اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورت حال پر بحث میں پاکستان اور انڈیا کی جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ انڈیا افغان سرزمین سے پاکستان میں ’دہشت گردی‘ کو ہوا دینے کی پالیسی ترک کرے۔
اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مندوب پرواتھانینی ہریش نے کہا کہ ان کے ملک کو افغانستان پر سرحدپار پاکستان سے کی جانے والی کارروائیوں میں شہری اموات پر گہری تشویش ہے اور انہوں نے اسے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
جس کے جواب میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کی جائز انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں افغانستان کے برادر عوام کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد صرف افغانستان کی سرزمین سے ’جنم لینے والے دہشت گردی‘ کے مسلسل خطرے کو ختم کرنا ہے۔
’ہماری کارروائیاں حقِ دفاع اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مکمل مطابق ہیں۔‘
Further Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) March 10, 2026
Permanent Representative of Pakistan to the UN,
In Response to Remarks of Representatives of India and Afghanistan
At the UNSC Meeting on the Situation in Afghanistan
(9th March 2026)
************
Thank you Madam President,… pic.twitter.com/h3GZLl5sCn
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کے خلاف انڈیا کی دشمنی اور اس کی افغان پالیسی کا واحد مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے، جس میں افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ’دہشت گرد‘ گروہوں جیسے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کی سرپرستی اور حمایت شامل ہے۔ اس تناظر میں انڈین نمائندے کے بیانات کسی طور حیران کن نہیں۔
’خصوصاً انڈیا کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہوا دینے کی اپنی پالیسی ترک کرے، جو اب (افغان) طالبان حکومت کے ساتھ اپنے نئے تعلقات کے ذریعے جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
پاکستانی مندوب نے کہا کہ انڈیا کے نمائندے نے افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، شہری اموات اور سرحدی جھڑپوں کا ذکر کیا، لیکن افغانستان سے پیدا ہونے والے ’دہشت گردی‘ کے خطرے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا جو پاکستان کو نشانہ بناتا رہا ہے اور جسے کئی سلامتی کونسل کے ارکان نے اپنے بیانات میں اجاگر کیا۔ اس کی وجہ واضح ہے: ’اس تمام صورت حال میں انڈیا کی شمولیت‘۔
’ہم نے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ انڈیا کی ملی بھگت کے ناقابلِ تردید شواہد فراہم کیے ہیں، جو پاکستان کے خلاف پرتشدد حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں ملوث ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کے مندوب نے مزید کہا کہ انڈیا طویل عرصے سے یہ خطرناک کھیل کھیلتا آیا ہے، لیکن ہم ’افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف اس کی تخریب کاری اور سازشوں کو پاکستان کو نقصان پہنچانے یا کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپیں 26 فروری کو اس وقت شروع ہوئیں جب افغان فورسز نے سرحد کے قریب پاکستانی فوجی تنصیبات پر اچانک حملہ کیا۔
افغانستان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے فروری میں افغانستان کے اندر مبینہ عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سرحد پر حملوں کے بعد پاکستان نے آپریشن ’غضب للحق‘ شروع کیا تھا جس میں پاکستانی حکام کے مطابق اب تک کی کارروائیوں میں 580 سے زائد افغان طالبان مارے گئے جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے۔
پاکستانی حکومت کے مطابق اب تک کی کارروائی میں افغان فورسز کے زیر استعمال 213 ٹینک و بکتر بند گاڑیاں تباہ اور افغانستان میں 64 مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔