پشاور کے قریب ٹی ٹی پی کا حملہ، 6 ایف سی اہلکار جان سے گئے: سکیورٹی حکام

سکیورٹی حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور حسن خیل میں چیک پوسٹ پر حملے کے دوران آٹھ لوگوں کو اغوا کر کے لے گئے۔

سکیورٹی اہلکار 24 نومبر، 2025 کو پشاور میں بارڈر فورس ہیڈکوارٹر کے باہر خودکش حملے کی جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے سکیورٹی حکام نے منگل کو بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں نے پشاور کے مضافات میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر کے چھ ایف سی اہلکاروں کو قتل کر دیا جبکہ آٹھ کو اغوا کر لیا۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ پیر کو ٹی ٹی پی کے درجنوں ارکان نے پشاور کے مضافات میں ایک چیک پوسٹ پر آتشیں اسلحہ، دستی بموں اور مارٹر گولوں سے حملہ کیا۔
 
ایک اور سکیورٹی اہلکار نے کہا ’فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے چھ اہلکار اس حملے میں شہید جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے۔‘
 
انہوں نے مزید بتایا حملہ آور آٹھ ایف سی اہلکاروں کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔
 
خیبر پختونخوا پولیس نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ حملہ آوروں نے حسن خیل میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر قبضے کی ناکام کوشش کی اور سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں آٹح حملہ آور مارے گئے۔
 
بیان کے مطابق حملے کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے بھی موقعے پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کر دی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹی ٹی پی نے اپنے سوشل میڈیا چینل پر اغوا کیے گئے اہلکاروں کی تصویر جاری کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پاکستان اپنے مغربی سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی سے نبرد آزما ہے، جو افغانستان سے ملحق ہیں۔ 
 
اسلام آباد افغانستان پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے۔ تاہم کابل ان الزامات کی بارہا تردید کر چکا ہے۔
 
گذشتہ ماہ خیبر پختونخوا میں مختلف حملوں کے دوران عسکریت پسندوںنے 26 افراد کو مار دیا تھا۔
 
عسکریت پسندی سے متعلق الزامات کے باعث حالیہ مہینوں میں کابل اور اسلام آباد کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی ہے، جو سفارتی تناؤ سے بڑھ کر مہلک سرحد پار جھڑپوں تک جا پہنچی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان