پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں 2026 کا مون سون گذشتہ سال 2025 کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق رواں برس مون سون کی شدت میں 22 سے 26 فیصد تک اضافے کا امکان ہے، جس کو نظر میں رکھتے ہوئے متعلقہ اداروں نے ممکنہ بحران کے پیش نظر فوری طور پر تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔
پاکستان 2025 میں ایک خطرناک مون سون سیزن کا سامنا کر چکا ہے، جس کے دوران جون کے آخر میں شروع ہونے والی شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد جان سے گئے۔
اگست کے آخر میں صوبہ پنجاب میں آنے والے سیلاب سے مجموعی طور پر 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ ہوئیں۔
پاکستان میں 2025 کے مون سون سیزن کے دوران مجموعی طور پر 13 اسپیلز ریکارڈ کیے گئے، جو معمول سے ایک ہفتہ قبل شروع ہوا، جبکہ اس کا تیسرا اسپیل انتہائی شدید ثابت ہوا جس نے چکوال اور جہلم میں تباہی مچائی۔ اس کے بعد مون سون کا آٹھواں اسپیل آیا، جس کے باعث 28 اگست کے بعد صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
ڈائریکٹر جنرل پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں سال بھی مون سون کے شدید ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے گزشتہ برسوں کے تجربات اور سیکھے گئے اسباق کی روشنی میں متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں سب سے اہم، دریاؤں پر قائم حفاظتی بندوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
عرفان علی کاٹھیا کے مطابق گزشتہ سال جنوبی پنجاب میں ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا اور مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں بندوں کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کے باعث سیلاب سے شدید تباہی دیکھنے میں آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت حکومت پنجاب نے محکمہ آبپاشی کو اربوں روپے کے فنڈز فراہم کیے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 36 ارب روپے سے بڑے ترقیاتی اور حفاظتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کچھ طویل المدتی منصوبوں پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں سدھنائی ہیڈورکس اور قادرآباد ہیڈورکس کو دباؤ کم کرنے کے لیے بریچ کرنا پڑا تھا، تاہم اب وفاقی حکومت کے ساتھ ان ہیڈورکس کی گنجائش بڑھانے سے متعلق معاملات طے پا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ تین سے چار سالوں میں ان ہیڈورکس کی استعداد میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
عرفان علی کاٹھیا نے مزید کہا کہ موسمیاتی پیش گوئیوں کو دیکھتے ہوئے رواں سال سردیوں میں بارشیں معمول سے کم رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطہ اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔