پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کا عسکری پس منظر رکھنے والے فضل الرحمن خلیل کی قیادت میں وفد کا حالیہ دنوں دورہ افغانستان ’ذاتی نوعیت کا ہے اور کسی سرکاری کوشش کا حصہ نہیں ہے۔‘
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ یہ تین رکنی پاکستانی وفد غیر سرکاری حیثیت میں افغانستان میں موجود ہے‘ اور یہ کہ ’وفد کے ارکان معزز ہیں۔‘
یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان اور افغانستان پڑوسی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات جمود کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک اس وقت بھی ایک دوسرے پر حملوں میں مصروف ہیں اور ایک دوسرے کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ اب ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث خطے میں مزید کشیدگی بڑھی ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ فضائی حملے، جن میں بعض اوقات براہ راست افغان طالبان حکومت کو نشانہ بنایا گیا ہے، پاکستان پر حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کی افغان حمایت ختم کرنے کے لیے ہیں۔ طالبان پاکستانی عسکریت پسند گروپوں کی مدد کی تردید کرتے ہیں۔
فضل الرحمن خلیل، جنہوں نے کشمیری عسکریت پسند تنظیم حرکت المجاہدین کی بنیاد رکھی تھی، رواں ہفتے کابل پہنچے تھے۔ پاکستانی وفد میں عبداللہ شاہ مظہر اور سجاد عثمان بھی شامل ہیں۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ وفد پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے گیا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ خلیل کے طالبان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اسی اثر و رسوخ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن موجودہ کشیدہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے کسی مثبت نتیجے کا بہت کم امکان ہے۔
فضل الرحمان خلیل کو ستمبر 2014 میں امریکہ نے خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا کیونکہ وہ مبینہ طور پر ’دہشت گرد‘ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔ امریکہ نے 1997 میں حرکت المجاہدین کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جو 2013 میں انصار الامہ کے نام سے دوبارہ سامنے آئی۔
افغان طالبان نے باضابطہ طور پر اس دورے کے بارے میں اب تک کچھ نہیں کہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی سکیورٹی حکام نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان حکام کے ساتھ بامعنی رابطہ صرف اسی ماحول میں ہو سکتا ہے جہاں افغان سرزمین کو عسکریت پسند گروہ پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے لیے استعمال نہ کریں۔
ترکی اور ایران دونوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعہ کے آغاز سے ثالثی اور حل کی پیشکش کی تھی۔ ترکی اور قطر کی جانب سے گذشتہ سال جنگ بندی کی کوششوں نے عارضی طور پر کشیدگی کو کم کیا لیکن اسلام آباد اور کابل کے درمیان پائیدار حل تلاش کرنے میں ناکام رہے۔
حالیہ برسوں میں تعلقات میں شدید ابتری آئی ہے کیونکہ پاکستان نے افغانستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والوں کو پناہ دے رہا ہے۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’آپریشن غذاب للحق‘ میں اب تک چھ سو سے زائد افغان طالبان اہلکاروں کو مار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارت کاری میں عسکری پس منظر رکھنے والے افراد کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیک ڈور مذاکرات کل اب بھی امکان موجود ہے۔
لاہور میں مقیم سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ان بااثر افراد کی کابل میں موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ مذاکرات فوجی کارروائیوں جتنے ہی اہم ہیں۔‘
’ان کا عسکریت پسندوں کا ماضی اور پاکستانی ریاست سے ان کے تعلقات ظاہر کرتے ہیں کہ باہمی الزامات اور ریاستی فوجی حل کے بیانیے کے باوجود، پس پردہ مذاکرات شروع ہوچکے ہیں۔‘