پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی پر جمعرات کو تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ بندی کے دوران طے پانے والی مفاہمت کی پاسداری کریں۔
امریکہ نے بدھ کی رات ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس سے جنگ کے خاتمے کی کوششیں کمزور پڑنے لگی ہیں جب کہ تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے گا۔
اس جنگ کا آغاز فروری میں ایران پر بڑے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا، جس نے اپریل میں ایک غیر مستحکم جنگ بندی کے نافذ ہونے سے پہلے خطے اور عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں اور حال ہی میں پاکستانی عہدیداروں نے ایران کا دورہ بھی کیا ہے، لیکن فریقین کے مابین حالیہ تندوتیز بیانات اور حملوں نے اس صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے مشرق وسطیٰ کے حالات پر ردعمل میں کہا: ’پاکستان حالیہ کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ ہم فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے دوران طے پانے والی مفاہمت کی پاسداری کریں۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’حالیہ دورہ تہران میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک پیغام اور خط ایرانی قیادت کو پہنچایا، ان کا دورہ پاکستان کی قیام امن کی کوششوں کا تسلسل تھا۔ ان کی جانب سے ایرانی قیادت کو فراہم کردہ خط ایک ریاستی پیغام تھا جس کو پبلک نہیں کر سکتے۔‘
ترجمان طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ مواصلات کے ذرائع پہلے بھی کھلے تھے اور اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔ ’ہم ایک حد تک امید کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کشیدگیوں کے باعث سفارتی کوششیں کم ہوئی ہیں۔ ہم مثبت انداز میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
انڈیا کی پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام کے مترادف ہوگی: پاکستان
ترجمان دفتر خارجہ نے انڈین وزیر آبی وسائل کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ’پانی کے جارحیت کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال‘ کو مسترد کر دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بقول طاہر اندرابی: ’250 ملین پاکستانیوں کے پانی کو روکا نہیں جا سکتا، اس سے بین الاقوامی امن و سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ پانی کے بہاؤ کو جان بوجھ کر روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگ کے اقدام کے مترادف ہوگی اور پاکستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔‘
انڈین وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے منگل کو کہا تھا کہ انڈیا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ پہنچے۔
دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا: ’یہ فیصلہ اب بھی برقرار ہے، بلکہ معاہدے کو معطل رکھا گیا ہے۔ اور جب سے وزیراعظم نریندر مودی نے یہ فیصلہ کیا ہے، ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ پانی کا ایک قطرہ بھی وہاں نہ جائے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت وزیر داخلہ امت شاہ بھی ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور ہم اس پر فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق انڈین بیان مسترد
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال سے متعلق انڈین وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کردیا۔
طاہر اندرابی نے کہا ہے: ’ہم اس بیان کو مسترد کرتے ہیں، ہم آزاد جموں کشمیر کے معاملات پر انڈین بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک عالمی متنازع علاقہ ہے۔ جبکہ انڈین بانیان نے بھی عالمی فورمز پر اس مسئلے کے حل کے وعدے کر رکھے ہیں، پاکستان کشمیریوں ہی سفارتی، سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ انہوں نے انڈین جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر سپری انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ دیکھی ہے۔ ’سپری کے طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کے مشاہدات سے نہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ پر یقین نہیں رکھتا، تاہم ہم صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان عالمی برادری سے انڈین جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر نظر رکھنے پر زور دیتا ہے۔‘
قابل اعتماد انٹیلی جنس کی معلومات پر افغانستان میں کارروائی کی گئی
افغانستان میں اہداف پر کارروائی سے سے متعلق ترجمان نے کہا پاکستان نے ’قابل اعتماد انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی۔ کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، اپنے عوام کی حفاظت اور سلامتی ہماری ترجیح برقرار ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان میں پاکستان کے سفارت کار کی طلبی سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا ہے۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ انہیں ’کابل میں پاکستانی سفارت کار کی طلبی سے متعلق معلومات نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کو طلب کیا گیا ہو۔‘
افغان وزارت خارجہ وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ کابل میں طالبان حکومت نے پاکستان کے حالیہ حملوں پر پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ’افغان خودمختاری کی خلاف ورزی اور شہریوں کے گھروں پر بمباری پر چارج ڈی افیئرز سے شدید احتجاج کیا گیا۔‘
افغان حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں بچوں سمیت 13 افراد مارے گئے تاہم پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں پاکستانی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تین، چار ہزار پاکستانیوں کو یو اے ای سے واپس بھیجا گیا
متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی سے متعلق سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا ’متحدہ عرب امارات سے تین سے چار ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا ہے، اس سے زیادہ کی تعداد ہمارے اعداد و شمار سے میچ نہیں کرتی۔ واپس بھیجے گئے پاکستانیوں کے اثاثے اماراتی حکومت رکھنا پسند نہیں کرے گی، ان پاکستانیوں کے اثاثوں کا تحفظ ہمارے بیرون ممالک مشنز کی اولین ذمہ داری ہے۔ ایسے پاکستانی وزارت خارجہ سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔‘