ایران ڈیل سے خلیجی ممالک کی سکیورٹی متاثر نہیں ہونے دیں گے: مارکو روبیو

مارکو روبیو خلیج کے دورے کے دوران خطے کے ممالک کے ایران معاہدے پر خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 24 جون 2026 کو کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بحرین روانگی سے قبل میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر رہے ہیں (ایرک لی / پول / اے ایف پی)

ایران ڈیل سے خلیجی ممالک کی سکیورٹی متاثر نہیں ہونے دیں گے: مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کویتی رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ معاملات کے حوالے سے خلیجی خطہ میں اپنے اتحادیوں کی سکیورٹی کو کمزور کرنے والا کوئی بھی قدم نہیں اٹھائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ان دنوں خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں۔

روئٹرز کے مطابق مارکو روبیو خلیج کے دورے کے دوران خطے کے ممالک کے ایران معاہدے پر خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے بدھ کو متحدہ عرب امارات کی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں مجوزہ امریکہ-ایران امن معاہدے پر خلیجی ممالک کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی گئی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، روبیو نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ ملاقات میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت، آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت اور خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یو اے ای کا دورہ مکمل کرنے کے بعد مارکو روبیو بدھ کو کویت پہنچے تھے۔


اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرے چاہے امریکہ مطالبہ ہی کیوں نہ کرے: اسرائیلی وزیر خارجہ

روئٹرز نے بدھ کو اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرے گا، چاہے امریکہ اس کا مطالبہ ہی کیوں نہ کرے۔

قبل ازیں باکو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بدھ کو باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ہمارے لیے لبنان میں سیزفائر ایران میں سیزفائر جتنا ہی  اہم رہا ہے اور ہے، اور لبنان میں جنگ ختم ہونا بھی ایران میں جنگ کے خاتمے جتنا ہی اہم رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمت بھی دباؤ اور جبر کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ بہادر ایرانی قوم کی مزاحمت اور طاقت کا ثمر تھی۔ اس مفاہمت نے ثابت کیا کہ مذاکرات صرف اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب دوسرا فریق ایک مہذب قوم پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش ترک کر دے اور ہمارے حقوق کو تسلیم کرے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکہ کی شکست کے اعلان میں تبدیل ہو گئی۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ ہرمز پر کوئی ٹول وصول نہیں کر رہا، یہ بات غلط ہوئی تو مذاکرات فوری ختم ہوں گے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس، انشورنس لاگت یا کوئی دوسری فیس عائد نہیں کی جا رہی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس کے برعکس ایران نے واضح کیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے نہ کوئی ٹول لیا جا رہا ہے، نہ انشورنس لاگت وصول کی جا رہی ہے اور نہ ہی کسی اور قسم کی فیس طلب یا وصول کی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو ایران کے ساتھ جاری مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کو کوئی رقم فراہم نہیں کی اور نہ ہی ایرانی فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول ایران کے بعض ایسے فنڈز، جو مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہیں، امریکی کسانوں اور مویشی پال حضرات سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر زرعی اجناس خریدنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو خوراک کی شدید ضرورت ہے اور یہ خریداری خصوصی طور پر امریکہ سے کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کی جوہری تنصیبات تک رسائی حتمی معاہدے اور پابندیوں کے بعد ہی ممکن: ایران

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بدھ کو ایکس پر کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں رافائل گروسی (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل) کی درخواست کے باوجود ان کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حملوں کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات یا جوہری مواد تک رسائی دینے کا بھی کوئی پروگرام موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام معاملات صرف ’حتمی معاہدے کے فریم ورک میں اور مخالف فریق کی جانب سے تمام پابندیوں کے خاتمے سمیت عملی اقدامات کے بعد زیرِ غور آئیں گے اور ان پر فیصلہ کیا جائے گا۔‘

کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ ’آپ میڈیا میں شور شرابا کر کے اپنی پالیسی کو حقیقت کا روپ نہیں دے سکتے۔‘ انہوں نے زور دیا کہ ’پہلے ماحول بناؤ اور پھر اسے منوا لو‘ کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو گی۔

ایران میں جلد جوہری تنصیبات کا معائنہ کیا جائے گا: آئی اے ای اے

کاظم غریب آبادی کے بیان سے قبل بدھ کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد ایران میں جوہری تنصیبات کا معائنہ جلد کیا جائے گا، تاہم اس کے طریقۂ کار، تاریخوں اور مقامات کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔

جاپان کے صوبے فوکوشیما میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رافائل گروسی نے کہا کہ معائنے ضرور ہوں گے اور اس حوالے سے تاریخوں، طریقہ کار اور دیگر انتظامات پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل ایرانی حکومت کے تعاون اور اشتراک سے انجام دیا جائے گا اور انہیں یقین ہے کہ دونوں فریق اس سلسلے میں اتفاق رائے تک پہنچ جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گروسی نے کہا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا چاہتا ہے تو معائنے ناگزیر ہیں۔ ان کے بقول ’یہ عمل ہو کر رہے گا۔ اگر وہ معاہدے کی پاسداری کرنا چاہتے ہیں تو معائنوں کا انعقاد ضروری ہے، بصورت دیگر یہ الگ معاملہ ہو گا۔‘

آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی آٹھویں شق میں واضح طور پر درج ہے کہ جوہری مواد اور تنصیبات سے متعلق تمام سرگرمیاں آئی اے ای اے کی نگرانی میں انجام دی جائیں گی۔

گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے جس میں جنگ کے خاتمے کے لیے اصولی اتفاق رائے شامل ہے۔ اس عبوری معاہدے کے تحت آئندہ 60 دنوں میں مذاکرات کیے جائیں گے جن میں ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات پر تفصیلی بات چیت ہو گی۔

آئی اے ای اے کو گذشتہ سال جون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران کے حساس جوہری مراکز تک رسائی حاصل نہیں رہی۔ اگرچہ ادارے نے بعض دیگر مقامات کا معائنہ کیا تھا، تاہم 28 فروری کو حملوں کے ایک نئے سلسلے کے آغاز کے بعد معائنے معطل کر دیے گئے تھے۔

آئی اے ای اے کے مطابق ایران نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ حملوں کے بعد اس کے افزودہ یورینیم کا کتنا ذخیرہ محفوظ رہا اور اسے کہاں منتقل کیا گیا۔ ادارے کے اندازے کے مطابق اسرائیلی حملوں سے قبل ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ 440.9 کلوگرام یورینیم موجود تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا