتہ کے مشہور ریستورانوں میں بیف سٹیک، چپس اور بیف بریانی جیسے کھانے مینو سے مستقل بنیادوں پر نکال دیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ نہ صرف سپلائی کا بحران ہے بلکہ گائے کے گوشت کے استعمال پر حملوں کا خوف بھی ہے۔

بی جے پی نے ریاست میں کامیابی کے فوراً بعد کئی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس نے اس ماہ کے آغاز میں مودی کے سخت ناقد اور سابق وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کو ہرا کر بنگلہ دیش کی سرحد سے ملحقہ اس ریاست میں اقتدار حاصل کیا تھا۔

ریاستی حکومت نے عیدالاضحیٰ سے قبل ایک پرانا قانون نافذ کر دیا ہے جس کے تحت گائے، بیل اور بھینس کے عوامی ذبح پر پابندی ہے۔ ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کر دی گئی ہے کہ کسی بھی ذبح کیے جانے والے جانور کے لیے سرکاری سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہوگا جس میں ثابت ہو کہ وہ یا تو 14 سال سے زیادہ عمر کا ہے یا پھر کام کے قابل نہیں رہا۔

مغربی بنگال ان چند غیر بی جے پی ریاستوں میں شامل تھا جہاں گائے کے ذبح کی اجازت تھی۔

کولکتہ کا معروف ریستوران ’شیخز‘، جو بیف سٹیکس کے لیے جانا جاتا ہے، نے بتایا کہ انہوں نے بیف کو مینو سے ہٹا دیا ہے۔ ان کے مطابق ’سپلائی ختم ہو چکی ہے اور اگلے چھ سات ماہ تک بحال ہونے کا امکان نہیں، اس لیے ہم نے بیف ڈشز مستقل طور پر بند کر دی ہیں۔‘

موکامبو ریستوران کے نتن کوتھاری نے کہا کہ بیف کے پکوان ابھی مینو میں موجود تو ہیں، لیکن سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے پیش نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے کہا: ’ہم سپلائی کی بحالی کے منتظر ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہمیں انہیں مینو سے ہٹانا پڑے گا۔‘

’دی برگر شاپ‘ نے انسٹاگرام پر اعلان کیا کہ ’بھاری دل کے ساتھ ہم اپنے مینو میں تبدیلی کر رہے ہیں‘۔ ریستوران نے کہا: ’اب ہمارے یہاں بیف دستیاب نہیں ہوگا۔ ہمارے برگر کا کوئی مذہب نہیں، لیکن سیاست کا ہوتا ہے۔‘

اولی پب کے عملے کے مطابق، جیسے ہی سپلائی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، بیف اسٹیک بھی مینو سے ہٹا دیا جائے گا۔

مویشیوں کے ذبح پر پابندی کے بعد ریاست کی لائیو اسٹاک مارکیٹ میں بے چینی پھیل گئی ہے، اور خاص طور پر ہندو تاجروں میں تشویش بڑھ گئی ہے کیونکہ عید سے پہلے ہونے والی خرید و فروخت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ساؤتھ 24 پرگنہ کے ایک مویشی فارم کے مالک گوپال داس نے کہا: ’نئی حکومت نے اس ریاست میں مویشی پالنا ناممکن بنا دیا ہے۔ ہم عید سے پہلے ان جانوروں کو فروخت کر کے اپنی روزی کماتے تھے، اب ہم کیسے گزارا کریں گے؟‘

انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس تقریباً 14 گائیں ہیں، جن میں زیادہ تر دودھ نہ دینے والی اور سات سال سے کم عمر ہیں۔ ’ہر گائے پر روزانہ تقریباً 250 روپے خرچ آتا ہے۔ اگر ہمیں انہیں 14 سال تک پالنا پڑا تو ہمیں نقصان ہوگا اور شاید ہمیں انہیں سڑکوں پر چھوڑنا پڑے گا۔‘

اس فیصلے پر ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور کسان سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔

انڈیا میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور ہندو مذہب کے ماننے والوں کی بڑی تعداد اسے عبادت کا درجہ دیتی ہے۔ نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ’گاؤ رکھشا‘ کے نام پر کئی گروہ سامنے آئے، جن پر قانون سے بالاتر کارروائیوں کے الزامات لگے ہیں۔

2015 میں اتر پردیش میں محمد اخلاق کو اس افواہ پر ہجوم نے قتل کر دیا کہ انہوں نے بیف رکھا اور کھایا تھا۔ اس کے بعد بھی شمالی انڈیا کے مختلف علاقوں میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے۔

تاہم انڈیا میں مسلمان، عیسائی اور کچھ ہندو بھی بیف کو اپنی خوراک کا حصہ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ نسبتاً سستا پروٹین ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذبح کی پابندی کے بعد مسلمان علما نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانور قربان نہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے، کیونکہ قانونی کارروائی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ ہے۔ اس تہوار میں مسلمان حضرت ابراہیمؑ کی سنت یاد کرتے ہوئے جانور قربان کرتے ہیں اور گوشت مستحقین میں تقسیم کرتے ہیں۔

نئی حکومت پر یہ تنقید بھی ہو رہی ہے کہ وہ ریاست میں مبینہ طور پر غیر قانونی گھروں اور عمارتوں کے خلاف انہدامی کارروائیاں تیز کر رہی ہے۔

بی جے پی کی تبدیلیاں ریاست کے ظاہری حلیے سے بھی شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ کولکتہ میں ممتا بینرجی کے دور کے نیلے اور سفید رنگ کی جگہ اب پیلے اور سفید رنگ سے پینٹنگ کی جا رہی ہے۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے دفاتر کو دوبارہ ’رائٹرز بلڈنگ‘ منتقل کیا جائے، تقریباً 13 سال بعد جب سیکرٹریٹ کو ’نبنہ‘ منتقل کیا گیا تھا۔

بی جے پی نے یہ بھی کہا ہے کہ شہر کے اسٹیڈیم کے باہر ممتا بینرجی کے ڈیزائن کردہ فٹبال تھیم مجسمے کو ہٹا دیا جائے گا۔ اس حوالے سے اسپورٹس منسٹر نِسِتھ پرمانک نے کہا: ’یہ ایک بدصورت مجسمہ ہے، جس کا کوئی واضح مطلب نہیں، اس لیے اسے ہٹا دیا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا