کیا ہماری یادداشت جان بوجھ کر ماضی کو بدل دیتی ہے؟ دلچسپ تحقیق

زندگی کے کئی پہلوؤں میں تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ماضی کو ایک متوقع اور خود کو تحفظ دینے والے انداز میں غلط یاد کرتے ہیں، یعنی وہ اپنے تجربات کو اس طرح ڈھال لیتے ہیں کہ وہ ان کے موجودہ مثبت تصورِ ذات کی حمایت کریں۔

درحقیقت یادداشت کی جن خامیوں کو عام طور پر ناکامی سمجھا جاتا ہے، ان میں سے بعض دراصل ایک صحت مند اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والے یادداشتی نظام کی علامت ہو سکتی ہیں (اینواتو)

اپنے سکول کے زمانے کو یاد کریں۔ کیا آپ محنتی تھے، مقبول تھے یا بے چینی کا شکار رہتے تھے؟ اور امتحانات میں آپ کے کیا گریڈ آئے تھے؟ اب ذرا تصور کریں کہ کوئی اس دور کی آپ کی سکول رپورٹیں نکال کر سامنے رکھ دے۔ کیا وہ ان باتوں سے پوری طرح میل کھائیں گی جو ابھی آپ نے یاد کی ہیں؟

اگر آپ کی یادیں بالکل درست ثابت ہوں تو آپ خود کو بہترین یادداشت رکھنے پر مبارک باد دے سکتے ہیں۔ لیکن ایک ماہرِ نفسیات کی حیثیت سے، جس نے برسوں تک اس بات پر تحقیق کی ہے کہ لوگ کیا یاد رکھتے ہیں اور کیا غلط یاد کرتے ہیں، میری تحقیق اکثر اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ ’بہترین‘ یادداشت ہمیشہ سب سے زیادہ درست ہوتی ہے۔

درحقیقت یادداشت کی جن خامیوں کو عام طور پر ناکامی سمجھا جاتا ہے، ان میں سے بعض دراصل ایک صحت مند اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والے یادداشتی نظام کی علامت ہو سکتی ہیں۔

زندگی کے کئی پہلوؤں میں تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ماضی کو ایک متوقع اور خود کو تحفظ دینے والے انداز میں غلط یاد کرتے ہیں، یعنی وہ اپنے تجربات کو اس طرح ڈھال لیتے ہیں کہ وہ ان کے موجودہ مثبت تصورِ ذات کی حمایت کریں۔

مثال کے طور پر 1996 میں امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں 3,220 سابق طلبہ سے ان کے ہائی سکول کے گریڈ یاد کرنے کو کہا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ انہوں نے A گریڈ 89 فیصد درستگی سے یاد کیے، لیکن D گریڈ صرف 29 فیصد درستگی سے یاد رہے۔

زیادہ تر غلطیوں میں لوگوں نے اپنے گریڈ اصل سے بہتر یاد کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے افراد اپنے ساتھ بہتر تعلیمی کارکردگی کا ایک خوش کن مگر غلط تصور لے کر چلتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح 2006 کی ایک تحقیق میں شرکا کا کولیسٹرول ٹیسٹ کیا گیا اور پھر کئی ماہ بعد ان سے پوچھا گیا کہ انہیں اپنے نتائج کس حد تک یاد ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے اپنے کولیسٹرول کی سطح حقیقت سے کم یاد کی، خاص طور پر وہ افراد جن کے نتائج سب سے زیادہ تھے۔

اس طرح کا مثبت یادداشتی جھکاؤ عمر بڑھنے کے ساتھ عموماً زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہی رجحان عمر اور ذہنی آسودگی کے درمیان موجود مثبت تعلق میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے باوجود اس قسم کی یادداشتی تبدیلی کو اکثر ایک خامی سمجھا جاتا ہے۔

یقیناً عدالتوں، ہسپتالوں اور دیگر حساس شعبوں میں ایسی غلطیوں کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر Innocence Project کے مطابق عینی شاہدین کی غلط گواہی ان غلط سزاؤں کی سب سے بڑی وجہ ہے جنہیں بعد میں ختم کیا گیا۔

لیکن روزمرہ زندگی میں یادداشت کی یہی لچک اور غلطی کا امکان اس بات کا بنیادی حصہ ہے کہ وہ ہمیں زندہ رہنے اور بہتر زندگی گزارنے میں کیسے مدد دیتی ہے۔ یادداشت کوئی ریکارڈنگ مشین نہیں ہے۔ یہ انتخاب کرتی ہے، دوبارہ تشکیل پاتی ہے اور ان چیزوں سے متاثر ہوتی ہے جو اس وقت ہمارے لیے اہم ہوتی ہیں۔

تو پھر اگر آج کی ’ہر چیز یاد رکھنے‘ والی ٹیکنالوجی ایک ایسا یادداشتی نظام بنا رہی ہے جس کی نہ ہمیں ضرورت ہے اور نہ ہی اس سے ہمیں فائدہ ہوتا ہے، تو کیا ہوگا؟

 نامکمل یادداشت کے فوائد

آنجہانی برطانوی ماہرِ نفسیات مارٹن کونوے کے سیلف میموری سسٹم کے مطابق سوانحی یادداشت صرف ماضی کے واقعات کا ذخیرہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے اپنے بارے میں مربوط، مستحکم اور عمومی طور پر مثبت احساسِ ذات کو برقرار رکھتا ہے۔

اسی لیے جب وقت کے ساتھ انسان کا علم یا احساسات بدلتے ہیں تو وہ اکثر اپنی یادوں کو بھی اس انداز میں دوبارہ تشکیل دیتا ہے کہ وہ اس کی موجودہ شخصیت سے زیادہ مطابقت رکھیں۔

ماہرِ نفسیات لنڈا لیون اور ان کے ساتھیوں نے 2010 کی ایک تحقیق میں اس رجحان کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے لوگوں سے او جے سمپسن کے مقدمے پر اپنے ابتدائی ردعمل یاد کرنے کو کہا۔

وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے لوگوں کی رائے اس قتل کے بارے میں بدلی، وہ اپنے پرانے ردعمل کو بھی اپنی موجودہ سوچ کے زیادہ قریب یاد کرنے لگے، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔

بہت سے طویل المدت ازدواجی تعلقات بھی اسی نامکمل اور بدلتی ہوئی یادداشت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ 20 سال پر محیط ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ خوش حال میاں بیوی اکثر اپنی شادی کے ابتدائی برسوں کو اس وقت کے مقابلے میں کم خوشگوار یاد کرتے تھے، جس سے انہیں یوں محسوس ہوتا تھا کہ وقت کے ساتھ ان کا رشتہ بہتر ہوا ہے۔

یہی احساس مستقبل میں ازدواجی اطمینان کی بھی پیش گوئی کرتا تھا۔ یقیناً اگر میاں بیوی ایک دوسرے کی ہر تلخ بات اور ہر نامناسب جملہ لفظ بہ لفظ ہمیشہ یاد رکھتے تو طویل عرصے تک محبت برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا۔

ڈپریشن اس کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ ایسے افراد جو ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، ان میں عام لوگوں کے مقابلے میں وہ مثبت یادداشتی جھکاؤ کم پایا جاتا ہے، جو روزمرہ یادداشت کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔

ایسا یادداشتی نظام جو ناکامیوں کو نرم کرنے، مشکلات کو نئے زاویے سے دیکھنے یا مثبت تجربات کو نمایاں کرنے میں کم دلچسپی رکھتا ہو، شاید ماضی کی زیادہ درست عکاسی کرے، لیکن اس سے انسان کے لیے ذہنی آسودگی اور مستقبل سے امید وابستہ رکھنا بھی زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

 شاید ایسی یادداشت ہم نہ چاہیں

اسی لیے جدید ٹیکنالوجی کئی مشکل سوالات اٹھاتی ہے۔

ہماری ڈیجیٹل دنیا کا بڑا حصہ اس تصور پر قائم ہے کہ زیادہ یادداشت ہی بہتر یادداشت ہے۔ موبائل فون ہزاروں تصاویر محفوظ رکھتے ہیں۔ فٹنس گھڑیاں قدموں، نیند، دل کی دھڑکن اور جلائی گئی کیلوریز کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی معاونین کی آمد اس تبدیلی کو مزید تیز کر سکتی ہے، کیونکہ ایسے نظام جو برسوں پرانے پیغامات اور تصاویر کو لمحوں میں تلاش، خلاصہ اور دوبارہ پیش کر سکتے ہیں، اس بات پر اثر انداز ہوں گے کہ ہم اپنے ماضی کو کیسے یاد رکھتے ہیں۔

کچھ شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہر چیز زیادہ یاد رکھنا ہمیشہ بہتر نہیں ہوتا۔

جن افراد میں انتہائی غیر معمولی سوانحی یادداشت کی نایاب صلاحیت پائی جاتی ہے، وہ اپنی زندگی کے کئی دہائیوں پرانے واقعات بھی حیرت انگیز تفصیل کے ساتھ یاد کر سکتے ہیں۔ تاہم ان میں سے بہت سے لوگ اس تجربے کو ذہنی طور پر تھکا دینے والا قرار دیتے ہیں، کیونکہ یادیں بار بار غیر ارادی طور پر پوری شدت کے ساتھ ذہن میں واپس آ جاتی ہیں، جس سے منفی واقعات کو بھلا کر آگے بڑھنا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

اب ہمیں اس بات کی مثالیں بھی مل رہی ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ کی گئی یادداشت اسی طرح کے اثرات پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر غم کے مواقع پر، جب مختلف پلیٹ فارم اچانک ایسے افراد کی تصاویر، سالگرہیں یا پرانی پوسٹس دوبارہ سامنے لے آتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے نظام ڈیجیٹل یادداشت کی نہایت ذاتی نوعیت بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ تصور کریں کہ آپ اپنے اے آئی معاون سے پوچھیں کہ تین سال پہلے آپ کا کسی کے ساتھ تعلق کیسا تھا اور وہ ہزاروں پیغامات، تصاویر اور کیلنڈر اندراجات کی بنیاد پر ایک خلاصہ پیش کر دے۔

انسان ہمیشہ سے یاد رکھنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتا آیا ہے، جن میں ڈائریاں، یادگاریں، تصاویر، گیت اور کہانیاں شامل ہیں۔ مگر آج کے ڈیجیٹل ذرائع کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یادداشت کے ایک محدود فلسفے پر مبنی ہیں: ہر چیز محفوظ کرو، ہر چیز کی پیمائش کرو، ہر چیز دوبارہ سامنے لاؤ جبکہ انسانی یادداشت اس مقصد کے لیے ارتقا پذیر نہیں ہوئی کہ ہر چیز کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھے یا ہر واقعہ بالکل ویسے ہی یاد رکھے جیسے وہ پیش آیا تھا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کو ماضی کو بگاڑنا یا دوبارہ لکھنا چاہیے۔ ہم میں سے اکثر شاید کبھی ایسی صحت سے متعلق ایپ استعمال نہ کریں جو صرف ہمیں خوش رکھنے کے لیے جھوٹے اعداد و شمار دکھائے۔

لیکن میرے خیال میں ہمیں انسانی یادداشت کی ان نام نہاد خامیوں پر زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے، یعنی اس کی انتخابی فطرت، اس کی لچک اور ماضی کو نرم، منظم اور نئے معنی دینے کی اس کی صلاحیت۔

صدیوں سے انسان نے ایسی ٹیکنالوجیز تیار کیں جو یادداشت کی کمزوریوں کی تلافی کریں، مگر اب شاید ہم ایسی ٹیکنالوجیز بنا رہے ہیں جو یادداشت کی بعض اہم طاقتوں کو ہی ختم کر دیں۔

یہ تحقیق اس سے قبل دی کنورسیشن پر شائع ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق