برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنم کی اہلیہ کو شہرت کیوں پسند نہیں؟

زندگی کی کڑی آزمائشوں سے گزر کر ڈاؤننگ سٹریٹ تک پہنچنے والی میری فرانس وان ہیل کی غیر معمولی کہانی۔

نئے برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنم اور ان کی اہلیہ میری فرانس وان ہیل 20 جولائی، 2026 کو لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی سیڑھیوں پر تصاویر بنوا رہے ہیں (اے ایف پی)

گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنم کے مطابق جب انہوں نے اپنی اہلیہ میری فرانس وان ہیل کو ویسٹ منسٹر واپس جانے کے منصوبے کے بارے میں بتایا تو ان کا جواب ’غالبا صرف دو لفظوں پر مشتمل تھا۔‘

برنم نے مزید کہا کہ وہ ’شاید آدھا مذاق کر رہی تھیں‘ لیکن آپ اپنے تخیل سے خالی جگہیں پر کرکے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ دو الفاظ کیا تھے۔ اور اگر ’شمال کے بادشاہ‘ کی اس بدلتی سمت پر وہ ذرا سی جھنجھلا گئی تھیں تو انہیں کون قصوروار ٹھہرا سکتا ہے؟

56 سالہ وان ہیل، جو عام طور پر فرینکی کہلاتی ہیں، کی برنم سے اس وقت ملاقات ہوئی تھی جب دونوں کیمبرج میں طالب علم تھے۔ انہوں نے اپنے شوہر کو نیو لیبر کے رکن پارلیمان سے وزیر صحت، پھر دو بار پارٹی قیادت کا انتخاب ہارنے والے امیدوار، اس کے بعد مانچسٹر کے مقبول میئر اور اب وزیر اعظم بنتے دیکھا۔

جب برنم نے بتایا کہ وہ تیسری بار وزارت عظمیٰ کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں تو انہوں نے اپنے مخصوص بے باک انداز میں جواب دیا۔ برنم نے حال ہی میں ’ہاؤ ٹو فیل‘ پوڈکاسٹ میں بتایا کہ ’انہوں نے کہا، کیا؟ پھر سے؟ وہ آپ کو دو بار بتا چکے ہیں کہ وہ آپ کو نہیں چاہتے۔ آپ دوبارہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘

برنم نے مزید کہا کہ اپنی اہلیہ کو راضی کرنے کے لیے انہیں ’کچھ کوشش‘ کرنا پڑی۔ ’میرا خیال ہے کہ وہ مجھے دوبارہ اس سارے عمل سے گزرتے اور آخر میں پھر ناکام ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی اہلیہ ہمیشہ ان کی سب سے بے باک ناقد رہی ہیں۔

اپنے شوہر کے سیاسی سفر کے باوجود وین ہیل نے کبھی روایتی ’سیاست دان کی بیوی‘ بننے یا خود لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔

وہ 90 کی دہائی کے نیویارک کی کیرولین بیسیٹ کینیڈی جیسی ہیں، بے ساختہ پرکشش، سخت خود مختار اور اس بات کے لیے پرعزم کہ ان کی پہچان صرف ان کے ساتھ کھڑے مشہور شخص سے نہ ہو۔

لیکن اب برنم کے پاس ڈاؤننگ سٹریٹ کی چابیاں ہیں اور وہ 10 سال میں برطانیہ کے ساتویں وزیر اعظم بن چکے ہیں، اس لیے شاید وان ہیل کے لیے لوگوں کی توجہ سے بچنا زیادہ مشکل ہو جائے۔

تقریباً ایک دہائی پہلے ’اینڈی فار لیڈر‘ نامی یوٹیوب چینل پر جاری کی گئی انتخابی مہم کی ایک ویڈیو کے سوا ان کے انٹرویوز بہت کم ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ اپنے تعلق کے ابتدائی دنوں میں برنم کے طلبہ جیسے حلیے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’لمبے بال، اچھی شکل اور جڑی ہوئی بھنویں۔‘

سیاسی حلقوں کے لوگوں سے ان کا ذکر کریں تو عام رائے یہی ملتی ہے کہ وہ ’واقعی بہت اچھی ہیں‘ لیکن اس سے زیادہ معلومات حاصل کرنا خاصا مشکل ہے۔

انتہائی نجی زندگی گزارنے والی اس خاتون کے بارے میں دستیاب یہ چند باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ بے لاگ اور صاف گو ہیں۔ تاہم زندگی کے ایک سانحے نے ان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔ 

ان کی بہن صرف 39 سال کی عمر میں چھاتی کے سرطان کے باعث جان سے گئی تھیں۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد ان کی والدہ اور دوسری بہن کا بھی اسی مرض کا علاج ہوا، جب کہ وین ہیل کو دونوں چھاتیاں نکلوانے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔

ایسے دکھ کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ تصویری تقریبات، خوش گوار انٹرویوز اور سیاسی افواہیں انہیں انتہائی غیر اہم کیوں لگتی ہوں گی؟

اگرچہ ان کے شوہر اپنے اور کیئر سٹارمر کے درمیان کسی بھی موازنے سے بچنا چاہیں گے، لیکن باخبر افراد کے مطابق وان ہیل سبک دوش ہونے والے وزیر اعظم کی اہلیہ وکٹوریہ جیسی ہیں۔ ان کا اپنا پیشہ ہے اور وہ ’پس منظر میں رہنا پسند کرتی ہیں۔‘

وہ اہم مواقع پر ضرور شریک ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر حالیہ میکرفیلڈ ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی گنتی کے وقت وہ جوڑے کی منجھلی اولاد، 24 سالہ روزی، کے ساتھ موجود تھیں۔ 

تاہم ان کی ’اپنی الگ زندگی‘ ہے۔ وہ سبز توانائی کے شعبے میں مارکیٹنگ کا کام کرتی ہیں اور برنہم کی سیاسی خواہشات سے الگ اپنی شناخت رکھتی ہیں۔ برنہم نے ایک بار مذاق میں کہا تھا کہ وہ ’میرے روزمرہ کے کام میں بالکل کوئی دلچسپی نہیں لیتیں۔‘

ایک سیاست دان کے طور پر برنم نے اپنی شخصیت ایسی بنائی ہے جو عام لوگوں کے مسائل کو سمجھتی ہے۔ شاید ایسی شریک حیات نے انہیں حقیقت سے جڑے رہنے میں مدد دی ہے جو اقتدار کی شان و شوکت سے بالکل متاثر نہیں ہوتیں اور جنہوں نے صرف ویسٹ منسٹر کی سیاسی لڑائیاں نہیں بلکہ زندگی کی حقیقی جنگیں بھی لڑی ہیں۔ یوں برنم کے ایڈیڈاس گیزیل جوتوں میں ملبوس قدم مضبوطی سے زمین پر قائم رہے ہیں۔

وان ہیل ہالینڈ میں پیدا ہوئیں اور ان کی پرورش بیلجیم میں ہوئی۔ اس کے بعد وہ کیمبرج کے فٹز ولیم کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ چلی گئیں۔ پہلے ہی دن ان کی ملاقات برنم سے ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ برنہم نے فوراً انہیں رکن پارلیمان بننے کی اپنی خواہش کے بارے میں بتا دیا تھا۔

ظاہر ہے اس بات نے وان ہیل کو ان سے دور نہیں کیا۔ وہ اس بات سے بھی بددل نہیں ہوئیں کہ برنم نے انہیں خبردار کر دیا تھا کہ وہ شمالی انگلینڈ کے کسی انتخابی حلقے میں واپس جانا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر آپ لندن میں رہنا چاہتی ہیں تو میرے ساتھ نہ رہیں، کیوں کہ میں یہاں نہیں رہوں گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وان ہیل نے برنم سے پوچھا کہ اگر وہ اس پروگرام میں شرکت کی کوشش کریں تو کیا انہیں اعتراض ہوگا؟ برنم نے ان کی حوصلہ افزائی کی، لیکن بعد میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ’جب وہ پروگرام میں پہنچ گئیں تو مجھے اپنے فیصلے پر کچھ پچھتاوا ہوا۔‘

پرائیویسی کو اتنی اہمیت دینے والی خاتون کا ٹی وی کے ڈیٹنگ پروگرام میں شرکت کرنا بظاہر عجیب فیصلہ لگ سکتا ہے۔ لیکن وین ہیل نے بعد میں اپنے ایک سابق ادارے کے لیے آن لائن سوال و جواب کے دوران بتایا کہ اس زمانے میں وہ بچوں کے ٹی وی پروگراموں کی میزبان بننا چاہتی تھیں۔

 ان کا خیال تھا کہ ’ڈیٹنگ پروگرام میں نظر آنے سے مجھے شہرت مل سکتی ہے اور میرے پیشہ ورانہ سفر میں مدد مل سکتی ہے۔‘

جب وہ آئی ٹی وی کے پروگرام میں نظر آئیں تو برنم نے ’صوفے کے پیچھے چھپ کر، انگلیوں کے درمیان سے‘ یہ قسط دیکھی۔ خوش قسمتی سے وان ہیل بھی پروگرام میں اپنے ساتھی سے زیادہ متاثر نہیں ہوئیں۔ دراصل ان دونوں کے سیاسی خیالات بھی ایک دوسرے سے مختلف رہے ہوں گے۔

تین ممکنہ ساتھیوں میں سے وان ہیل نے ’سرے کے وِل‘ کو منتخب کیا۔ وہ سنہرے گھنے بالوں والے نوجوان تھے، جنہیں بچوں کے ٹی وی کردار کی طرح ڈنگری پہننے کا شوق تھا۔ پروگرام کی میزبان سلا بلیک نے وسن ہیل سے کہا کہ ’مجھے اینڈی پینڈی پسند تھا، اور اب آپ کے سامنے ایک جیتا جاگتا اینڈی پینڈی موجود ہے۔‘ یہ ایسا جملہ تھا جو شاید کسی امید افزا تعلق کو بھی وہیں ختم کر دیتا۔

ملاقات کے بعد وِل نے وان ہیل کو ’جذبات سے عاری خاتون‘ کہا تو انہوں نے ان پر تکیہ پھینک دیا۔ یوں دونوں کے درمیان محبت جیسی کوئی بات نہیں تھی۔

بعد میں ’سرے کے وِل‘ کنزرویٹو پارٹی کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر بن گئے۔ پھر ایک موقعے پر برنم اور ان کی اہلیہ کا ان سے دارالعوام کے ایک بار میں سامنا ہوا۔ برنم نے ڈیلی میل کو بتایا کہ ’لیبر پارٹی کے بہت سے ارکان پارلیمان نے اس پر میرا خوب مذاق اڑایا۔‘

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وان ہیل نے مارکیٹنگ اور برینڈنگ کے شعبے میں کام شروع کیا۔ انہوں نے بی سکائی بی اور ایم ٹی وی جیسے بڑے اداروں کے ساتھ کام کیا۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی پیشہ ورانہ نظر نے برنم کی عوامی شخصیت بنانے میں بھی مدد دی ہے؟

انہوں نے 2008 میں اپنی کمپنی ’ایم وی ایچ مارکیٹنگ‘ قائم کی اور تین سال تک اسے چلایا۔ بعد میں لیبر پارٹی کی قیادت کی ایک انتخابی مہم کے دوران برنہم نے فخر سے بطور کاروباری مالک ان کے تجربے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے میں اپنی اہلیہ کے کام کے تجربے سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔

آج کل وان ہیل برقی گاڑیوں کے چارجنگ نیٹ ورک ’بی ڈاٹ ای وی‘ کے لیے کام کرتی ہیں، تاہم انہوں نے حال ہی میں اپنا لنکڈاِن اکاؤنٹ بند کر دیا۔ اب وہ ٹوئٹر(سابقہ ایکس) پر بھی موجود نہیں ہیں، جہاں کبھی وہ کھلے عام کنزرویٹو پارٹی کے خلاف آواز اٹھاتی تھیں۔

جوڑے کے سب سے بڑے بیٹے جمی کی پیدائش 2000 میں ہوئی۔ برنم نے اعتراف کیا کہ وان ہیل کا پہلی بار حاملہ ہونا ان کے لیے ’بالکل غیر متوقع' تھا۔ ان کے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا، ’اوہ خدایا، اب ہمیں شادی کرنا پڑے گی۔‘ اس کے کچھ ہی عرصے بعد دونوں نے شادی کر لی۔

بعد میں ان کے ہاں مزید دو بچے، روزی اور 21 سالہ اینی، پیدا ہوئے۔ گذشتہ ہفتے انہوں نے اینی کو کارڈف سے اپنی تعلیم مکمل کرتے دیکھا۔ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی بلی لیری کے لیے بری خبر یہ ہے کہ جوڑے کے پاس ایک پناہ گاہ سے لیا گیا ایک بِشون فریز نسل کا کتا بھی ہے، جس کا نام ایکسل ہے۔

میری فرانس کی بہن کا چھاتی کے سرطان سے مقابلہ، اور اپنے پیچھے آٹھ سال سے کم عمر کے چار بچوں کو چھوڑ جانا، ان کی ازدواجی زندگی کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد ایک اور دل توڑ دینے والی خبر سامنے آئی جب ان کی والدہ بیا میں بھی اسی مرض کی تشخیص ہوئی۔ برنم نے بعد میں ڈیلی مرر کو بتایا کہ کلیئر کی دیکھ بھال کے دوران ان کی والدہ ’اپنے میڈیکل چیک اپ کی تاریخوں پر نہیں جا سکی تھیں۔‘

وان ہیل کی دوسری بہن لوئیز میں بھی اس مرض کی تشخیص ہوئی۔ اس کے بعد وین ہیل کا بی آر سی اے ون جین کا ٹیسٹ کیا گیا، جس سے تصدیق ہوئی کہ ان میں ایسی جینیاتی تبدیلی موجود ہے جو اس مرض میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھا سکتی ہے۔

اس کے بعد انہوں نے 2010 میں دونوں چھاتیاں نکلوانے کا فیصلہ کیا۔ برنم نے بعد میں کہا کہ یہ فیصلہ ’مایوس کن ہونے کی بجائے خوف سے نجات دلانے والا تھا، کیوں کہ اس سے ڈر کے بادل چھٹ گئے تھے۔‘ 

انہوں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیوں کہ وہ دیکھ چکی تھیں کہ چھاتی کے سرطان نے ان کی بہنوں اور والدہ کی زندگیوں میں کتنی تباہی مچائی تھی۔ 

’ہم زیادہ تر لوگوں سے بہتر جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا تھا، اس لیے ہمیں اس خوف سے آگے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنا تھا۔‘

اخبار ایوننگ سٹینڈرڈ کے مطابق جوڑے کے دوستوں کا کہنا تھا کہ ان کا یہ فیصلہ ’اور بھی جذباتی اہمیت‘ رکھتا تھا، کیوں کہ وہ اپنی دو کم عمر بیٹیوں کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔

اتنے بڑے نقصان اور مشکل فیصلوں کا سامنا کرنے کے بعد یہ حیرت کی بات نہیں کہ وان ہیل کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے حقیقت میں کیا اہم ہے اور کیا محض سیاسی بیان بازی ہے۔

اب برنم وزیر اعظم بن چکے ہیں، اس لیے شاید انہیں وان ہیل سے کیا ہوا اپنا پرانا وعدہ توڑنا پڑے۔ وان ہیل 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں کتنا وقت گزاریں گی؟ یہ ابھی واضح نہیں، لیکن یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ کبھی اسے اپنا گھر کہیں گی یا کسی سیاست دان کی روایتی شریک حیات کا کردار اپنائیں گی۔ باخبر افراد کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ وِک سٹارمر کا انداز اپنائیں گی۔

وہ شاید ہمیشہ لوگوں کو دکھائی نہ دیں، لیکن جب واقعی ضرورت ہوگی تو وہ یقینا اپنے شوہر کے ساتھ اور ان کی حمایت میں کھڑی ہوں گی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین