پاکستان کے دورے پر موجود ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پیر کو کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورت حال بھی اس دورے کے دوران زیرِ بحث آئے گی۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسکندر مومنی نے بتایا کہ اس دورے میں ان کے ہمراہ وزارت داخلہ، وزارت تیل، وزارت زراعت، وزارتِ شہری ترقی و ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود ہیں تا کہ دونوں ممالک کے درمیان ان شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’تقریباً ایک ماہ قبل ہمارے صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا اور ہمارا یہ دورہ اسی موقع پر ہونے والے فیصلوں اور معاہدوں پر پیش رفت کا تسلسل ہے۔‘
اس سے قبل ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پیر کی شب پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نور خان ایئربیس پر ان کا استقبال کیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایرانی وزیر داخلہ کو گلدستہ پیش کیا، استقبال کے موقع پر محسن نقوی نے کہا، ’پاکستان آمد پر اپنے بھائی کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ امید ہے ایرانی وزیر داخلہ اچھی خبر لے کر آئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اس دورے سے پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا اور علاقائی صورت حال پر بھی مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔
اسکندر مومنی نے محسن نقوی سے ملاقات کے دوران کہا، ’اپنے بھائی محسن نقوی سے دوبارہ ملاقات کر کے بہت خوشی ہوئی ہے۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات مثالی ہیں اور میں پاکستانی حکومت اور عوام کی مہمان نوازی کا ہمیشہ معترف رہا ہوں۔‘
ایرانی وزیر داخلہ کے ہمراہ آنے والے وفد میں سیستان و بلوچستان کے گورنر جنرل، ایران کے نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے شہری ترقی و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ، وزیر زراعت کے خصوصی نمائندے اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ کی وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، تجارت اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’حالیہ دنوں میں سفارتی نظام متحرک رہا ہے اور بعض ثالثوں کے ذریعے ہم تک تجاویز پہنچائی گئی ہیں۔‘
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے کئی ثالثوں کی جانب سے تجاویز موصول ہوئی ہیں اور ان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ سفارتی رابطے جاری ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ملک کی مسلح افواج کی جوابی کارروائی کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
وہ مذاکرات کی بحالی کے لیے قطر کی جانب سے نئی تجاویز پیش کیے جانے کی حالیہ خبروں سے متعلق سوال کا جواب دے رہے تھے۔ ان خبروں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کی ممکنہ تجویز بھی شامل ہے۔
سوال میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورہ قطر کا حوالہ دیا گیا، جہاں وہ قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر قطری حکام سے تعزیت کے لیے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس دورے میں انہوں نے اپنے قطری ہم منصب سے بھی ملاقات کی۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ ثالث کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فعال کوششیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج ’پوری طاقت اور عزم کے ساتھ‘ جواب دیتے ہوئے امریکی جارحیت کے مراکز کو نشانہ بنا رہی ہیں، جب کہ ملک کا سفارتی نظام بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر سرگرم ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسماعیل بقائی نے کہا: ’میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ سفارتی نظام مسلح افواج میں شامل وطن کے محافظوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔
‘ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی تجاویز ہم تک پہنچا دی گئی ہیں اور ہمیں موصول ہو چکی ہیں۔ تاہم میں اس مرحلے پر ان کی تفصیلات میں جانا مناسب نہیں سمجھتا۔‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران نے بھی پیر کو کہا ملک پر امریکی فوجی حملوں کے باوجود ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ سفارتی رابطے جاری ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ہمیں ثالثوں نے آگاہ کیا ہے، ہمیں پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ تفصیلات میں جائے بغیر۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں سفارتی نظام متحرک رہا ہے اور بعض ثالثوں کے ذریعے ہم تک تجاویز پہنچائی گئی ہیں۔‘
آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں دیگر ممالک بھی ذمہ داری ادا کریں: امریکی وزیر خارجہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، جبکہ ایران پر اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں پر حملوں کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
آسیان ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے فلپائن روانگی سے قبل پیر کو امریکہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ’امریکہ صرف ان ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جو عالمی تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔‘
مارکو روبیو نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے اور ایران اسی آبی گزرگاہ میں جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
’امریکہ نہ صرف جہازوں کے تحفظ میں مصروف ہے بلکہ ان مقامات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے میزائل اور ڈرون حملے کیے جاتے ہیں۔‘
روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو آزاد، محفوظ اور ہر قسم کی رکاوٹ یا حملے سے پاک رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ایران جہاز رانی سے متعلق کسی مفاہمتی انتظام کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس انتظام کا برقرار رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اب بھی سفارتی حل کے لیے تیار ہے۔ ’امریکہ ہمیشہ سفارتی حل کے حق میں ہے۔ ہم نے ایران کے ساتھ متعدد بار کوشش کی ہے اور اگر مذاکرات کا دروازہ دوبارہ کھلتا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔‘
مارکو روبیو نے ایران کے اندرونی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اندر بھی اختلافات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایرانی نظام کے اندر ایک بڑھتی ہوئی تقسیم موجود ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے عناصر ہیں جو سخت گیر مؤقف رکھتے ہیں اور میزائل حملے جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔‘
روبیو کے مطابق ایران کو سنگین معاشی اور داخلی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ان حالات میں سفارتی راستہ اب بھی بہترین حل ہو سکتا ہے۔