سوات دھماکہ: جان سے جانے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

پولیس لائن کے قریب اتوار کو ہونے والے خودکش دھماکے میں پانچ اہلکاروں سمیت 14 افراد جان سے گئے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں تھانہ کبل کے مین گیٹ کے سامنے  دھماکے میں جان سے جانے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پیر کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔

پولیس کانسٹیبل مکرم خان اور کانسٹیبل حسین خان کی نماز جنازہ، جاوید اقبال شہید پولیس لائن  میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔

نماز جنازہ میں آر پی او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ، ڈی پی او سوات محمد عمر خان، ایس پی آپریشن سوات غلام صادق خان، ایس پی ہیڈ کوارٹر عطاء اللہ سمیت دیگر پولیس افسروں نے شرکت کی۔

پولیس کے چاق و چوبند دستے نے جان سے جانے والے پولیس ملازمین کو سلامی پیش کی۔ ان کے تابوت پر گل دستے رکھے گئے اور ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

نمازِ جنازہ کے بعد پولیس اہلکاروں کے جسد خاکی کو تدفین کے لیے ان کے آبائی گاؤں روانہ کر دیا گیا۔

خودکش دھماکے میں پانچ اہلکاروں سمیت 14 افراد جان سے گئے

پولیس کے مطابق اتوار کو پولیس لائن اور تھانے کے مرکزی دروازے کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس میں 14 افراد، جن میں پانچ پولیس اہلکار ہیں جان سے گئے اور 18 زخمی ہوئے۔

سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا ہے جبکہ کبل پولیس سٹیشن کے قریب کبل چوک میں بد امنی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری تھا۔

کبل پولیس سٹیشن، سوات پولیس لائن کے اندر واقع ہے۔

سیدو ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم خان نے میڈیا کو بتایا کہ سیدو ہسپتال میں نو لاشیں لائی گئیں ہیں جس میں پانچ پولیس اہلکار اور چار عام شہری شامل ہیں۔

ایم ایس کے مطابق سیدو ہسپتال میں 23 زخمی منتقل کیے گئے ہیں جس میں 15 پولیس اہلکار اور باقی عام شہری شامل ہیں۔

اسی طرح ریسکیو1122 کے بیان کے مطابق پانچ لاشیں کبل ہسپتال منتقل کی گئں ہیں جس میں دو عام شہری ہیں جن کا  کا تعلق ضلع شانگلہ سے ہے، جبکہ ایک جان سے جانے والا شخص پولیس اہلکار ہے اور دیگر دو لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔

سوات کے کبل چوک میں آج سول سوسائٹی تنظیموں اور امن ماسون نامی تنظیم کی جانب سے بد امنی کے خلاف احتجاجی مظالرہ کیا جا رہا ہے اور اسی دوران یہ دھماکہ ہوا۔

اس احتجاجی جلسے کی اجازت پولیس کی جانب سے نہیں دی گئی تھی اور پولیس نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ اس احتجاجی مظاہرے کے لیے اجازت نامہ جاری نہیں ہوا ہے اور اگر کسی نے جلسہ کیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیں گی۔

سوات پولیس کے ضلعی سربراہ محمد عمر خان نے دھماکے کی جگہ میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ احتجاجی مظاہرے کی سکیورٹی کے لیے ہماری زیادہ نفری تعینات تھی اور اس واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

محمد عمر نے بتایا کہ دھماکہ خود کش تھا اور خود کش حملہ آور کا سر بھی مل گیا ہے جبکہ دھماکے میں پولیس اہلکاروں اور عام لوگوں کی موت واقع ہوئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دھماکے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے سوات بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور تمام متعلقہ شعبہ جات کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دیں۔

ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق تمام اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ صحت کے ملازمین، ہسپتال، ریسکیو حکام کا عملہ زخمیوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے موجود رہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا سوات کے علاقے کبل میں خودکش دھماکے اور اس میں ہونے والی اموات  پر گہرے غم اور  افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

خیبر پختونخوا میں ویسے تو عسکریت پسندی گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے موجود ہے لیکن 2010 کے بعد مختلف فوجی آپریشنز کے بعد دہشت گرد کارروائیوں میں خاطر خواہ کمی آئی تھی اور صوبے میں امن قائم ہوا تھا۔

اس دوران 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد فوجی و سیاسی قیادت نے متحدہ طور پر نیشنل ایکشن پلان نامی منصوبہ بنایا تھا اور عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا ۔

تاہم گذشتہ کچھ ماہ سے خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، مختلف تھانوں، اور چیک پوسٹوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

ان میں سے سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اضلاع ہیں جہاں آئے روز چیک پوسٹوں اور پولیس سٹیشنوں پر عسکریت پسندوں کی جانب سے حملے کیے جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان