خیبر پختونخوا کے اضلاع جہاں کچھ عرصے سے عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا: وجوہات کیا؟

گذشتہ کچھ ماہ سے خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، مختلف تھانوں، اور چیک پوسٹوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

سوات کے مرکزی علاقے مینگورہ میں سات نومبر 2008 کو ایک خودکش حملے کے بعد پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں (اے ایف پی)

خیبر پختونخوا میں ویسے تو عسکریت پسندی گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے موجود ہے لیکن 2010 کے بعد مختلف فوجی آپریشنز کے بعد دہشت گرد کارروائیوں میں خاطر خواہ کمی آئی تھی اور صوبے میں امن قائم ہوا تھا۔

اس دوران 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد فوجی و سیاسی قیادت نے متحدہ طور پر نیشنل ایکشن پلان نامی منصوبہ بنایا تھا اور عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا ۔

تاہم گذشتہ کچھ ماہ سے خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، مختلف تھانوں، اور چیک پوسٹوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

ان میں سے سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اضلاع ہیں جہاں آئے روز چیک پوسٹوں اور پولیس سٹیشنوں پر عسکریت پسندوں کی جانب سے حملے کیے جاتے ہیں۔

بنوں میں تھانہ میریان پر 13 جولائی کو عسکریت پسندوں کی بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار جان سے گیا تھا۔

نو مئی کو بنوں کے فتح خیل چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 15 پولیس اہلکار جان سے گئے تھے۔

 اسی طرح تین اپریل کو بنوں کے ڈومیل پولیس سٹیشن پر حملہ کیا گیا تھا جس سے قریبی عمارت زمین بوس ہوگئی تھی جس میں پانچ عام شہری جان سے گئے تھے۔

بنوں میں گذشتہ تقریباً 10 دنوں سے پولیس کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے اور بعض علاقوں میں کرفیو بھی نافذ ہے۔

اسی طرح گذشتہ دنوں میں ہنگو کے خزینہ چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں پولیس کے مطابق ڈی ایس پی سمیت 10 پولیس اہلکار جان سے گئے ہیں جبکہ 27 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

بنوں اور ہنگو کے علاوہ لکی مروت، اور شمالی وزیرستان میں بھی حالات کشیدہ ہیں اور آئے روز پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ ضلع ٹانک میں بھی یہی صورتحال ہے۔

ملاکنڈ ڈویژن کی بات کی جائے تو سوات میں ایک بار پھر عسکریت پسندوں کی موجودگی اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔

سوات کے شلخو سر میں 29 جولائی کو پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ایک پولیس اہلکار جان سے گیا تھا جبکہ عام شہری جان سے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق آپریشن میں چار سے چھ تک عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

عسکریت پسندی میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

جنوبی اضلاع سمیت ملاکنڈ میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال کے باوجود مبصرین کے مطابق صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کی جانب سے متحدہ طور پر کوئی پالیسی سامنے نہیں آرہی ہے۔

محمود جان بابر پشاور میں مقیم صحافی و تجزیہ کار ہیں جو سکیورٹی و سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہمارے پاس سوات کا آپریشن ایک کامیاب مثال ہے جس میں آپریشن سے پہلے تمام سیاسی و عسکری قیادت اکھٹے ہوگئے اور آپریشن کے بعد سوات سے دہشت گردی کا مکمل صفایا کردیا گیا۔

تاہم محمود جان کے مطابق،’ابھی وہ اتحاد نظر نہیں آرہا ہے۔ جب دو بھائی اتفاق میں نہیں ہوتے تو دشمن فائدہ اٹھاتا ہے اور ابھی یہی ہورہا ہے۔ ابھی یہاں سارے(صوبائی و وفاقی حکومت) الگ الگ لڑ رہے ہیں اور ان کی سٹریٹیجیز بھی الگ الگ ہیں اور کہیں پر بھی نہیں لگ رہا ہے کہ وہ اکھٹے ہیں اور اسی تقسیم کا فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے ہیں۔‘

محمود جان نے بتایا کہ دوسرا یہاں صوبے میں ڈومین(حدود) کے بھی مسائل ہیں جن میں بعض وفاقی حکومت کی ذمہ داریوں میں اور بعض صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں میں آتی ہیں۔

محمود جان نے بتایا کہ ’دہشت گردوں کے حملوں میں تیزی کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے لیے یہاں جگہ بنانا چاہتے ہیں جیسے پہلے قبائلی علاقے ہوا کرتے تھے اور چونکہ یہ علاقے حساس ہیں جو افغانستان سرحد کے قریب ہیں، تو یہی ہر کارروائیاں کی جاتی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہنگو چیک پوسٹ حملے کے بعد صوبائی مشیر داخلہ طارق سعید مروت نے ہنگو کے دورے کے موقع پر وفاقی حکومت کے ساتھ کوارڈینیشن کے سوال پر میڈیا کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی اپنی پالیسی ہے جس میں آگے سرحدات کی حفاظت کرتی ہے جبکہ یہاں صوبے میں ہماری پولیس دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب بھی ہماری پولیس کو سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے تو سکیورٹی فورسز حکومت پاکستان کے ملازمین ہونے کی وجہ سے ان کی ذمہ داری ہے کہ ہماری مدد کریں۔

طارق سعید مروت نے بتایا کہ ’پولیس اور دیگر فورسز کا ایک دوسرے کی مدد کرنا ایک دوسرے پر احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کیونکہ ہم سب حکومت کے ملازم اور عوام کے خدمت گار ہیں اور ملک کی مل کر حفاظت کرنی ہے۔‘

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے جمعرات کو صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورت حال پر پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ بند کمروں کے فیصلوں کی وجہ سے صوبے میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بند کمروں کے فیصلے ہمیں قبول نہیں اور نہ کسی فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مسائل کا حل مذاکرات ہے کیونکہ پچھلے 22 سال سے یہاں طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی ہے۔

شفیع جان نے بتایا کہ ’وفاقی و ریاستی اداروں، حکومتوں اور سٹیک ہولڈرز سے درخواست کرتا ہوں کہ سب مل کر اس دہشت گردی کے خلاف ایک نئی پالیسی اور نیا ایکشن پلان بنایا جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان