بارشوں سے 108 اموات، دریاؤں میں پانی کا بہاؤ محفوظ حدود میں: پاکستان

این ڈی ایم اے کے مطابق جاری مون سون سلسلے کے پیش نظر موسمی نظام، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور خطرے سے دوچار علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

21 جولائی، 2026 کو پشاور میں بچے بارش میں جا رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان میں ایک اعلیٰ سطحی حکومتی اجلاس میں اتوار کو بتایا گیا کہ ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح ’محفوظ حدود‘ میں ہے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب رواں سال مون سون بارشوں کے باعث اموات کی تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں کے نتیجے میں کم از کم 108 افراد جان سے گئے جبکہ 344 زخمی ہو چکے ہیں۔

زیادہ تر اموات خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ہوئیں، جہاں شدید بارشوں کے باعث مکانات گرنے، آسمانی بجلی گرنے اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے واقعات پیش آئے۔

2025 کے مون سون سیزن کے دوران پاکستان کے بڑے دریاؤں، راوی، چناب، جہلم اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں پنجاب میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور حکومت کو صوبے کے اندر لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مون سون سیزن کے دوران قومی سطح پر تیاریوں اور مربوط ردعمل کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی ایمرجنسی رسپانس کمیٹی (ای آر سی) کا اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں ہوا۔

این ڈی ایم اے نے ایک بیان میں کہا ’کمیٹی کو بتایا گیا کہ دریائی سیلاب کی مجموعی صورتحال معمول کے مطابق ہے جبکہ بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اس وقت محفوظ حدود میں ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ’تاہم، جاری مون سون سلسلے کے پیش نظر موسمی نظام، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور خطرے سے دوچار علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ بروقت پیشگی انتباہات جاری کیے جا سکیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔‘

کمیٹی نے صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) اور دیگر حکومتی اداروں کے مون سون کے حوالے سے کیے گئے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔

این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق صوبائی نمائندوں نے امدادی سامان کی دستیابی، ہنگامی رابطہ کاری کے نظام، لوگوں کے انخلا کے منصوبوں، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کے حوالے سے بریفنگ دی تاکہ مون سون سیزن کے دوران بروقت اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موسمیاتی تبدیلی کے وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ دستیاب تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پیشگی انتباہات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح کے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا تاکہ بروقت فیصلے کیے جا سکیں اور وسائل کو فوری طور پر متحرک کیا جا سکے۔

این ڈی ایم اے کے ایک بیان کے مطابق ’انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ مون سون سیزن کے دوران مکمل تیاری برقرار رکھیں اور مسلسل رابطہ کاری جاری رکھیں۔‘

دوسری جانب پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے اتوار کو جاری کردہ اپنی تازہ موسمی پیش گوئی میں کہا 29 جولائی سے ملک کے بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

اس دوران بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں، اسلام آباد، بالائی پنجاب، کشمیر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں بارشیں متوقع ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان