پاکستان اور قطر کا علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال، ایران امریکہ کشیدگی میں کمی کی کوششیں

ایران کے وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر سعودی عرب اور عمان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی 27 جولائی 2026 کو قطری ہم منصب شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ آل ثانی سے دوحہ میں ملاقات ہوئی (وزارت داخلہ/ قطر)

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے قطر کے وزیر داخلہ اور داخلی سلامتی فورس (لخویا) کے کمانڈر شیخ خلیفہ بن حمد بن خلیفہ آل ثانی سے پیر کو ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور داخلی سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے علاوہ علاقائی استحکام پر بھی تبادلہ کیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اطلاعات سامنے آئیں کہ قطر اور پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور گذشتہ ماہ طے پانے والے عبوری امن فریم ورک کو بحال کرنے پر مرکوز ہیں، جو گذشتہ چند ہفتوں کے دوران خلیجی خطے میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث ناکام ہو گیا تھا۔

منگل کو جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں وزرائے داخلہ نے پاکستان اور قطر کے درمیان سکیورٹی شراکت داری کو مزید وسعت دینے اور وزارت داخلہ کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال، امن و استحکام اور مشترکہ چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ داخلی سلامتی سے متعلق باہمی تعاون، معلومات کے تبادلے اور پیشہ ورانہ شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ سکیورٹی، داخلی سلامتی اور دیگر مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستانی وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق قطری وزیر داخلہ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے کہا کہ قطر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون اور شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملاقات کو پاکستان اور قطر کے درمیان سکیورٹی تعاون، علاقائی استحکام اور دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے وزیر داخلہ کا سعودی ہم منصب سے ٹیلی فون پر رابطہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے علیحدہ علیحدہ رابطے کیے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ دونوں رہنماؤں سے گفتگوؤں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں استحکام کے قیام اور امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط اور مشترکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے۔

ایران نے 28 فروری کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، جس کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ سے جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔

علاقائی حکام نے پیر کو بتایا کہ ثالثی کروانے والے ممالک نے امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں پیش رفت حاصل کر لی ہے۔

اگرچہ دونوں فریقوں نے تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد حملے روک دیے، تاہم خطے میں مسلح گروہوں کی جانب سے وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں نے ظاہر کیا کہ کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔

نہ امریکہ اور نہ ہی ایران نے گذشتہ تین روز کے دوران کسی حملے کی اطلاع دی، جو تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید بمباری کے بعد ایک وقفہ تھا۔ اس حملوں نے ایک بار پھر مکمل جنگ چھڑ جانے کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔

علاقائی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قطر اور پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کیے جا سکیں اور دونوں کو دوبارہ اس عبوری جنگ بندی معاہدے تک لایا جا سکے، جو حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد ختم ہو گیا تھا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان