’ٹرمپ کبھی نہیں سوتے‘: مارکو روبیو کا ویڈیوز دیکھ کر بھی انکار

کانگریس میں امریکی صدر پر سرکاری مصروفیات کے دوران سونے کے الزام پر وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’میں نے انہیں کبھی سوتے نہیں دیکھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیپیٹل ہل، واشنگٹن ڈی سی میں 3 جون 2026 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مالی سال 2027 کے بجٹ سے متعلق امریکی محکمۂ خارجہ کی درخواست پر ہونے والی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کی سماعت کے دوران ایک ویڈیو دیکھ رہے ہیں، جس میں وہ خود اور صدر ٹرمپ دکھائی دے رہے ہیں (روئٹرز)

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بار بار اس بات سے انکار کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اجلاسوں اور تقریبات کے دوران سو جاتے ہیں، حالاں کہ انہیں ایسی ویڈیوز دکھائی گئیں جن میں صدر ان کے بالکل ساتھ بیٹھے اونگھتے دکھائی دے رہے تھے۔

کانگریس میں ایک گواہی کے دوران کیلی فورنیا کے ڈیموکریٹ رکن ٹیڈ لیو نے ٹرمپ پر سرکاری مصروفیات کے دوران اونگھنے کا الزام لگایا تو مارکو روبیو نے کہا: ’میں نے انہیں کبھی سوتے نہیں دیکھا۔ اس کے برعکس، وہ آدمی سوتا ہی نہیں اور یہی بڑا مسئلہ ہے کیوں کہ وہ مجھے رات دو بجے فون کر دیتے ہیں۔‘

روبیو نے مزید کہا: ’وہ مجھے صبح پانچ بجے فون کرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں، مجھے بھی تھوڑی نیند چاہیے ہوتی ہے، شاید 12 گھنٹے نہیں، لیکن کم از کم چھ گھنٹے۔ تو وہ کام کرتے ہیں۔ چند روز پہلے وہ رات ساڑھے 12 بجے تک اوول آفس میں تھے۔ مجھے نہیں پتہ آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

اس کے بعد ڈیموکریٹ رکن ٹیڈ لیو نے روبیو پر کانگریس سے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا اور مئی میں کابینہ کے ایک اجلاس کی ویڈیو چلائی، جس میں ٹرمپ روبیو کے ساتھ بیٹھے کرسی پر ڈھلکے ہوئے اور سوئے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

لیو نے ویڈیو کے بارے میں کہا: ’آپ جنگ اور امن جیسے معاملات پر بات کر رہے ہیں، اور ڈونلڈ ٹرمپ آپ کے بالکل ساتھ سو رہے ہیں۔‘ اسی دوران روبیو نے ٹوکتے ہوئے کہا، ’نہیں، وہ نہیں سو رہے۔‘

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن نے معاملہ آگے بڑھاتے ہوئے ایک نیوز چینل کا کلپ چلایا، جس میں میموریل ڈے کی تقریب میں ٹرمپ کے بظاہر سونے پر آن لائن ردعمل کا ذکر تھا۔ لیو نے دعویٰ کیا کہ ایسے واقعات سے امریکہ کمزور دکھائی دیتا ہے اور کہا کہ ممکن ہے صدر نجی طور پر اس سے بھی زیادہ خراب حالت میں ہوں اور ان کی صحت گرتی جا رہی ہو۔

دی انڈپینڈنٹ نے اس بارے میں تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

روبیو نے اس بات کی تردید کی کہ صدر کبھی ’کسی بھی اجلاس‘ میں سوئے ہیں اور اس سوال پر سخت تنقید کی۔

انہوں نے کہا: ’میرے خیال میں یہ انتہائی نامناسب ہے کہ میں امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے موجود ہوں اور مجھ سے نیند کے بارے میں سوالات کیے جا رہے ہیں۔ یہ مذاق ہے۔‘

نیند سے متعلق یہ تکرار سماعت کا واحد تلخ لمحہ نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنی گواہی کے دوران روبیو نے انتظامیہ کی اس مہم کا اشارہ دیا جس کے تحت گرین لینڈ پر ممکنہ قبضے کی بات کی جاتی رہی ہے، اور کہا کہ وہ ’فی الحال‘ سرکاری طور پر ڈنمارک کا حصہ ہے۔

فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے رپبلکن رہنما نے کمیٹی میں ڈیموکریٹس کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سماعت ’سرکس‘ بن چکی ہے، کیوں کہ ان سے یہ سوالات بھی کیے گئے کہ 2020 کا الیکشن کس نے جیتا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں کون سے جوتے تحفے میں دیے تھے۔

صدر کے حالیہ طبی معائنے میں کہا گیا کہ وہ ’بہترین صحت‘ میں ہیں، حالاں کہ ٹرمپ کی ذہنی کارکردگی اور جسمانی مسائل کے بارے میں عوامی خدشات مسلسل موجود ہیں۔

ٹرمپ، جو 78 سال کی عمر میں صدارت سنبھالنے والے سب سے معمر شخص تھے، اکثر اپنے ہاتھوں پر نیل کے نشانوں کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، جس کی وجہ مسلسل سپرین کا استعمال بتائی جاتی ہے۔ ان کی ٹانگوں میں سوجن بھی رہتی ہے، جو مزمن وینس انسفیشنسی کی تشخیص کا نتیجہ ہے اور حال ہی میں ان کی جلد پر خارش بھی دیکھی گئی ہے۔

صدر جو بائیڈن کی صحت اور ذہنی فٹنس سے متعلق خدشات نے ڈیموکریٹس کی 2024 کی دوبارہ انتخابی مہم کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ