پاکستان میں مون سون سے 78 اموات، لاہور میں سیلابی صورت حال

پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی صورت حال سے ہونے والی اموات کی تعداد 78 ہو گئی جبکہ پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور میں بارش سے کئی ہزار گھر زیر آب آگئے۔

22 جولائی 2026: لاہور میں موسلا دھار بارش کے بعد ایک سیلاب زدہ سڑک سے گزرتے ہوئے شہری(تصویر: عارف علی / اے ایف پی)

پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی صورت حال سے ہونے والی اموات کی تعداد 78 ہو گئی جبکہ پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور میں بارش سے کئی ہزار گھر زیر آب آگئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ رواں سال یہ بدترین بارش اور سیلابی صورت حال ہے، جبکہ حکام نے ملک بھر میں مون سون کے حوالے سے موسمی انتباہات جاری کر رکھے ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق گذشتہ ماہ کے آخر میں مون سون سیزن کے آغاز کے بعد سے بارشوں سے متعلق مختلف واقعات میں کم از کم 78 افراد جان سے جا چکے ہیں اور 197 زخمی ہو چکے ہیں۔

جمعرات کی صبح مون سون بارشوں نے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کو شدید متاثر کیا، جس کے باعث متعدد علاقوں میں گھروں، دکانوں اور بازاروں میں پانی داخل ہو گیا۔

صرف اپنے پہلے نام سے تعارف کرانے والے دکاندار راحیل نے اے ایف پی کو بتایا: ’جب بھی بارش ہوتی ہے، جیسا کہ آپ اپنے سامنے دیکھ سکتے ہیں، یہاں تقریباً چھ فٹ تک پانی جمع ہو جاتا ہے۔

’اس کے نتیجے میں کوئی گاہک ہماری دکانوں پر نہیں آتا، جس سے کاروبار متاثر ہوتا ہے اور نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ہم گھروں کو بھی نہیں جا پاتے اور گھنٹوں یہاں پھنسے رہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس وقت پوری مارکیٹ مؤثر طور پر بند ہو چکی ہے کیونکہ آج صبح ہونے والی بارش کے بعد ہر طرف پانی کھڑا ہے۔

’آپ وہ ٹرک دیکھ سکتے ہیں، جو سیلابی پانی میں پھنسنے کے بعد خراب ہو گیا ہے۔ پانی کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ سکا اور وہیں بند ہو کر رہ گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکام نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں کا دوسرا سلسلہ 24 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے، جس سے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے اور سیلاب کے خطرات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سیلابی پانی میں پھنسے شہریوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ برساتی پانی کو جلد از جلد نکالا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔

دودھ فروش محمد عمران نے کہا: ’ابھی ابھی بجلی بحال ہوئی ہے، لیکن یہ تمام دکانیں اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔‘

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ جمع شدہ پانی کو جلد از جلد نکالا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ سکیں۔ ہم انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور مخلصانہ طور پر مدد کی درخواست کرتے ہیں۔‘

نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہر مون سون میں ان کے گھر اور کاروباری مراکز پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔

محمد عمران نے کہا کہ ’حکومت کو چاہیے کہ بارش کے بعد پانی کی نکاسی کے لیے بروقت اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں ایسی صورت حال سے بچا جا سکے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات