بھارت: لنچ میں ’بیف‘ لانے پر مسلمان ٹیچر گرفتار

حلیمہ نیسا پر مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے متعلق ملکی قانون کی دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

یہ واقعہ شمال مشرقی ریاست آسام کے گولپارہ ضلع کے ہرکا چنگی مڈل سکول میں پیش آیا جہاں کی ہیڈ مسٹریس حلیمہ نیسا ایک سکول فیسٹیول میں مبینہ طور پر بیف کا سالن ساتھ لائیں (پکسابے)

بھارت میں ایک مسلمان خاتون ٹیچر کو لنچ میں مبینہ طور پر بیف (بڑے جانور کا گوشت) لانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

یہ واقعہ شمال مشرقی ریاست آسام کے گولپارہ ضلع کے ہرکا چنگی مڈل سکول میں پیش آیا جہاں کی ہیڈ مسٹریس حلیمہ نیسا ایک سکول فیسٹیول میں مبینہ طور پر بیف کا سالن ساتھ لائیں اور یہ اس وقت سامنے آیا جب محکمہ تعلیم سرکاری سکول کے کام اور سہولیات کا جائزہ لینے یہاں پہنچا۔

گولپارہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مرینل ڈیکا نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا ’یہ واقعہ 14 مئی کو پیش آیا جب ہیڈ مسٹریس اپنے گھر سے بیف کا سالن سکول لائیں تاکہ وہ اسے اساتذہ اور گاؤں والوں سمیت فیسٹیول کے مہمانوں کو پیش کر سکیں۔‘

پولیس آفیسر نے کہا کہ ’کئی لوگوں نے اس پر اعتراضات اٹھانے کے بعد ان کی کھانے کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

اس کے فوراً بعد یہ واقعہ وائرل ہو گیا اور 17 مئی کو ایک مقامی شہری نے ٹیچر کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرایا۔

تاہم بھارت کے انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ سکول مینجمنٹ کمیٹی کی شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا۔

حلیمہ نیسا پر مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے متعلق ملکی قانون کی دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

مرینل ڈیکا کے مطابق خاتون ٹیچر کو بدھ کو عدالت میں پیش کیا گیا اور تب سے وہ عدالتی تحویل میں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آسام حکومت کے ڈسٹرکٹ ایلیمنٹری ایجوکیشن کے دفتر نے بھی 56 سالہ سکول ٹیچر کو فوری طور پر معطل کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔

محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے۔

بھارت کی ہندو اکثریت کے لوگ گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور گائے کو ذبح کرنا یا گائے کا گوشت کھانا ملک کے بیشتر حصوں میں غیر قانونی یا ممنوع ہے۔

تاہم آسام میں، جہاں ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی کی دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے، گائے کے گوشت کے استعمال پر پابندی نہیں ہے۔

لیکن 2021 میں منظور ہونے والا ’آسام کیٹل پرزرویشن ایکٹ‘ ان علاقوں میں جہاں ہندو، جین اور سکھ اکثریت میں ہیں یا مندروں یا مذہبی خانقاہوں کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں مویشیوں کو ذبح کرنے اور گائے کے گوشت کی فروخت کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔

یہ ایکٹ پولیس کو کسی ملزم کے گھر میں داخل ہونے اور گذشتہ چھ سالوں میں ’غیر قانونی مویشیوں کی تجارت‘ سے حاصل کردہ رقم سے حاصل کی گئی جائیدادوں کا معائنہ، تلاشی اور ضبط کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔

مرینل ڈیکا نے ’ہندوستان ٹائمز‘ کو بتایا: ’اس معاملے میں آسام کیٹل پرزرویشن ایکٹ کی دفعات کا اطلاق نہیں کیا گیا کیونکہ اس میں گائے کے گوشت کی فروخت یا مویشیوں کو ذبح کرنا شامل نہیں ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا