ثالثوں کی امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں پیش رفت

علاقائی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قطر اور پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ عبوری جنگ بندی معاہدے تک لایا جا سکے۔

20 جولائی 2026 کو ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے خبر رساں ادارے سپاہ نیوز کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو سے حاصل کردہ اس سکرین شاٹ میں ایک نامعلوم مقام سے خلیج میں امریکی اہداف کی جانب میزائل داغے جانے کا منظر دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)

علاقائی حکام نے پیر کو بتایا کہ ثالثی کروانے والے ممالک نے امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں پیش رفت حاصل کر لی ہے۔

اگرچہ دونوں فریقوں نے تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد حملے روک دیے، تاہم خطے میں مسلح گروہوں کی جانب سے وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں نے ظاہر کیا کہ کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔

نہ امریکہ اور نہ ہی ایران نے گذشتہ تین روز کے دوران کسی حملے کی اطلاع دی، جو تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید بمباری کے بعد ایک وقفہ تھا۔ اس حملوں نے ایک بار پھر مکمل جنگ چھڑ جانے کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔

علاقائی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قطر اور پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کیے جا سکیں اور دونوں کو دوبارہ اس عبوری جنگ بندی معاہدے تک لایا جا سکے، جو حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد ختم ہو گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے اور براہِ راست رابطہ کیا ہے، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔

ٹرمپ نے پیر کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’بات چیت اچھی جا رہی ہے، اس لیے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اچھا امکان ہے کہ کچھ پیش رفت ہو جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو بہتر ہے اور اگر نہ ہوا تو ہم وہی کریں گے، جو دو روز پہلے کر رہے تھے۔‘

امریکہ نے ایران کے ساحلی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر تقریباً دو ہفتے تک حملے کرنے کے بعد کارروائیاں روک دی ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فائرنگ کی تھی، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے۔

ایران نے ان حملوں کے جواب میں ان ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں، جن میں اردن کے ایک اڈے پر کم از کم تین امریکی اہلکار جبکہ عراق میں ایک اہلکار جان سے گیا۔

تہران کی فوج کے ترجمان نے اتوار کو سرکاری ٹی وی کو بتایا تھا کہ امریکہ کی جانب سے حملے روکنے کے بعد ایران نے بھی اپنی کارروائیاں معطل کر دی تھیں۔

علاقائی حکام نے مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کی

پیر کو ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) سے گفتگو کرنے والے علاقائی حکام میں سے ایک نے ثالثی کی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت کو ’اہم‘ قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ثالث ایران اور عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے انتظام کے لیے ایک طریقۂ کار پر کام کر رہے ہیں، کیونکہ حالیہ حملوں اور جوابی حملوں کا مرکز یہی آبی گزرگاہ رہی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ثالث امریکی فریق کے پیغامات ہم تک پہنچا سکتے ہیں‘، لیکن اس وقت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان، جو آبنائے ہرمز کے دوسری جانب واقع ہے، نے جمعے اور ہفتے کو اس آبی راستے سے جہازوں کی آمدورفت کے انتظام پر بات چیت کی۔

اسماعیل بقائی کے مطابق مقصد یہ ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے طریقہ کار وضع کیے جائیں، جو دونوں ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق، ان کی حاکمیت، نیز ایران کی سلامتی اور قومی مفادات کا احترام کریں۔‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ آبی گزرگاہ اب بھی بند ہے۔

تہران کا مؤقف ہے کہ امریکہ کے ساتھ عبوری معاہدے کے تحت اسے اس آبی راستے میں جہاز رانی کے انتظام اور ممکنہ طور پر فیس وصول کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی جانب سے عمان کے قریب سے گزرنے والے متبادل بحری راستے کی حمایت پر اعتراض کیا ہے۔ جنگ سے پہلے یہ آبی گزرگاہ تمام جہازوں کے لیے بغیر کسی فیس کے کھلی تھی۔

امریکی فوج نے پیر کو کہا تھا کہ ایران کے خلاف دوبارہ نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں 17 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا، دو ناکارہ ہو گئے جبکہ دو پر سوار ہو کر تلاشی لی گئی۔

جون کے وسط میں عبوری معاہدے کے تحت مقرر کیا گیا 60 روزہ عرصہ اب اپنے دوسرے نصف میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ وہ اہم معاملات جن پر مذاکرات ہونا تھے، خصوصاً ایران کا جوہری پروگرام جو اس کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے، فی الحال مؤخر کر دیے گئے ہیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر

امریکی بحریہ کی نگرانی میں کام کرنے والے ایک بحری ادارے نے اتوار کو بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، تاہم گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران کسی نئے حملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ادارے کے مطابق اگرچہ خطے کی ایک اور اہم آبی گزرگاہ، باب المندب میں جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم باب المندب میں بھی جہاز رانی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

 گذشتہ ہفتے حوثیوں نے وہاں سعودی جہاز رانی کی ناکہ بندی کی دھمکی دی تھی اور کم از کم ایک سعودی آئل ٹینکر پر حملہ بھی کیا تھا۔

عالمی توانائی کی فراہمی اور معیشت اب بھی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں کیونکہ پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔

 امریکی اسلحے کے ذخیرے پر سوالات

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکہ کے اہم ہتھیاروں، خصوصاً میزائلوں اور دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی اسلحے کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ ذخیرہ ’بہت اچھی حالت میں ہے،‘ تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا: ’سچ پوچھیں تو میں چاہوں گا کہ ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہو۔‘

ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران دونوں کتنی دیر تک اس نوعیت کے حملے جاری رکھنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ ملک کے اسلحے کے ذخائر کی موجودہ صورت حال ایران میں فوجی کارروائیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اس عہدیدار نے کہا کہ یہ پیغام جنرل کین نے اپنے معمول کے فرائض کے تحت صدر کو فوجی مشورے اور مختلف آپشنز فراہم کرتے ہوئے دیا۔

جنرل ڈین کین نے گذشتہ ہفتے کانگریس میں سماعت کے دوران قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ’فضائی طاقت کی بھی اپنی حدود ہوتی ہیں‘ اور صرف فضائی حملوں سے تمام فوجی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف تقریباً مکمل طور پر فضائی حملوں پر انحصار کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا