بجٹ 2026 میں کس کو کتنا ریلیف ملا؟

وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے اپنا تیسرا وفاقی بجٹ پیش کیا۔ اس مجوزہ مالی دستاویز میں عام آدمی اور دیگر طبقات کے لیے کیا ریلف شامل ہے آئیں ایک نظر ڈالیں۔

12 جون، 2026 کی اس تصویر میں سکیورٹی اہلکار بجٹ دستاویز پارلیمان منتقل کرتے ہوئے(اے ایف پی)

وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے جمعے کو اپنا تیسرا بجٹ پیش کیا۔ وزیر اعظم نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ ماضی میں معاشی حالات کی وجہ سے ٹیکس لگانے پڑے تو آئیں دیکھیں اس مرتبہ کیا ریلف دیا گیا ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27 میں حکومت نے عام آدمی کو بظاہر محدود مگر چند نمایاں شعبوں میں ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ عام شہری کے لیے اہم ریلیف یہ ہیں:

  • محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد جبکہ سابق ملازمین کی پینشن میں بھی اتنا ہی اضافہ تجویز کیا ہے۔ اسی طرح کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
  • تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف: چار سلیبز کے لیے ریلیف:
  • 22 سے 32 لاکھ کے درمیان سالانہ آمدن پر 23 سے کم کرکے 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ آمدن پر 30 سے کم کر کے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ آمدن پر 35 سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ روپے کی آمدن پر 35 سے کم کر کے 32 فیصد کر دیا گیا۔
  • سپر ٹیکس کی شرح میں کمی: 15 سے 50 کروڑ تک کاروبار سے آمدن کی چھ سلیبز پر سپر ٹیکس مکمل ختم۔ 50 کروڑ سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 سے کم کر کے 8 فیصد اور فروخت پر 8 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
  • آئی ٹی برآمدات کی آمدن پر رعایت 30 جون 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز ہے۔
  • جائیداد کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس فائلرز کے لیے خریداری پر اڑھائی فیصد سے کم کر کے ایک اشاریہ دو فیصد کرنے کی تجویز۔
  • ایکسپورٹ انکم ٹیکس میں کمی۔
  • کریڈٹ / ڈیبٹ کارڈ کی بین القوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں 5 سے کم کر کے صفر اشاریہ 5 فیصد کرنے کی تجویز۔
  • غیرملکی اثاثے رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز۔
  • خواتین کے لیے سینٹری پیڈز اور دیگر متعلقہ اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز۔
  • آبادی پر قابو کے لیے مانع حمل ادویات اور اشیا پر ٹیکس مکمل ختم۔
  • وزیر اعظم اپنا گھر سکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص۔
  • سوشل سیفٹی نیٹ (بی آئی ایس پی) کے لیے 1091 ارب روپے مختص۔ کفالت پروگرام کو ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں تک بڑھایا جائے گا۔
  • شاہراہوں، ریل اور بندرگاہوں کی ترقی کے لیے 365 ارب روپے۔ کراچی - چمن شاہراہ کے لیے سو ارب روپے۔
  • صحت کے شعبے کے لیے 25 ارب روپے۔
  • اعلی تعلیم کے لیے 46 ارب روپے۔ دانش سکولوں کے لیے 22 ارب روپے۔
  • کشمیر کے لیے 45 ارب، گلگت بلتستان کے 44 ارب اور خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 56 ارب روپے مختص۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت