غضب للحق: افغان طالبان کے 331 اہلکار مارے گئے، خیبرپختونخوا میں متعدد حملے ناکام

وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق آپریشن کے دوران پاکستان نے افغانستان میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔

27 فروری 2026 کو حالیہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں بلوچستان کے شہر چمن میں افغانستان کی سرحد پر ایک پاکستانی فوجی پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)

وزارت اطلاعات نے ہفتے کو بتایا ہے کہ افغانستان کے حالیہ حملوں کے ردعمل میں آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی فوج کی جوابی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان کے 331 اہلکار جان سے گئے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس نے پشاور اور بنوں ریجن کے تھانوں اور چوکیوں پر عسکریت پسندوں کے متعدد حملے ناکام بنا دیے گئے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں جمعرات کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ہفتے کی صبح ایک پوسٹ میں افغانستان کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کے حملوں میں افغان طالبان کے 331 اہلکار جان سے گئے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس آپریشن کے دوران اب تک افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں تباہ اور 22 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے جب کہ 163 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان نے افغانستان میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔‘

 

دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس نے جمعے کی شب بتایا کہ پشاور اور بنوں ریجن کے تھانوں اور چوکیوں پر عسکریت پسندوں کی طرف سے کیے جانے والے متعدد حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔ 

انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ خیبر اور متنی کے مختلف علاقوں میں جمعے کو ’فتنۃ الخوارج‘ کی جانب سے پولیس تنصیبات پر دستی بموں اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے حملے کیے گئے۔

’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتی ہے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

پولیس کے مطابق تھانہ منڈان کی حدود میں واقع پی پی کنگر پل پر شرپسندوں نے رات کے پہلے حصے میں مختلف سمتوں سے سنائپر رائفلز کے ذریعے حملہ کیا جب کہ تھانہ ڈومیل کی چوکی کاشو پل پر بھی حملہ کیا گیا، جس پر پولیس نے فوری جوابی کارروائی کی اور تقریباً 15 منٹ تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے کے بعد موثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں عسکریت پسند فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ 

خیبرپختونخوا پولیس کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تکیہ پولیس چیک پوسٹ پر رات کو نامعلوم شرپسندوں نے دستی بم پھینکا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور پولیس کی جوابی فائرنگ کے بعد حملہ آور پسپا ہو گئے۔

پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ماشو گگر روڈ کی جانب سے تھانے پر دستی بم پھینکا گیا، جس کے نتیجے میں روزنامچہ میں موجود ہیڈ کانسٹیبل فیصل زخمی ہوئے، جب کہ تھانہ متنی کی حدود میں پی پی سرا خاورہ پر بھی دستی بم حملے میں ایک شہری زخمی ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے فرنٹ لائن پر موجود پولیس جوانوں کے غیر متزلزل عزم اور بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبے کی پولیس کے شیر جوانوں نے جس جرات اور مستعدی سے ان بزدلانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دیا وہ قابلِ فخر ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری فورس کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔‘

دوسری جانب بنوں پولیس نے موجودہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر شہر بھر میں ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے ’شہریوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل‘ کی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہار اللہ کے مطابق پولیس نے عوام سے کہا ہے کہ کوئی بھی شخص موٹرسائیکل، چنگچی رکشہ یا کسی بھی قسم کی گاڑی پر سڑک پر نکلنے سے گریز کرے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ برس اکتوبر سے حالات کشیدہ ہیں، جس میں کمی کے لیے قطر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم تجارت اور آمدورفت کے کے لیے دونوں ملکوں کی تجارتی گزرگاہیں اس وقت سے بند ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی اموات کے ردعمل میں پاکستان نے 21 فروری کو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے منسلک شدت پسندوں کے سات مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جس کے جواب میں افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔

جمعرات کو افغانستان نے پاکستان میں حملے کیے، جس کے بعد سے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے آپریشن غضب للحق کے تحت سرحد پار اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان